Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مجمع البحرین

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عطاءالرحمان
عہد حاضر کے بلند مرتبہ مفسرِ اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1974 ء میں اپنی معرکتہ الآراء اور جدید دور کے اذہان کو قرآن کی طرف متوجہ کرنے والی تفسیر تفہیم القرآن مکمل کی تو اس کی خوشی میں لاہور کے اس زمانے میں پارک لگڑری ہوٹل میں مولانا کے اعزاز تفہیم کے اختتام کی خوشی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وقت کے چوٹی کے دانشوروں، وکلائ اور اہل علم حضرات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم اے کے بروہی نے کہا کہ مولانا نے صرف کاغذ، قلم دوات کی مدد سے دماغوں اور افکار کو بدل دینے والا لٹریچر نہیں پیدا کیا۔ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے انسانی شکل میں چلتی پھرتی کتابیں بھی وجود میں لائے ہیں جو ان کی قرطاس و قلم والی کتابوں کی مانند اپنے کردار اور جذبہ استقامت کے لحاظ سے اعلیٰ اسلامی افکار کے آئینہ دار ہیں۔یہ جماعت اسلامی کے اصولوں پر ڈٹے رہنے والے صاحبان باکردار کارکن اور دانشور ہیں۔ جماعت کے یکے از قائدین اور ممتاز مقرر مولانا گلزار احمد مظاہری اس لحاظ سے ممتاز تھے کہ وہ محض مولانا کے لکھی ہوئی کتاب کا درجہ نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی شخصیت پہلے سے تیار شدہ ایک مخصوص دینی مزاج کی تحریر تھی لیکن مولانا نے ان کے حوالے سے کمال یہ کیا کہ اسلامی جذبات سے مملو اور خطیبانہ جوہر سے آشنا اس کتاب کو نفسِ مضمون سے لے کر ابواب کی تسوید و ترتیب تک بدل کر رکھ دیا۔اس کی سطور میں جو خطیبانہ جذبہ موجزن تھا وہ اگرچہ رہنے دیا گیا کیونکہ اس کا سرچشمہ بھی وقت کی ایک بہت بڑی اسلامی تحریک سے پھوٹتا تھا تاہم مولانا مظاہری جب مودودی صاحب کے گلشن میں داخل ہوئے تو اس کے پھولوں کی خوشبو ان کے دما غ اور کردار میں رچ بس گئی۔اس کے ساتھ دل میں تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور دلوں کے اندر انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے والے جذبات پیدا کرنے کی شہرت رکھنے والے خطیب اعظم مولانا سید عطا ئ اللہ شاہ بخاری کا لگایا ہوا شجر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہا۔یوں سرگودھا کی ایک تاجر برادری سے تعلق رکھنے والا اسلام کا یہ دلدادہ عملی اور متحرک مسلمان مولانا مودودی کے افکار عالیہ اور شاہ جی (سید عطائ اللہ شاہ بخاری) کے خطیبانہ ولولے کا ایسا امتزاج بن کر سامنے آیا کہ کم لوگوں کو اسلامی افکار کی دنیا اور دلوں کے جذبات کی گونج پیدا کرنے والے ایسے وصف نصیب ہوئے ہیں۔مرحوم قرآن مجید کے الفاظ میں مَرَج± البحرین تھے۔ میں نے جب مولانا مظاہری کو جماعت کے ایک اجتماع میں پہلی مرتبہ تقریر کرتے ہوئے سنا تو ان کی آواز میں ایسی لپک تھی جو سیدھی دل کو جا ٹکرائی۔یہ قدرے تعجب ہوا کہ جماعت کے اندر پیدا کردہ اسلامی ذہنی کلچر تو مفکر اسلام مولانا مودودی کی مثال کی اتباع کرتے ہوئے پہلے تحریری لٹریچر پیدا کرتا ہے جو سیدھا دماغوں کو اپیل کرتا ہے۔دلوں میں اخلاص کے دیے روشن کرتا ہے۔ مودودی صاحب نے جو افکار کی دنیا بسائی تھی اس کی جدیداذہان کے ملحدانہ رجحانات کو اسلام کے چشمہ صافی کی جانب راغب کرنے والی تحریریں وجود میں لاتا ہے۔
جماعت کی تربیت گاہوں میں پروان چڑھنے والا مقرر اسی سے اپنی تقریروں کا مواد اکٹھا کرتا ہے۔ وہ روایتی خطیب کم اور کسی کالج یا یونیورسٹی کا پروفیسر زیادہ معلوم ہوتا ہے۔یوں جماعتی دنیا کے اندر تحریر کو تقریر پر فوقیت حاصل رہی، مگر یہ کیسا مقرر ہے جس کا شمار تو جماعت کے رہنمآں میں ہوتا ہے مگر دماغ کے ساتھ دلوں کے اندر امڈنے والے جذبات کو بھی برابر کی انگیخت دیتا ہے۔میں شاہ جی کی پیداکردہ مجلس احرار کے مزاج سے ناواقف نہیں تھا۔ کافی ہآس لاہور میں حضرت عطائ اللہ شاہ بخاری کے ایک شاہکار آغا شورش کشمیری سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ان کے ہفت روزہ چٹان کو بالاستعیاب پڑھتا تھا۔ چودھری فضل حق کی کتاب زندگی بھی پڑھ رکھی تھی۔ یہ خوبصورت تحریر اپنے مصنف کی مانند تھانیدارانہ مزاج رکھتی ہے۔مولانا مودودی مگر سنجیدہ اور فکری دنیا کے اقلیم کے فاتحین میں سے تھے۔ ان کی کتابوں میں جذبات کی جھلکیاں مگر یہ روشن چاند کے آگے چھوٹے چھوٹے چمکتے ستاروں کی مانند ہیں لیکن سطر سطر پر فکر حاوی ہوتی تھی۔قرآنی آیات اور سنتِ رسول اللہﷺکی روشنی میں دورِ جدید کی زبان کے اندر عقل کو براہ راست اپیل کرتے تھے۔ اس ماحول کے اندر احراری مزاج کچھ اکھڑا اکھڑا لگتا تھا لیکن مولانا گلزار احمد صاحب کا کمال یہ تھا کہ وہ احرار کی کھیتیوں میں پیدا ہونے والی مہک کو اپنے سانسوں میں سمو کر جماعت اسلامی کے گلزار میں داخل ہوئے تو یہاں کے پھولوں کی لپٹ میں ماضی کو بھلایا نہیںاور نئی اسلامی فکر کے ساتھ ایسا انجزاب پیدا کیا کہ دونوں کا مرقع بن گئے۔مولانا گلزار احمد مظاہری نے بقیہ ساری عمر مولانا مودودی کی قیادت میں جدوجہد کرتے ہوئے اسلامی نظام کے قیام کی خاطر اپنی صلاحیتیں نچوڑ کر رکھ دیں۔ منفرد لہجے کے مقرر تھے۔ سید مودودی کے مشیروں کی صف میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ اپنے احراری ماضی چھپاتے نہیں بلکہ اس پر فخر کرتے تھے۔یوں جماعتی حلقوں کے اندر انہوں نے اپنی ہی ایک دنیا بسا لی۔ جماعت کے لوگ بھی ان اوصاف حمیدہ کی وجہ سے مرحوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، ان کا مقام پہچانتے تھے۔ ان کے دینی مزاج سے متاثر بھی ہوتے تھے۔چنانچہ جہاں پروفیسر خورشید احمد کا جدید علوم سے آگہی رکھنے والا مولانا مودودی کا عطا کردہ دماغی شعور اپنے دھیمے لہجے اور یونیورسٹیوں کے طلبائ کو اسلامی علوم کی جانب راغب کرنے والا پروفیسرانہ خطاب مولانا مودودی کی تائید اور حوصلہ افزائی کے ساتھ جماعت کے نوجوان حلقوں میں چھایا ہوا تھا۔نعیم صدیقی مرحوم و مغفور کی ادیبانہ تحریروں، دلپذیر شاعری اور محسن انسانیت جیسے سیرت النبی کی شعوری جھلکیاں قرطاس و قلم پر ثبت کرنے والے انداز اپنا بانک پن دکھاتا تھا۔میاں طفیل محمد کی ذات اپنے قابل تقلید کردار کی وجہ سے جلوہ گر رہتی تھی وہیں مولانا گلزار احمد مظاہری ہمارے روایتی دینی کلچر کی تخم ریزی سے پیدا ہونے والے مذہبی لوگوں کو احرار پس منظر کی وجہ سے مولانا کی دعوت کی جانب رغبت دلاتے تھے۔یوں مولانا مودودی نے اسلامی شعور اور جذبات کے پھولوں پر مشتمل جو گلدستہ ترتیب دیا اسے دور سے دیکھ کر ہی مظاہری صاحب کی شخصیت پہچانی جاتی تھی۔
انہوں نے مولانا کے مشورے کے تحت اتحاد العلمائ کے نام سے قدیم وضع کے علمائے دین کی ایک تنظیم بھی قائم کی ہے جو جماعت اسلامی کا علمائ ونگ سمجھی جاتی تھی اور اس کے ذریعے درس نظامی کے فارغ علمائ کے حلقوں میں مولانا اور جماعت کے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کی۔اب جو انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے 30، 35 سال گزر گئے ہیں تو مظاہری صاحب کے لائق بیٹے ممتاز کالم نگار اور باپ کی مانند دلآویز شخصیت کے مالک ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے ایک خوبصورت کتاب اور پڑھنے کے قابل تحریر کی شکل میں باپ کی زندگی کا مرقع پیش کیا ہے۔
مولانا مظاہری مرحوم کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اپنے پیچھے لائق بیٹوں کی شکل میں علمی و سیاسی ورثہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے عرب لیگ پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ زندگی کا ایک عرصہ سعودی عرب میں گزارا ہے۔ اب پاکستان میں آ کر کالم نگاری کا شغل اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دانشور حلقوں کے اندر بھرپور پہچان رکھتے ہیں۔ان کے دوسرے بیٹے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ملک کے سیاسی اور اخباری حلقوں کے لئے اجنبی نہیں ہیں۔ اس وقت ان کا شمار جماعت کے چوٹی کے لیڈروں میں ہوتا ہے۔ غالباً دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ باپ اور بڑے بھائی کی طرح وہ بھی ایک دلآویز شخصیت اور اپنی پہچان رکھتے ہیں۔یوں مولانا مظاہری نے اپنے پیچھے جو ورثہ چھوڑا ہے بہت کم بڑے لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے کیونکہ اکثر کی اولادیں ایسی راہوں پر چل نکلتی ہیں کہ لوگ ان کے بزرگوں کو یاد کرتے ہوئے بیٹوں کے اشغال سے عبرت پکڑتے ہیں لیکن مظاہری صاحب نے اس صدقہ جاریہ کی صورت میں بھی اپنی انفرادیت کو قائم رکھا۔
ابھی ابھی ہمدمِ دیرینہ اور جوانی کے دنوں کے بہترین ساتھی، دانشور اور روایت پسندی کے امتزاج دوست سجاد احمد نیازی کی نمازِ جنازہ سے فارغ ہو کر آیا ہوں۔سجاد احمد نیازی کی شخصیت میں بے پناہ امکانات پائے جاتے تھے۔ مطالعہ وسیع تھا، دینی اور ادبی لٹریچر پر عبور رکھتے تھے۔ نظر گہری، اپنے کاٹ دار فقروں کی وجہ سے شخصیت کا نکھار دکھاتے تھے۔ جوانی اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت گاہوں میں گزاری۔
کام کرنے کا وقت آیا تو کینیڈا اور دبئی چلے گئے۔ خاموشی سے رزقِ حلال کماتے رہے۔ زندگی کے آخری بیس سال مرحوم و مغفور سید منور حسن کی دعوت پر منصورہ میں مختلف خدمات انجام دیتے ہوئے گزار دیئے ”نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا “ اس یارِ باوفا کے ساتھ گزری ہوئی محفلیں اور اس کی باتیں تادیر اس کی شخصیت کا اثر حلقہ یاراں پر قائم رکھے گی۔اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.