Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

عمران خان صادق وامین ہے ؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

اسد مفتی

ایمسٹرڈم ہالینڈ

 

کسی بھی اعلیٰ مقصد کو پانے کے لئے ”احساس مقصد“ کے ساتھ ”اخلاق مقصد“ ایک بنیادی عنصر ہے۔ احساس مقصد اور اخلاص مقصد کو بنیاد بناکر یقین محکم کے ساتھ عمل پہیم اور جدوجہد سے منزلیں سر ہوتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں گزشتہ بیسویں صدی میں ”انقلاب فرانس“ اور بوشویک انقلاب انہیں عناصر کا نتیجہ ہے۔ ایران انقلاب بھی اسی زمرے میں آتا ہے عظیم ہیں وہ نفوس اور رہنماءجن کی پرکشش شخصیات نے انقلاب تاریخ انسانی میں پیدا کئے۔ انقلاب اور بغاوت کے ذریعے تختہ حکومت الٹنے میں بنیادی فرق ہے اور یہ فرق بکسلے نے ”فلاسفی آف ریوولیوشن“ کے دیباچہ میں یوں ظاہر کیا ہے۔ انقلاب طاقت سے حکومت کا تختہ الٹنے کا عمل نہیں ہے بلکہ انقلاب وہ ہے جس کے عمل سے انسانی سماج میں سوچنے کا انداز اور عمل کا طریقہ یکسر بدل جاتا ہے۔ اجتماعی طور پر مائنڈ سیٹ بدل جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں جن شخصیات نے اپنے معاشروں میں حقیقی انقلاب برپا کیا ان میں لینن (کارل مارکس اینگلز) اور ایرانی انقلاب کے رہنماءامام خمینی ہیں۔ ان میں ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ احساس مقصد اور اخلاص مقصد بھی تھا اور یقین محکم کے ساتھ عمل پہیم سے ”منزل“ پانے کی مسلسل جہد نے ان کے معاشروں میں انقلاب برپا کیا ہے آج جہاں ترکی میں جناب گولن اپنی اسلامی تحریک کو عوام میں متعارف کروارہے ہیں وہاں پاکستان میں جماعت اسلامی خود کو مسند اقتدار پر دیکھنا چاہتی ہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا کئی برس سے پہلے انتقال ہوچکا ہے لیکن ان کی تعلیمات پاکستانی معاشرہ میں کوئی ہلچل پیدا نہ کرسکیں۔ مولانا جو جو جم غفیر میں نمایاں تر ہیں اس قد آور شخصیت نے اپنی تحریکوں ، تقریروں اور تحریروں سے پاکستان میں ”اسلامی انقلاب“ برپا کرنے کی کوشش کی۔ حکومت الہیہ کے اپنے مخصوص تصور کی انہوں نے ”رسائل و مسائل“ اور سیاسی کشمکش اور مسلمان ہند کے علاوہ اپنی دوسری تصانیف سے مسلمانوں میں اپنے نظریات کے بیج بوئے۔ لیکن مولانا محترم ان شخصیات میں سے ہیں جن کو اپنی زندگی میں بازیابی مقصد حاصل نہیں ہوئی اور ان کے اس دار فانی سے رحلت فرمانے کے بعد ان کے پیروکار پاکستان میں ان کے مقصد سے ایران کے تصورات سے ہٹ گئے۔ حال ہی میں ان کے صاحبزادے مولانا حیدر فاروق مودودی کا ٹائمز آف انڈیا میں ایک انٹرویو شائع ہوا ہے اس چونکا دینے والے انٹرویو میں مولانا فاروق حیدر نے اپنے والد محترم یعنی مولانا مودودی مرحوم کی شخصیت کے گرد ”تقدس“ اور ”اعتقاد“ کے اس دائرہ کو مسمار کردیا ہے جو عام مسلمانوں میں مولانا مرحوم کیلئے ہے۔ انٹرویو کے ان حصوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا مرحوم کی شخصیت میں ”احساس مقصد“ اور ”اخلاص مقصد“ نام کی کوئی شے نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان میں (ایرانی انقلاب کے مماثل) کوئی انقلاب برپا نہیں کرسکے بلکہ کبھی بھی ان کی جماعت اسلامی کو پاکستانی ”لچس لچرز“ میں خاطر خواہ نمائندگی حاصل نہیں ہوسکی۔ اپنے انٹرویو میں مولانا فاروق حیدر مودودی نے جہاں اور بہت سی ناگوار باتیں کہی ہیں وہاں انہوں نے ”تحریک مودودیت“ کے اسلام کو DRUG یعنی ”نشہ آور دوا“ کے نام سے پکارا ہے۔ موصوف کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔

میرے والد (مولانا مودودی مرحوم) اس نشیلی دوا (DRUG) کے خطرات سے پوری طرح واقف تھے جس کو وہ آزادانہ بلا قیمت تقسیم کررہے تھے حقیقت یہ ہے کہ ان کا رویہ ”ہیروئن کے تاجر“ کا تھا انہوں نے کبھی بھی اپنی اہلیہ یا اپنے نو عدد بچوں کو جماعت اسلامی کے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ انہوں نے کبھی بھی ہمیں (یعنی اپنی اولاد) کو اپنی تصانیف پڑھنے کی اجازت نہیں دی (مولانا مرحوم کی 80 تصانیف ہیں جو مختلف زبانوں میں دنیا بھر میں فروخت ہورہی ہیں) ہم میں سے اگر کوئی جماعت اسلامی کی نشستوں یا جلسہ گاہ کی طرف چلا بھی جاتا تو وہ ہمیں برا بھلا کہتے تھے اور منع کرتے تھے۔ ڈانٹتے تھے۔ اب ہم ان کے حواریوں کی جماعت اسلامی چلارہے ہیں بہت قریب سے دیکھتے ہیں ان کا کردار تو ایسا ہے کہ ہمیں مرتد قرار دیں گے۔ ہم ان سے (مولانا مودودی مرحوم سے) اکثر پوچھتے تھے کہ وہ ایسے دھوکہ باز اور جنونی لوگوں کی مدد سے کیسے اسلامی انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ ان لوگوں کو جو ان کے ربط میں آئے تھے استعمال کرتے تھے لیکن اپنی عمر کے آخری حصے میں انہوں نے (مولانا مودودی مرحوم نے) اپنی اس دوا کا ذائقہ خود چھکا حسب مولانا مودودی مرحوم قریب المرگ تھے تو ان کے حواریوں نے ان کو کوڑا کرکٹ ہی سمجھا۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کے صاحبزادے کے ان خیالات سے کم از کم اتنا ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا مودودی ملک عزیز میں اسلامی انقلاب آخر کیوں برپا نہ کرسکے؟ اور تو اور وہ اور ان کی جماعت اسلامی کے لوگ پاکستان میں اسلامی اخوت و یگانگت کی روح بھی عوام میں پیدا نہیں کرسکے۔ آخر اس کی کچھ تو وجہ ہو گی؟ کچھ تو ماجرہ ہوگا….؟

آپ بھی سوچیئے، میں بھی سوچتا ہو ….!

Leave A Reply

Your email address will not be published.