Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بے رحم دشمنوں کے جابرانہ اقدامات سے قومی بقاء کو خطرات لاحق ہیں ، محمود خان اچکزئی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سنجاوی :  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید محمد عثمان کاکڑ کے شہادت کی عظیم سانحہ پر پارٹی کے احتجاجی تحریک کے سلسلے میں سنجاوی بازار میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں سنجاوی کے عوام کا احتجاجی جلوس سول ہسپتال چوک سے مین بازار بوری روڈ سے ہوتا ہوا بائی پاس میدان تک پہنچا۔ جلوس کے اختتام پر بائی پاس میدان پر پارٹی کے چیئرمین جناب محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، ملی شہید عثمان کاکڑ کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ، پارٹی رہنماؤں عبدالرحیم زیارتوال،رضا محمد رضا، عبید اللہ جان بابت، یوسف خان کاکڑ، سردار حبیب الرحمن دمڑ نے خطاب کیا۔ اور سٹیج سیکرٹری کے ایم پی اے نصراللہ خان زیرے اورعبدالوہاب دمڑنے سرانجام دئیے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی اختر محمد نے حاصل کی۔ جناب محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں سنجاوی کے وطنپال عوام کو ملی شہید کی احتجاجی تحریک میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت پر عوام کو داد وتحسین پیش کیا۔انہو ں نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے عظیم سانحہ پر ہمارے احتجاجی جلسے روایتی جلسوں سے مختلف ہیں ان جلسوں کو قومی تحریک کے ایک عظیم رہنماء کی شہادت پر ہمارے عوام کے ساتھ قومی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے جرگوں کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون افغان ملت کے دشمنوں نے ملی شہید محمد عثمان کاکڑ پر اس لیئے سفاکانہ حملہ کیا کہ وہ اپنے غیور ملت کی قومی وحدت قومی تشخص کی بحالی اور اپنے محبوب وطن پر قومی اقتدار اور آزاد جمہوری افغانستان میں امن قائم کرنے کاعوامی اور پارلیمانی محاذوں پر انتہائی جرات اور بہادری کے ساتھ اپنا قومی مقدمہ پیش کرتے رہے۔ شاید ان کا خیال یہ تھا کہ پشتون افغان ملت کے اس بہادر رہنماء کی شہادت سے پشتون قومی تحریک کمزور ہوگی لیکن تمام دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ اس عظیم قومی رہنماء کی شہادت نے تمام پشتون افغان ملت کو قومی وحدت اور اتفاق کا شدید احساس دلایا اور قومی سیاسی تحریک کو بہت بڑی تقویت بخشی۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدت کی قومی محکومی اور بے رحم دشمنوں کی جابرانہ اقدامات کے باعث ہماری قومی عزت،قومی وجود کی بقاء کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔اس لیئے لازم ہے کہ ہماری ہماری تمام وطنپال جمہوری قوتیں اور ہمار ے بہادر عوام باہم متحد ومنظم ہوکر اپنی قومی عزت اور قومی بقاء کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کریں کیونکہ محکوم اور غلام قوموں کا خان سردار مْلا اور پیر باعزت نہیں ہوسکتا نہ ہی ان کی جان ومال کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ آج کے حالات میں پشتون افغان عوام کی جس بیدردی کے ساتھ قتل عام ہورہا ہے اور ان کے عزت وناموس کو جس طرح پائمال کیا جارہا ہے ایسا ہمارے ساتھ ہماری افتخارقومی تحریک میں کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔ ایسے حالات میں ہم اپنے عوام پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قوم اور وطن کا تحفظ ہم سب کا قومی اور دینی فریضہ ہے قومی اتحاد کیلئے لازم ہے کہ ہم آپس کی دشمنیاں ختم کریں۔ ہم اپنے علماء کرام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ قومی محکومی کے خاتمے کی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ خداوند تعالیٰ نے ہمیں تمام نعمتوں سے مالا مال ایک غنی وطن دیا ہے لیکن ہمارے عوام غربت اور ناداری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کروڑوں پشتون نوجوان اور بوڑھے دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے پردیس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ہمارے وطن کے بیش قیمت خزانوں پر غیروں کا قبضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ PDMکی پارٹیوں کی متفقہ رائے یہ ہیں کہ ہمارے ملک میں سول اتھارٹی ختم ہوچکی ہے اور تمام اداروں کا اختیار اسٹیبلشمنٹ نے غصب کر رکھا ہے۔ ملک کے سنگین بحرانوں کا خاتمہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم سیاست میں مداخلت کا خاتمہ کریں۔ ملی شہید کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ میرے والد ملی شہید محمد عثمان کاکڑ استعماری حکمرانوں سے ہمیشہ سوال کرتے رہے کہ اس ملک میں رائج قانون پشتون کیلئے کیوں نہیں۔ حکمران دوسروں کیلئے زندگی اور پشتونوں کیلئے موت کیوں چاہتے ہیں، پشتونوں کے زراعتی پیداوار کے مقابلے میں عین سیزن میں دوسرے ممالک سے وہی زراعتی اجناس کیوں درآمد کیئے جاتے ہیں، ہمارے قیمتی معدنیات غیروں کا الاٹ کرکے ہمیں کیوں مزدور بنانے پر مجبور کیا گیا ہے، جب ہمارے عوام بدترین دہشتگردی کا شکار بنتے ہیں تو انہیں شہید کی بجائے ہلاک یا جاں بحق کیوں کہا جاتا ہے۔ شہید عثمان لالا استعماری حکمرانوں سے یہ سوال کرتے رہے کہ اس ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بجائے تمام اختیارات اسٹیبلشمنٹ کے پاس کیوں ہے اور ہمارے حکمرانوں کو عدلیہ او ر میڈیا کی آزادی کیوں قبول نہیں؟اس ملک میں دیگر قوموں کو قومی صوبوں اور قومی تشخص کا حق حاصل ہے لیکن پشتونوں کو متحدہ قومی صوبے اور قومی شناخت سے کیوں محروم کیا گیا ہے۔ میرے شہید عثمان لالا کے سوالات کا حکمرانوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور میرے شہید لالا عوامی اور پارلیمانی محاذ پر جرات اور بہادری کے ساتھ پشتون افغان ملت کی متحدہ قومی صوبے پشتونخوا کے قیام، پشتونخوا وطن کے تمام قدرتی وسائل پر قومی حق ملکیت، محکوم پشتونخوا وطن اور آزاد وجمہوری افغانستان میں دہشتگردی جارحیت اور مداخلت کی جنگوں کا خاتمہ، ملک کے محکوم اقوام کی برابری وخودمختاری، جمہوری فیڈریشن کی تشکیل، آئین وقانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی جیسے برحق مطالبات پر زور دیتے رہے۔استعماری حکمرانوں کے پاس ملی شہید لالا کی زبان بندی کا کوئی علاج نہ تھا کیونکہ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے نہ کوئی اس کو خرید سکتا تھا اور نہ کوئی اسے بلیک میل کرسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جابر حکمرانوں نے میرے عظیم لالا پر سفاکانہ حملہ کرکے ان کو شہید کیا۔ وہ تو لالا شہید کو گمنامی کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے تھے لیکن پشتون افغان غیور ملت،اس ملک کے محکوم اقوام ومظلوم عوام، خطے اور دنیاکے کروڑوں عوام نے میرے شہید لالا کو عظیم ملی شہید قرار دیکر ان کو محبت واحترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرکے ان کا حق ادا کیا ہے جس پر ہم ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے وطن پال عوام اور باشعور نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے وطن کی قومی شہدا کی قومی ارمانوں کی تکمیل اور قومی محکومی سے نجات کیلئے قومی سیاسی تحریک میں شامل ہوکر ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہوجائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.