Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

درخت کے پتوں پر جمع مقناطیسی ذرات آلودگی کی خبر دے سکتے ہیں

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

شہری ماحول میں دھویں آلودگی کی پیمائش کے لئے مہنگے اور حساس سینسر لگائے جاتے ہیں لیکن اب خود درخت کے پتوں پر جمع ہونے والے مقناطیسی ذرات سے آلودگی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سائنسدانوں نے صنوبر(پائن) کے درخت کے نوکدار ابھار جمع کئے جو کیمپس کے احاطے میں لگے درختوں سے اتارے گئے تھے۔ ان میں سے تین درخت سڑک کنارے واقع تھے جہاں روزانہ ٹریفک گزرتا ہے جبکہ چوتھا درخت ٹریفک سے دور تھا۔ لیکن اس کا موازنہ اس دور سے بھی کیا گیا جب روایتی آلات نے یوٹاہ میں ہوا کا معیار بہتر اور بدتر ثابت کیا تھا ۔

الیکٹرون مائیکروسکوپی اور میگنیٹومیٹر کی بدولت تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ جو پتے فضائی آلودگی کے دور میں لئے گیے تھے وہ صاف ہوا والی اوقات کے مقابلے میں مقناطیسی ذرات سے تین گنا زائد اٹے ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے سائنسدانوں نے آلودہ ترین مقامات والے درختوں کے پتوں سے ٹائٹانیئم، وینیڈیئم اور زرکونیئم جیسے عناصر بھی دیکھے جن کا تعلق براہِ راست گاڑیوں کی آلودگی سے ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ خود درختوں کے پتے آلودگی کا سینسر بن سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے دھویں اور رکازی ایندھن جلنے کے بعد معمولی مقدار میں مقناطیسی ذرات خارج ہوتے ہیں جو پتوں پر جمع ہوکر آلودگی کا ثبوت بنتے رہتے ہیں۔ اس طرح پتوں کو دیکھ کر اطراف کی ہوا اور فضا کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

درختوں پر جمع ہونے والے پتے شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کی خبر دے سکتے ہیں۔ تاہم مقناطیسی ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے اور انہیں حساس مقناپیما (میگنیٹومیٹر) سے ہی نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ میگنیٹو میٹر ماہرِ ارضیات مختلف تحقیقات میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے یونیورسٹی آف یوٹاہ کے کیمپس سے اپنی تحقیق کا آغاز کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.