Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

غزہ پر اسرائیلی بمباری ، امریکی صدر نے پہلی مرتبہ سیز فائر کی حمایت کر دی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو ہفتے میں دوسری مرتبہ ٹیلیفونک کال کرتے ہوئے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کو روکنے کے لیے پہلی مرتبہ سیز فائر کی حمایت کی ہے۔

بائیڈن نے پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان سے سیز کے قیام کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بائیڈن پر غزہ میں سیز فائر کرانے کے لیے دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پیر کو وائٹ سے جاری بیان میں بائیڈن نے کہا کہ وہ سیز فائر کی حمایت کرتے ہیں اور اس تنازع کے خاتمے کے لیے مصر سمیت دیگر فریقین سے بات کررہے ہیں۔

تاہم سیز فائر کے مطالبے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے حماس کے مبینہ راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت بھی کی۔

ایک دن قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی پر مکمل طاقت کے ساتھ کارروائی کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔

غزہ کی پٹی پر 10 مئی سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 212 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ بمباری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے سبب ہزاروں فلسطینی بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ حملے مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں فائر کیے گئے۔

نیتن یاہو سے فون پر گفتگو میں بائیڈن نے دونوں فریقین کے مابین تشدد میں کمی اور مقبوضہ بیت المقدس میں امن کے قیام کے لیے کی جا رہی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسرائیل پر معصوم شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا۔

اس تنازع کے آغاز کے بعد سے ہی امریکا نے اسرائیل کی بلامشروط مکمل حمایت کی ہے تاہم ساتھ ساتھ وہ اس بات کی بھی یقین دہانی کراتے رہے کہ وہ سفارتی سطح پر اس تنازع کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

تاہم امریکا نے تیسری مرتبہ اقوام متحدہ کے اس بیان کو روک دیا جس میں غزہ میں بدترین حملوں پر اسرائیل کی مذمت کی گئی اور امریکا کے اس رویے پر اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی فوج کے جنرل مارک ملی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ یہاں نہ رکا تو اس سے بڑے پیمانے پر عدم استحکام جنم لے سکتا ہے جو غزہ کی پٹی سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا تجزیہ یہ ہے کہ آپ بڑے پیمانے پر عدم استحکام کا خطرہ مول لے رہے ہیں اور اگر لڑائی کا سلسلہ جاری رہا تو منفی نتائج کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا، اس وقت تشدد میں کمی تمام فریقین کے لیے سب سے بہتر ہے۔

تاہم بیروت میں امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر رمی خوری نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے یہ بیان مجبوری میں جاری کیا ہے لہٰذا اس کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ایسا اس لیے کررہے ہیں کیونکہ کانگریس میں انہیں ڈیموکریٹس کے دباؤ کا سامنا ہے، انہیں دنیا کے غم و غصے کا سامنا ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ فلسطینیوں کو تحفظ کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں تباہی بے انتہا زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پس پردہ ایک فیصلہ کن عمل کا آغاز ہو گا لیکن اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔

دوسری جانب اردن کے شاہ عبداللہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو کال کر کے زور دیا کہ عالمی برادری اپنے ذمے داریوں کا احساس کرے اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ میں جارحیت کا سلسلہ روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

عالمی سطح پر سیز فائر اور جارحیت روکنے کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے اور پیر کو بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

ان کارروائیوں کے دوران معصوم فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ غزہ میں بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے کثیرالمنزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی تھی، اس عمارت میں رہائشی مکانوں کے ساتھ ساتھ نامور بین الاقوامی اداروں الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر بھی موجود تھے۔

اس کارروائی کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی صحافی برادری اور آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والے اداروں نے مذمت کی تھی۔

عالمی سطح پر اس کارروائی کی شدید مذمت کے بعد امریکا نے اسرائیل سے اس فضائی کارروائی کا جواز پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.