Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکا:بائیڈن کا پہلے ہی دن ٹرمپ کے متنازعہ احکامات ختم کرنیکا فیصلہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن  :  نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے عہدِ صدارت کے پہلے روز کیے جانے والے ایگزیکٹو احکامات کو حتمی شکل دے دی ہے ۔ بائیڈن کی جانب سے نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رون کلین کے مطابق حلف برداری کے بعد بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع احکامات کو واپس لینے کے علاوہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ نو منتخب صدر وائٹ ہاؤس میں پہلے 10 روز کے دوران ملک کی سمت کا تعین کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈرز کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ بدھ( 20جنوری) کو حلف برداری کے فوری بعد بائیڈن بعض مسلمان ممالک کے شہریوں پر امریکا میں امیگریشن لینے پر پابندی ختم کرنے کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ‘‘پیرس معاہدے ’’ میں امریکا کو دوبارہ شامل کر دیں گے ۔بائیڈن وفاقی املاک اور ریاستوں کے مابین سفر کے دوران ماسک کی پابندی بھی لازمی قرار دینے کے احکامات جاری کریں گے ۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے گئے وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رون کلین نے سینئر سٹاف کو بھجوائے گئے میمو میں کہا کہ صدارت کے پہلے روز بائیڈن لگ بھگ ایک درجن احکامات جاری کریں گے ۔بائیڈن طلبہ کو قرضوں کی ادائیگیوں میں مزید مہلت کے علاوہ کورونا وبا کی وجہ سے مشکلات سے دوچار افراد کی بے دخلی روکنے کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کریں گے ۔کلین کا میمو میں کہنا تھا کہ نو منتخب صدر کے ان اقدامات سے لاکھوں امریکیوں کو فائدہ پہنچے گا، جو وبا کے اس دور میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے ۔رون کلین کا مزید کہنا تھا کہ جوبائیڈن کے اہداف پر مکمل عمل درآمد کے لیے کانگریس کا فوری ایکشن درکار ہو گا، جس میں ایک اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر کے کورونا ریلیف پیکیج کی منظوری بھی شامل ہو گی، جس کا بائیڈن نے جمعرات کو اعلان کیا تھا۔کلین کے بقول جمعرات کو بائیڈن کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے احکامات کا اعلان کریں گے ، جن میں سکولز اور کاروبار دوبارہ کھولنے اور کورونا ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق اقدامات بھی شامل ہوں گے ، جب کہ جمعہ کو وہ کورونا وبا کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ہونے والے افراد کے لیے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے ۔کلین کے مطابق آئندہ ہفتے بائیڈن کرمنل جسٹس ریفارمز، موسمیاتی تبدیلیوں اور امیگریشن سے متعلق احکامات جاری کریں گے ۔ جن میں ٹرمپ پالیسیوں کی وجہ سے میکسیکو بارڈر پر بچھڑنے والے خاندانوں کو ملانے کے عمل میں تیزی بھی شامل ہو گی۔ کلین کا کہنا تھا کہ قانونی جائزے کے بعد بائیڈن کئی دیگر اقدامات کا بھی اعلان کریں گے ۔دوسری جانب امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی 20 جنوری کو تقریب حلف برداری کے موقع پر مسلح احتجاج کے خدشے کے پیش نظر تمام ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لاک ڈاؤن جیسی صورت حال ہے ۔ سکیورٹی اداروں نے ہفتہ وار چھٹیوں کے موقع پر دوسری ریاستوں سمیت دارالحکومت میں مسلح احتجاج کا الرٹ جاری کیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کئی شہروں میں احتجاج شروع ہو گیا ہے تاہم مظاہرین کی تعداد کم ہے ۔ اے ایف پی کے مطابق حکام نے بتایا کہ واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت کے قریب ایک ناکے پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے ، جس کے پاس گولیوں سمیت پستول موجود تھا، اس کے قبضے سے 5 سو گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی سپریم کورٹ میں جمع کروائی دستاویزات کے مطابق گرفتار ہونے والے شخص کانام ویزلی ایلن بیلر ہے ، جس کا تعلق ریاست ورجینیا سے ہے ۔ اُس نے ناکے سے گزرنے کے لیے جعلی اجازت نامہ دکھایا۔ رائٹرز کے مطابق ایف بی آئی کی جانب سے الرٹ جاری کیے جانے کے بعد 12 سے زیادہ ریاستوں میں نیشنل گارڈز کے دستوں کو چوکس کر دیا گیا ہے ۔اس اقدام کا مقصد سرکاری عمارتوں کو محفوظ بنانا ہے ۔ دوسری جانب ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمزکامے نے بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر تشدد کے انتہائی سنگین خطرے سے خبردار کیا ہے ۔سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ 20 جنوری کو تقریب حلف برداری سے قبل پولیس کو مسلح افراد کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد کی موجودگی پریشان کن ہے ۔ پولیس کو ریاستوں میں قانون کا نفاذ یقینی بناناہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس پُرتشدد مظاہروں کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ ادھرایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی میں ایک درجن سے زائد انتہا پسند گروپ ملوث تھے ۔ ان میں سازشی نظریے کا گروہ (QAnon)، دائیں بازو کا ایک اور گروپ پراؤڈ بوائز، سفید فام لوگوں کی برتری پر یقین رکھنے والے گروپ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پکے حامی بھی شامل تھے ۔ شہریوں کے حقوق کی علم بردار تنظیم ‘‘ساؤدرن پاورٹی لاء سینٹر’’ نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ ان گروپوں کے نمائندے کانگریس کی طرف سے جو بائیڈن کی انتخابات میں فتح کی توثیق کے دوران مظاہروں میں شامل ہوئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.