Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

نئے مشرق وسطی کا آغاز

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جیریمی بوون

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے سنگ میل معاہدوں کو ’نئے مشرق وسطی کا آغاز‘ کہہ کر خوش آمدید کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاو¿س میں دونوں خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں کہی۔سنہ 1948 میں اسرائیل کے وجود کے آنے کے بعد یہ دونوں خلیجی ریاستیں اسے تسلیم کرنے والے تیسرے اور چوتھے عرب ممالک ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی ان کی پیروی کریں گے لیکن فلسطینیوں نے زور دیا ہے کہ باقی ممالک ایسا نہ کریں۔واضح رہے کہ بیشتر عرب ریاستوں نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کر رہا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ اس تنازعے کے حل کے بعد ہی تعلقات قائم کریں گے۔منگل کے روز وائٹ ہاو¿س میں ان معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’کئی دہائیوں کی تقسیم اور تنازعے کے بعد ہم ایک نئے مشرق وسطی کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔‘
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ’یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘لیکن فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں سے صرف اسرائیلی انخلا ہی مشرق وسطی میں امن قائم کر سکتا ہے۔ان معاہدوں کی دستخط کے بعد ایک بیان میں محمود عباس نے کہا: ’خطے میں امن، سلامتی اور استحکام اسرائیلی قبضہ ختم ہونے تک حاصل نہیں ہو گا۔‘دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اس وقت اسرائیل میں دو راکٹ فائر کیے گئے جب یہ تقریب جاری تھی۔
یہ معاہدہ امارات کے لیے کافی مدد گار ہوگا جس نے نہ صرف خود کو ایک عسکری طاقت بنایا بلکہ کاروبار اور سیاحت کا مقام بھی بنایا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ کروانے کے لیے متحدہ عرب امارات کو وہ جدید ہتھیار فروخت کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ماضی میں وہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ ان میں ایف 35 سٹیلتھ لڑاکا طیارہ اور ای اے 18 جی برقی جنگی طیارہ شامل ہیں۔متحدہ عرب امارات پہلے ہی جدید اسلحے سے لیس اپنی فوج کو یمن اور لیبیا میں استعمال کر رہا ہے۔ مگر اس کا سب سے بڑا ممکنہ دشمن ایران ہے جو کہ خلیجِ فارس کے دوسری طرف ہے۔اسرائیل اور امریکہ دونوں کو ہی ایران پر شکوک ہیں۔ اور ایسی ہی رائے بحرین کی ہے۔ 1969 تک تو ایران بحرین پر علاقائی دعویدار رہا ہے۔امارات اور بحرین نے پہلے ہی اپنے اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی تعلقات کو کچھ زیادہ چھپا کر نہیں رکھا تھا۔ اب دونوں کھل کر تجارت کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اسرائیل میں دنیا کا جدید ترین ٹیکنالوجی سیکٹر موجود ہے۔اور کووڈ کے دور سے پہلے اسرائیلی سیاحت کا بہت شوق رکھتے ہیں اور انھیں یقیناً خلیجی ممالک کے صحرا، ساحل اور شاپنگ سنٹرز کافی پرکشش لگیں گے۔ اس میں ہر کسی کا فائدہ ہے۔
بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری اسرائیلیوں کے لیے اہم کامیابی ہے۔وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اس لائحہِ عمل پر یقین رکھتے ہیں جسے 1920 کی دہائی میں’ آئرن وال‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے تحت اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ اسرائیل کو اس قدر مضبوط بنا دیا جائے کہ عربوں کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہو سوائے اس کے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔اسرائیلیوں کو مشرقِ وسطیٰ میں تنہائی پسند نہیں ہے۔ مصر اور اردن کے ساتھ امن معاہدوں میں گرم جوشی نہیں تھی۔ مگر وہ یروشلم سے بہت دور خلیجی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے حوالے سے زیادہ پرامید ہو سکتے ہیں۔ایران کے خلاف میں بھی ان کب بڑآ فائدہ ہے۔ وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو ایران کو اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور کبھی کبھی تو ان کا موازنہ نازیوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسرائیل نے اب متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہتھیار خریدنے پر اعتراضات بھی کم کر دیے ہیں۔وزیراعظم خود بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی کورونا وائرس کے حوالے سے پالیسی آغاز میں بہت اچھی رہی مگر اب اسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یروشلم میں آئے روز ان کے خلاف ریلیاں ہو رہی ہیں۔ وائٹ ہاو¿س میں ایک تقریب کے لیے اس سے بہتر اور کوئی وقت نہیں تھا۔
یہ معاہدے صدر ٹرمپ کے لیے بھی کئی اعتبار سے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ ایران پر دباو¿ بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔ ادھر انتخابات کے سال میں یہ معاہدے اس دعوے کے لیے فائدہ مند ہیں کہ وہ دنیا کے بہترین معاہدہ ساز ہیں۔ان کا کوئی بھی اقدام جو اسرائیل اور خاص طور پر بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کے مفاد میں جائے اس سے امریکہ میں ایونجلیکل فرقے کے عیسائی ووٹروں کو مطمئن کرنے میں مدد ملے گی جن کی اکثریت صدر ٹرمپ کی حامی ہے۔ایران مخالف ‘فرینڈز آف امریکہ’ نامی اتحاد اب بہترین انداز میں کام کر سکے گا جب عرب ممالک خفیہ طور پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر اسرائیل کے ساتھ کام کر سکیں گے۔صدر ٹرمپ جسے ’ڈیل آف دی سنچری‘ کہتے ہیں، یعنی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن، تو وہ معاہدہ ابھی نہیں ہو سکے گا۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کو ’ابراہم ایکارڈ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے ٹرمپ کے وائٹ ہاو¿س کی جانب سے خارجہ پالیسی میں ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔انھوں نے ’ابراہم ایکارڈ‘ کہلانے والے اس معاہدے کو اپنے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے عربوں کا وہ طویل اتفاق رائے ٹوٹ گیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی قیمت فلسطین کی آزادی تھی۔اور اب اسرائیل عرب ریاستوں کے ساتھ نئے تعلقات مضبوط کر رہا ہے جبکہ فلسطینی اب بھی مشرقی یروشلم میں اور مغربی کنارے پر اسرائیل قبضے میں مشکلات کا شکار ہیں اور غزہ میں گویا کھلے قید خانے میں جی رہے ہیں۔ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید النہیاں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے عوض اسرائیل نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے عمل کو روکنے کا وعدہ کیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بظاہر اس ارادے سے ویسے بھی پیچھے ہٹے ہوئے ہیں، کم از کم فی الوقت، کیونکہ ان پر بین الاقوامی دباو¿ کافی زیادہ ہے۔متحدہ عرب امارات نے انہیں ایک راستہ تجویز کیا جو بصورت دیگر ان کے لیے ایک سیاسی بند گلی ثابت ہو سکتا تھا۔بحرین کے اس معاہدے میں شامل ہونے کے بعد اب فلسطینیوں کی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔یہ سب سعودی عرب کی توثیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ سعودی عرب ہی تھا جس نے عرب امن معاہدہ تحریر کیا تھا اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.