Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

جھل مگسی: ’بچی کے زخموں کی صفائی کے لیے صاف پانی کہاں سے لاؤں؟‘

0

’ہم بلوچستان والوں کی قسمت ہی خراب ہے یا تو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا یا پھر اتنا پانی برستا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا ہے۔

’خشک سالی انسان اور جانور کو ایک گھاٹ پر اکٹھا کر دیتی ہے اور سیلاب آجائے تو دونوں کی قسمت بھی اسی گدلے پانی میں ڈوب جاتی ہے۔ ہر طرف تو سیلاب کا پانی کھڑا ہے میں اس کے زخموں کی صفائی کے لیے صاف پانی کہاں سے لاؤں؟‘

یہ کہنا تھا اس ماں کا جو اپنی پانچ سالہ بچی کو بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے علاقے کوٹ مگسی میں لگے ایک میڈیکل کیمپ میں ڈاکٹر سے چیک کروانے لائی تھی۔

ننھی بچی کا پورا چہرہ زخموں سے بھرا تھا اور ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔

میڈیکل کیمپ میں اس وقت بھی 100 سے زائد مریض تھے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، جن کے چہرے، ہاتھوں اور پیروں پر جلدی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والے زخم انفیکشن کی وجہ سے خراب ہو چکے تھے۔ بہت سے بچوں کے سر پر بڑے بڑے زخم تھے جو رس رہے تھے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مون سون کی بارشوں سے ہونے والی تباہ کاری جولائی کے دوسرے ہفتے میں شروع ہو گئی تھی لیکن زیادہ نقصان 24 اگست سے شروع ہونے والے بارش کے بعد ہوا۔ بارشوں اور سیلاب سے ضلع جھل مگسی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

بارش کے اس سلسلے نے ضلعے کا رابطہ ملک کے باقی حصوں سے ختم کر دیا۔ سیلابی پانی کی وجہ سے ضلعی ہیڈ کوارٹر گنداوہ کی دیہاتی علاقوں تک رسائی بھی ختم ہو گئی۔

ڈاکٹر اظہر، جو کوٹ مگسی مرکز صحت میں میڈیکل آفیسر تعینات ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو بتایا کہ سیلاب کے ابتدائی دنوں میں زیادہ تر گیسٹرو اور ہیضے کے مریض ہی آ رہے تھے لیکن آج کل طبی امداد کے لیے آنے والوں میں زیادہ تعداد جلدی امراض، پھوڑے، زرد چھالے، خارش اور الرجی کے مریضوں کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں میں ان بیماریوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ گندے سیلابی پانی میں کھیلنا ہے۔ سیلاب کے بعد پھیلنے والے زیادہ تر جلدی امراض متعدی ہیں۔

’ہمارے پاس آنے والے بیشتر مریضوں میں گھر کے تمام افراد جلدی امراض میں مبتلا نظر آتے ہیں اور بعض بچوں کے سر کے زخموں میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ دیہات میں صاف پانی، ڈیٹول اور ضروری ادویات کی کمی یا عدم دستیابی کی وجہ سے بھی مریضوں کے زخم خطرناک حد تک خراب ہو رہے ہیں۔‘

2017 کی مردم شماری کے مطابق جھل مگسی کی کل آبادی 148900 افراد پر مشمل ہے جن میں 72173 خواتین ہیں۔ شہری آبادی کا تناسب صرف 5.25 فیصد ہے جبکہ باقی علاقہ دیہاتی ہے۔ اس ضلعے میں چار سے 14 سال تک کے بچوں کی تعداد 75812 ہے۔

بلوچستان کے محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 3615 مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے جھل مگسی میں ایک ضلعی ہسپتال، 11 بنیادی مراکز صحت اور 16 ڈسپنسریاں ہیں۔ ان طبی مراکز میں تعینات ڈاکٹروں کی کل تعداد سات ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رخسانہ نے بتایا: ’ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہم نے جو دوائیاں اکٹھی کی تھیں وہ اب ختم ہونے کے قریب ہیں۔ جلدی امراض کی ادویات جھل مگسی میں میسر ہی نہیں جس کی وجہ سے ہمیں خطرہ ہے کہ یہ کہیں وبا میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ پورے ضلعے میں ایک بھی جلدی امراض کا ماہر ڈاکٹر نہیں۔‘

ڈاکٹر رخسانہ نے بتایا کہ جہاں ادویات کا نہ ملنا ایک بڑا مسئلہ ہے وہیں فیلڈ میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ صرف سات ڈاکٹروں کے لیے اتنے بڑے علاقے میں اس تیزی سے بگڑتی ہنگامی صورت حال کو سنبھالنا مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اگر ضلع جھل مگسی کے لیے منظور شدہ 50 ڈاکٹروں کی اسامیوں پر تقرریاں کر دے تو اس سے بھی عوام کو طبی سہولیات پہنچانے میں مدد ملے گی۔

علاقے میں امدادی کاموں میں مصروف سماجی کارکن اریبہ الماس نے بتایا کہ جھل مگسی کے دیہات میں رہنے والوں کی ہسپتال تک رسائی سڑکوں کے بہہ جانے اور سیلابی پانی کی موجودگی کی وجہ سے بہت مشکل ہو گئی ہے۔ گاؤں کے گاؤں جلدی امراض کے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ سیلاب میں بہت سے لوگوں کے گھر بہہ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ابھی تک کھلے آسمان تلے سڑکوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے جلدی امراض کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ بھی بتائی: ’ان حالات میں بچوں کے زخموں کی دیکھ بھال اور ان کی صفائی کا خیال رکھنا ایک عام دیہاتی ماں کے لیے بہت مشکل ہے۔ خواتین اور بچے اگر نہانا چاہیں بھی تو صاف پانی کہاں سے آئے گا؟ صاف کپڑے کہاں سے آئیں گے؟‘

ان کا کہنا تھا: ’علاقے میں موجود ہمارے رضاکار محکمہ صحت کے ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر دور دراز علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں جہاں پر مریضوں کو طبی سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے کے لیے لاہور اور کراچی سے رضاکار ڈاکٹر فیلڈ سٹاف کو ٹیلی فون اور ویڈیو کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

’واٹس ایپ گروپس کے ذریعے ہم نے جھل مگسی میں موجود طبی عملے اور ملک کے دیگر حصوں میں موجود ڈاکٹروں کو اکٹھا کر دیا ہے اور ان کی باہمی مشاورت سے جلدی امراض کی زیادہ استعمال میں آنے والی ادویات بھی ہنگامی طور پر فراہم کر رہے ہیں۔‘

سندھ میں حالات

 سندھ میں بھی ملیریا اور ڈینگی کے بعد جلدی امراض بھی وبائی صورت اختیار کر گئے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے سیلاب سے متاثر علاقوں میں سانس اور دمے کی شکایات کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وزیرِ صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’سیلاب کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے لگائے گئے سرکاری کیمپوں میں 15 ستمبر تک 13599 سانس کی تکلیف کے مریض رپورٹ ہوئے، 14263 ڈائریا، جبکہ 20 ہزار سے زائد کیس جلد کے مختلف امراض میں رپورٹ ہوئے۔‘

محکمہ صحت سندھ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کے سرکاری کیمپوں میں جلدی امراض کے 15 ہزار کیس رپورٹ ہوئے تھے مگر دوسرے روز یہ تعداد بڑھ کر 20 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

یہ تعداد صرف سرکاری کیمپوں میں مقیم لوگوں کی سکریننگ کے بعد کی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سیلاب متاثرین کی اکثریت سرکاری کیمپوں کی بجائے کھلے آسمان، زیرآب علاقوں، کسی غیر سرکاری تنظیم کے کیمپ یا سڑک کنارے بیٹھے ہوئے ہیں اور یوں ان کا شمار سرکاری ریکارڈ میں نہیں ہو سکا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف سکن ڈیزیز سندھ کی سربراہ ڈاکٹر روبی قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے جلدی امراض کے مریضوں کی بڑی تعداد ان کے ہسپتال میں آ رہی ہے۔

ڈاکٹر روبی قریشی کے مطابق: ’عام دنوں میں سر کے زخم میں کیڑوں والے مریض ایک یا دو آتے تھے مگر اب 10 سے 15 مریض روزانہ آتے ہیں۔ ہمارے ہسپتال کی او پی ڈی یا روزانہ معائنے کے لیے آنے والے مریضوں کی تعداد چار ہزار سے بڑھ کر آٹھ سے دس ہزار ہوگئی ہے۔‘

ڈاکٹر روبی قریشی کے مطابق مریضوں کی اکثریت میں بیکٹیرل انفیکشن، خارش اور جلد پر دانوں کی بیماریاں عام ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.