Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

رفیق حریری کی ہلاکت: لبنان کے سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ جلد متوقع

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے الزام میں گرفتار چار افراد پر جاری مقدمے کا فیصلہ جلد متوقع ہے جن پر الزام ہے کہ وہ سنہ 2005 میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری اور 21 مزید افراد کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے میں ملوث ہیں۔

ان چاروں ملزمان کا تعلق لبنان کے شیعہ گروپ حزب اللہ سے ہے اور ان پر غائبانہ مقدمہ نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں ایک خصوصی ٹرائبیونل میں چلایا گیا۔

اس حملے کے بعد شام میں حزب اللہ کی پشت پناہی کرنے والوں نے 29 سال کے بعد لبنان سے اپنے فوجی واپس بلا لیے۔

تاہم حزب اللہ اور شام کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس حملے میں ملوث ہونے کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

اس دھماکے میں 220 افراد زخمی ہوئے تھے جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی ایک وین اس وقت پھٹ گئی جب رفیق حریری کا کاروان وہاں سے گزر رہا تھا۔

لبنان کی تاریخ میں یہ انتہائی اہم واقعہ تھا جس کے بعد کئی گروہوں نے آپس میں مفاہمت کی اور اس سے لبنان کے سیاسی منظر نامے کی شکل بدل گئی۔

رفیق حریری کے بیٹے سعد نے شام مخالف، اور مغربی طاقتوں کی حمایت کرنے والے گروہوں کی قیادت کی اور اس کے بعد تین بار ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے سربراہی کی۔

امکان ہے کہ وہ سپیشل ٹرائبیونل فار لبنان (ایس ٹی ایل) میں خود شرکت کریں گے جہاں منگل کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

چاروں ملزمان، سلیم جمیل عیاش، حسن حبیب مرہی، حسین حسان اونیسی اور اسد حسان سابرا کے بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

ان چاروں نے اس مقدمے پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا ہے لیکن عدالت کی جانب سے ان کے متعین کردہ وکلا نے ان پر چلائے گئے مقدمے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ صرف واقعاتی شہادت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان چاروں پر مقدمہ چلایا گیا ہے اور اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ چاروں حقیقتاً، بغیر کسی شک و شبہ کہ اس واقعے میں ملوث ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.