Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

نئے قربان علی کی آمد

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وزیراعظم عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں انہوں نے اپنے وزیروں، مشیروں اور سرکاری افسروں چنائو کرتے وقت اعلانیہ دو معیارات پیش کئے … ان کا اٹھتے بیٹھتے پرچار بھی کر رہے ہیں… ایک جو کام کرے گا وہ اپنے منصب پر رہے گا… دوسرا کسی کرپٹ کو ذمہ داری نہیں دی جائے گی… کسی عہدے پر تفریض نہیں کیا جائے گا… اس معیار کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے سب سے اہم مشیر اور تحریک انصاف کے مالی سرپرست بلکہ انہیں وزیراعظم بنانے کے لئے ذاتی ہوائی جہاز کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹی پارلیمانی جماعتوں کے لیڈروں کو بنی گالا کی یاترا کرانے والے جوڑ توڑ کے ماہر جہانگیر ترین کو سال بھر کے اندر اپنے سے دور کردیا… پھر موصوف چینی کے سکینڈل میں ملوث نکلے تو اپنے یار دیرینہ پر اتنی مہربانی کی کہ ان کے ملک سے چلے جانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی… انہیں کڑے احتساب کی زد سے محفوظ رکھا… یہ بہرحال ان عنایات کا کم از کم صلہ تھا جو جہانگیر ترین نے ان پر کی تھیں… محکمہ اطلاعات پر عمران خان کی خاص نگاہ ہے… کیونکہ اس کا کام ان کے نزدیک وزیراعظم کی ’’مثالی‘‘ کارکردگی کو میڈیا کے ذریعے عوام کے دلوں میں اتارنا ہے چنانچہ اب تک تین وزیر تبدیل ہو چکے ہیں… سیکرٹری اطلاعات سے لے کر اس محکمے کے درمیانے درجے کے عہدیدار تادم تحریر کتنے تبدیل ہو چکے ہیں… ان کا شمار ممکن نہیں… اس وقت محکمہ دو برابر کی شخصیتوں میں بٹا ہوا ہے… ایک سویلین دوسرا ریٹائرڈ لیکن زبردست رسوخ رکھنے والا جرنیل… اسی طرح اپنے اعلان کردہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے جناب وزیراعظم نے عہد حکومت کے پہلے دو سالوں میں جس بڑے افسر کو اپنے نزدیک ناقص کارکردگی کا مرتکب پایا اسے عہدے سے ہٹانے یا تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگائی… مرکز میں کئی محکموں کے سیکرٹری تبدیل ہوتے یا ایک دوسرے کی جگہ لیتے رہے… سب سے بڑے صوبے پنجاب پر ان کی سب سے زیادہ نظر ہے… چار پانچ چیف سیکرٹریوں کو اٹھا باہر پھینکا… دوسرے افسروں کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا… تبدیلی اور برطرفی ان کے طرز حکومت کا سب سے بڑا عنوان بن گئی… ہر اہم بیوروکریٹ کو خدشہ لاحق رہتا ہے اب تبدیل ہوا یا جب… افسران سرکار کے لئے دلجمعی سے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے لیکن جناب وزیراعظم کو اس کی پرواہ نہیں… جو کام نہیں کریگا اسے ہر صورت میں جانا ہو گا… پنجاب کی پولیس کو راہ راست پر لگائے بغیر چونکہ اس صوبے کے حالات بہتر نہیں کئے جا سکتے… لہٰذا اپنے دو سال کے عرصہ اقتدار میں انہوں نے پانچ آئی جی اڑا کر رکھ دیئے ہیں… ان سے نچلی سطح کے کتنے پولیس افسروں کو بیک گونی دوگوش فارغ کیا ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں… اسی چنائو اور برطرفی کے عمل کے دوران لاہور جیسے سیاسی لحاظ سے اہم شہر میں پولیس کی سربراہی کے لئے ان کی نگاہ انتخاب ایسے ’سی سی پی او‘ پر پڑی ہے کہ آئی جی شعیب دستگیر نے اس افسر کی خودسری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو اس کی پاداش میں محکمے کے سینئر ترین افسر یعنی آئی جی کو اپنے ماتحت سی سی پی او کے مقابلے میں شکست کھانا پڑی اور عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے… جونیئر سینئر پر غالب آ گیا… یہ بھی ہماری بیوروکریسی کی تاریخ کا شاید منفرد واقعہ ہے… لیکن جناب وزیراعظم فیصلہ کر لیں تو اس پر بلاخوف و خطر ڈٹ جانا انہیں خوب آتا ہے… موصوف کے اسی وصف کی بنا پر عثمان بزدار صاحب باوجود درون مے خانہ سے ملنے والے اشاروں کے وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر موجود ہیں… ان کی کارکردگی اور عہدے کے لئے اہلیت کسی اور کو مدنظر آئے یا نہ آئے وزیراعظم ضرور متاثر ہیں… نیب میں لاہور کے ایک زیرتعمیر ہوٹل کو پانچ کروڑ کے تحت شراب کا لائسنس دینے کا مقدمہ بھی زیرسماعت ہے… الزام درست ہے یا غلط مگر وزیراعظم کو ان کی ذات کے کرپشن سے پاک ہونے پر بہت اعتماد ہے… ان کے نزدیک عثمان بزدار کا یہی ایک وصف ہزار سال کی کارکردگی سے بہتر ہے…

لیکن لاہور کے نئے سی سی پی او عمر شیخ کا جنہوں نے آتے ہی اس آئی جی کو ہڑپ کر لیا جن کی دیانتداری اور متاثرکن کارکردگی دونوں لحاظ سے تعریف میں عمران خان چند ماہ پہلے رطب اللسان تھے معاملہ خاصا مختلف ہے… انہیں پولیس کے کسی گوشہ عزلت سے نکال کر لاہور شہر میں قانون کی عملداری کو مؤثر بنانے کی خاطر سی سی پی او کی ذمہ داری سے نوازا گیا ہے… موصوف کے بارے میں محکمانہ رپورٹوں میں کرپشن اور جوئے کا واضح ذکر اور تیسرے درجے کی کارکردگی کا مالک افسر لکھا گیا ہے… یہ سب کچھ چونکہ محکمانہ رپورٹس میں درج ہے کسی سیاسی قضیے کا شاخسانہ نہیں… لہٰذا اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں… عمران خان کی نظر سے ان کی تقرری کے وقت ظاہر ہے یہ سب کچھ گزرا ہو گا… تاہم عمر شیخ جہاں جاتے ہیں روایتی پولیس افسر والا رعب داب خوب

قائم کرتے ہیں… نیچے کے سب افسر اور ملازمین ان کے سامنے کانپ کانپ جاتے ہیں… پنجاب کے روایتی طور پر کامیاب پولیس افسر کا یہی خاصا ہوتا ہے… چنانچہ اندر سے کمزور حکمرانوں کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں… لیکن لاہور آتے ہی سر پر اولے پڑنے شروع ہو گئے… لاہور کے نواح گجرپورہ کے مقام پر نصف شب کے بعد موٹروے پر اپنے دوبچوں کے ساتھ ذاتی کار میں گوجرانوالہ کا سفر کرنے والی خاتون کا وہ واقعہ ہوا جس سے پورا ملک کانپ اٹھا… کسی کی عزت آبرو زیورات اور نقدی محفوظ نہیں… اس پر سی سی پی او صاحب نے بیان داغ دیا خاتون سے کس نے کہا تھا نصف شب کو موٹروے پر سفر کرتی… اس نے جی ٹی روڈ کا راستہ کیوں نہیں اختیار کیا… بیان کا سامنے آنا تھا پورے ملک میں ہاہاکار مچ گئی… پولیس کا کام اپنے ہر ہر شہری کی ہر وقت حفاظت کرنا ہے نہ کہ وحشی ڈاکوئوں کے ہاتھوں ان پر پڑنے والی آفت کا ذمہ دار بے چاری مسافر کو ٹھہرانا… کوئی چار روز بعد سی سی پی او صاحب نے عوامی اور میڈیا کے زبردست دبائو پر اپنے الفاظ کی معافی مانگ لی ہے… لیکن اس معاملے میں اب تک کی کارکردگی کا یہ عالم ہے مرکزی ملزم پکڑا نہیں جا سکا… اس کے ایک دو ساتھیوں کو ضرور قابو میں لیا گیا ہے… مگر جب تک اصل بدمعاش کی گردن تک ہاتھ نہیں پہنچتا… جرم کو اس کی جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا… روز اعلان ہوتا ہے مجرم جلد گرفت میں آنے والا ہے لیکن ہفتہ بھر ہو گیا ہے شیخوپورہ کا ایک ریکارڈ یافتہ ڈاکو اور بدمعاش جس کی رہائش اس کے گائوں، رشتہ داروں اور دستوں سب کا پولیس اور مقامی انتظامیہ کو پوری طرح علم ہے شکنجے میں نہیں آ رہا … اعلان ہوا پولیس کی 28 ٹیمیں اس کی تلاش میں نکلی تھیں مگر وہ خبر پا کر اپنی بیوی سمیت کھیتوں میں جا چھپا… اس سادگی پر کون نہ مر جائے ہے اے خدا… شہباز شریف کی قائم کردہ فرانزک لیبارٹری نہ ہوتی تو اس کا اور ساتھی ڈاکوئوں کا خون بھی میچ نہ ہوپاتا… یہ ہے اب تک کی کارکردگی البتہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کی خاطر بحث کا رخ اس جانب موڑ دیا گیا ہے اس طرح کے مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے یا نہیں… پھر فٹاف کا خوف لاحق ہو جاتا ہے… وزیراعظم کہتے ہیں انہیں نامرد بنانے کا سوچا جا سکتا ہے… ارے بھئی یہ کام تو تب ہوں گے جب آپ تازہ ترین اور گھنائونے ترین واقعہ کے سرغنہ پر ہاتھ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پھر یہ سوال کہ نامرد بنا دینے کے بعد کیا آپ ایک ڈاکو یا اس کے گروہ کو شریف لوگوں سے زیورات اور بھاری رقوم لوٹ لینے اور مزاحمت کرنے پر انہیں زخموں سے چور چور کرنے کی وحشت سے روک لیں گے… ان میں اکثر اجرتی قاتل ہوتے ہیں… جیسا کہ گجرپورہ کے واقعے کے بڑے ملزم عابد ملّہی کے بارے میں خبر چھپی ہے… اسے آپ نامرد بھی بنا دیں گے تو کیا فرق پڑے گا…

لیکن اصل سوال یہ ہے وزیراعظم بہادر اپنے تمام تر اعلانات اور دعووں کے برعکس عمر شیخ صاحب کو ان کے محکمانہ ریکارڈ کے باوصف اور تازہ ترین کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے عہدے پر کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں… ایسا معلوم ہوتا ہے پنجاب پولیس کے اصل آئی جی صاحب موصوف ہیں… ان کی خاطر کرپشن اور نااہلی کے خلاف تمام دعاوی تج کر کے رکھ دیئے گئے ہیں… ایک رائے یہ ہے عنقریب بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں… لاہور جیسے سیاسی لحاظ سے اہم تر شہر اور وسطی پنجاب میں تحریک انصاف کو پچھلے انتخابات میں بھی (جن میں کامیابی کی وجہ سے وہ حکومت کی دعویدار بنی) مایوس کن حد تک حمایت حاصل ہوئی… مسلم لیگ (ن) کا باوجود اس کی تمام کی تمام لیڈرشپ کو جیلوں میں بند یا مقدمات میں ملوث کرنے کے یہاں طوطی بول رہا ہے… لاہور اور وسطی پنجاب میں بلدیاتی انتخاب جیتے بغیر حکمران تحریک انصاف کی جڑیں اکھڑی اکھڑی رہیں گی… اس کا مداوا کیسے ہو… قیام پاکستان کے بعد 1950 میں پنجاب کے اندر پہلے صوبائی انتخابات ہوئے… تب میاں ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ اور صوبائی لیگ کے کرتا دھرتا تھے… انتخاب جیتنا ان کے لئے اشد ضروری تھا کیونکہ اگلی نگاہ وزیراعظم کے عہدے پر تھی… مسلم لیگ اگرچہ ملک کی بانی جماعت تھی لیکن چار سال حکومت کرنے کی وجہ سے لوگوں کی سخت تنقید کی زد میں تھی… میاں ممتاز دولتانہ نے انتخابی مہم کو مؤثر بنانے کے لئے اپنی سابقہ مخالف جماعت مجلس احرار الاسلام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا کیونکہ اس کے پاس ایسے عوامی مقررین کی فوج ظفرموج موجود تھی جو سیاسی جلسوں کا تجربہ رکھتی تھی اور لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھی بھڑکانا جانتی تھی… لیکن ذہین اور چالاک سیاسی کھلاڑی ممتاز دولتانہ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا … انتظامیہ میں ان کا بڑا سہارا اس وقت کے آئی جی پنجاب قربان علی تھے… جنہیں ڈنڈے کے زور پر لوگوں میں رعب داب قائم کرنا خوب آتا تھا… بڑے بڑے افسر ان کے سامنے بول نہیں پاتے تھے اور دولتانہ صاحب سمیت سینئر وزراء انہیں چچا کہہ کر پکارتے تھے… ان انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے آئی جی قربان علی نے وہ ہتھکنڈہ استعمال کیا جسے جھرلو کا نام دیا گیا… یہ اخبارات کا دور تھا… ٹیلی ویژن کا وجود تک نہیں تھا اور ریڈیو صرف سرکاری ہوتا تھا… اخبارات میں بیلٹ بکس پر جھرلو کی کرشمہ سازی کے وہ وہ قصے بیان ہوئے کہ ہر ایک نے قربان علی نام کے پولیس افسر کے جھرلو کو دولتانہ صاحب کی مسلم لیگ کی کامیابی کا بڑا سبب قرار دیا… یوں جھرلو کے ذریعے پنجاب میں انتخابی دھاندلیوں کے عمل کا آغاز ہوا اور یہ نام اس قدر زبان زدعام ہو گیا کہ آئی جی قربان علی کو شہرت دوام بخش گیا… وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے وقت بھی قربان علی اپنے عہدے پر فائز تھے… معلوم نہیں وہ اس میں ملوث تھے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے اس کے بعد انہیں بلوچستان کا گورنر بنا کر بعض لوگوں کے نزدیک بڑے انعام سے سرفراز کیا گیا… تو کیا اب بھی بلدیاتی انتخابات جیتنے کے لئے ایک قربان علی کی ضرورت ہے…

دوسرا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ مریم نواز نے گزشتہ ماہ نیب کے بلاوے پر جس متاثرکن عوامی قوت کا مظاہرہ کیا اس سے حکومت خاصی پریشان ہے… وقت کے آئی جی شعیب دستگیر اسے سنبھال نہ سکے یا کم از کم مریم کی عوامی طاقت کے مظاہرے کو کنٹرول کرنے کے لئے ہاتھ کی صفائی نہ دکھا سکے… اس کے بعد ان سے تقاضا تھا کہ مظاہرے میں پیش پیش مریم کے شوہر کیپٹن صفدر اور دوسرے ساتھیوں کے خلاف چالانوں میں دہشت گردی کی دفعات شامل کریں مگر وہ گریزاں تھے لہٰذا پسندیدہ افسر نہ رہے… اب جو20 ستمبر کو اے پی سی ہو رہی ہے… اس میں اگر مولانا فضل الرحمن اپنا پروگرام منوانے میں کامیاب ہو گئے (کہا جاتا ہے لندن سے میاں نوازشریف نے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے خاص طور پر اب جبکہ کانفرنس میں مریم نواز کی شرکت کی تصدیق ہو گئی ہے) تو مذہبی و سیاسی عوامی طاقت ایک دفعہ پھر ایسا چیلنج پیدا کر دے گی کہ اس مرتبہ چودھری برادران کی مصالحت کاری حکومت کے زیادہ کام نہ آ سکے گی… اس صورت میں عمر شیخ جیسا پولیس کے روایتی دبدبے کی شہرت رکھنے والا افسر کام آ سکتا ہے… اس لئے ان کے تمام تر محکمانہ ریکارڈ اور اپنے اعلانات سے قطع نظر عمران خان موصوف کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا تہیہ کر چکے ہیں… دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا…

Leave A Reply

Your email address will not be published.