Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ہما را تہذ یبی انحطا ط : ڈا کٹر ابراہیم مغل

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہفتہ بھر سے زیا دہ وقت گذر چکا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس نے درحقیقت کئی سطح کی سماجی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے جس میں نظام انصاف پر بھی دلائل دیئے جارہے ہی۔ سیاسی نظام کی سنگ دلی بھی تنقید کی زد میں ہے۔ مغربی تہذیب کے دلدادہ اور ہماری لبرل سول سوسائٹی نے سماج کی فکری، اخلاقی انحطاط اور مشرقی اقدار کی ایک جنگ چھیڑ دی ہے۔ ثنا خوان تقدیس مشرق میں بھی ایک ہیجان ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والے اس سوال کے گرد جمع ہیں کہ کیا جمہورریت کے پاس پیدا شدہ اخلاقی بحران، جنسی زیادتی کے واقعات کا کوئی حل موجود ہے؟ کیا قانون، جمہوریت ، انصاف اور سماجی تحفظ ایک ریاستی چیلنج ہے یا کسی حکومت کے پاس ہمارے معاشرتی ارتقائی سیاسی، مذہبی، فکری اور علمی تفکر اور جمہوری سسٹم کی کوئی دائمی چوائس بھی ہے۔ بادی النظر میں ایک ”غیر محفوظ“ ہائی وے پر ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ سفر کررہی تھی ، اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوا، وہ مدد کی منتظر تھی کہ اس پر ایک دردناک افتاد آپڑی۔ دو سفاک ملزمان نے اس مجبور ماں کے ساتھ وہ شرم ناک سلوک کیا جس کا کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بربریت اور درندگی کے اس سانحہ نے بے سمت سماج، لاوارث سسٹم، سوچ، تہذیبی رویے، جنسی انارکی، سیاسی اور انتظامی افراتفری اور بے لگام بیان بازی کا بے ہنگم طوفان برپا کردیا۔مسئلہ ایک جرم کی پیشہ وارانہ تفتیش و تحقیق، اس میں ملوث مجرمان کی فوری گرفتاری اور قانون نافذ کرنے والی غیرجانبدار پولیس فورس کی مستعدی، فرض شناسی، سرعت اور کارروائی کی نتیجہ خیزی کا تھا جو کسی ”مسٹر مودی“ سے بھی زیادہ پھیل کر کسی ”ہارر“ فلم کا سب سے دہشت انگیز ایپی سوڈ بنادیا گیا۔ اس ساری صورتحال نے ثابت کیا کہ سسٹم کے اندر مضمر خرابیوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں ما ررہا ہے، مگر بظاہر سیاست انسانی المیہ سے الگ کوئی پرسکون جریزہ ہے۔ اہل سیاست کے سینے میں شاید دل نہیں، صنف سنگ زنی کی مشق ہورہی ہیں، ساری سیاست ٹویٹ اور بیانات پر ہورہی ہے جیسے ملکی سیاسی سسٹم سنگلاخ زمینی حقائق سے لاتعلق Irrelevant ہو کر رہ گئی ہے۔دانشور طبقہ، سیاسی اشرافیہ، سیاسی جماعتیں جن کی گز گز بھر کی زبانیں جمہوریت، انسانی حقوق اور نظام کی زیادتیوں اور طرزِ حکمرانی کے غیر انسانی بیانیہ کی مخالفت کرتی تھکتی نہیں وہ بھی قومی سوچ سے عاری ہیں۔ اہل فکر و نظر کے حلقے بھی تہذیبی دراڑ کی نشان دہی کرتے ہوئے دس لاکھ انسانوں کا ایک احتجاجی جلوس لے کر سڑکوں پر نہیں آئے۔ کیا کوئی قحط الرجال ہے جسے ایک تجزیہ کار نے ملک کے دانشور طبقہ کی فکری اور عوام کے دکھ درد سے بے حسی اور تجاہل عارفانہ سے تعبیر کیا اور درست کیا ہے۔ ملکی سیاسی نظام کی قانونی اور اخلاقی قدریں ملیامیٹ ہوری ہیں۔ انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ گلزار احمد نے کہا ہے کہ نظام انصاف میں ہمیں جس مقام پر ہونا چاہیے اس کے لیے طویل سفر باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی خودمختاری کے بغیر عوام کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں (کسی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے)۔ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کے موقع پر عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے کہا کہ جب تک ججز آزاد، خودمختار اور بیرونی دباﺅ سے آزاد نہیں ہوں گے تب تک انصاف نہیں مل سکتا۔ آئین اور قانون میں عدلیہ کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئین کی بالا دستی کے لیے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ادھر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ نظام انصاف میں خامیوں کے باعث وائٹ کالر مجرم بچ نکلتے ہیں۔ ایسے جرائم کا شکار پاکستان کے عوام ہوتے ہیں، لہٰذا عدلیہ کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انصاف میں تاخیر بنیادی مسئلہ ہے، قانونی اور انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔ وفاق کی بات چھوڑیں، پنجاب میں گزشتہ دو برس کے دوران 5 آئی جیز، 4 چیف سیکرٹریز، متعدد صوبائی سیکرٹریز تبدیل کردیئے گئے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد کیا ہے؟ ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ بعض حکومتی وزرا کا مجرم کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ متشدد سوچ کی عکاسی ہے۔ موٹر وے سانحہ کے اثرات کا دائرہ وسیع تر ہونے کے باعث عوام میں حکمرانی اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے متعلق شکوک پیدا ہوئے۔ حکومت اور پولیس افسروں کے بیانات اور گراﺅنڈ پر موجود تفتیش اور شفاف و نتیجہ خیز تحقیقات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کابلند ہوتا شور سنا جارہا ہے۔ عوام میں ایک قسم کی بے چینی، خوف و ہراس اور بے یقینی پیدا ہونے لگی ہے۔ پنجاب پولیس نے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے 65 مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپل کی رپورٹ مانگ لی جبکہ متاثرہ خاتون کے ڈین این کے رپورٹ بھی مانگ لی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موٹر وے واقعہ کی چھان بین کرتے ہوئے ہمیں ملک کے پولیس کلچر، سیاسی وڈیرہ شاہی، حکمرانوں کے سیاسی طرزِ عمل اور سیاسی حسن سلوک کا بھی پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا۔ مسئلہ ایک خاتون کی بے حرمتی سے جڑا ہوا ہے اور وہ اس مائنڈ سیٹ کا ہے جس کی جڑیں ملک سے باہر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنسی تشدد، بے حرمتی اور ظلم و بربریت کا نشانہ صرف غریب، لاچار اور متوسط طبقہ ہی بنتا ہے جو اس ملک پر حکومت کرتے ہیں ان کے بیوی بچے تو بیرون ملک رہتے ہیں۔ بے شمار سیاست دانوں، تاجروں، صنعتکاروں، پولیس افسروں، بااثر خاندانوں کے بچے لندن، نیویارک، سپین، جرمنی، ناروے، آسٹریلیا اور دبئی میں رہتے ہیں۔ اس پولیس کلچر کا کیا ہوا جس کی تبدیلی کی سیاست دان اپنے سیاسی اور انتخابی منشور میں دہائیاں دیتے تھے۔ کروڑوں کا پٹرول، گاڑیاں، گھر کی آرائش، کرایے، ٹیلیفون اور دیگر مراعات کا تو شمار ہی نہیں۔ بلاشبہ جب کسی ملک کے دانشوران کرام، ادیب، شعرا، شاعر سرکاری مراعات لیں گے، اپنا ضمیر گروی رکھیں گے، تمغہ حسن کارکردگی کا انتظار کریں گے اور درباری کلچر کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوں گے تو کس کے دل میں ایک لاچار عورت اور اس کے بچوں کی غریب الوطنی یاد آئے گی۔ کون اپنی مراعات کو چھوڑ کر خدمت اور انسان دوستی کے آدرش پالے گا؟ کیا کسی کو یاد ہے کہ بلوچستان میں ایک سردار نے بلوچ خواتین کو زندہ دفن کرنے پر دلدوز سانحہ کہا تھا کہ یہ ہماری بلوچ روایات ہیں۔عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ حالیہ بارشوں میں کتنے وزرا، وزرائے اعلیٰ، گورنر صاحبان، سینیٹرز، یا وزیراعظم نے کراچی کے تباہ حال منظر نامہ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کرنے کی تکلیف اٹھائی ہوگی؟ امدادی کیمپ لگایا ہو، وہاں لوگوں کا حال سنا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ سے رُلتے تو غریب ووٹر ہیں، غربت و زیادتی کا نشانہ تو غریب کی بیٹی بنتی ہے، امیروں کی عیاشیوں اور ان کے رہن سہن میں کون سی ڈکیتی مخل ہوتی ہے۔ اس لیے تبدیلی لانا ہے تو سیاسی اور معاشی مائنڈ سیٹ میں لائی جائے۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیکورٹی سب کو عزیز ہے۔ سینیٹرز جب موو کرتے ہیں تو ان کے گارڈز ساتھ ہوتے ہیں۔ علمائے کرام بھی ڈبل ڈور پجیرو سے کم کسی گاڑی پر سفر نہیں کرتے۔ ان کی سیکورٹی کا عالم بھی دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ ان کے کروفر تو دیکھیے۔ کسی نے قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جب سماج کے حساس طبقات، اس کے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے والے انٹلیکچوئلز نام و نمود کے خوگر اور عوام سے کمٹمنٹ اور وابستگی سے محروم کردیئے جائیں تو معاشرہ پھر جنسی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سیاست، قانون، انصاف اور تہذیب سب پر زوال آجاتا ہے۔ کیا ہم ایسی ہی کسی صورتحال سے دوچار تو نہیں ہوگئے؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.