Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

راہِ اجل: چمن کراچی قومی شاہراہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کیا آپ یقین کریں گے کہ صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی کے مقابلے میں زیادہ اموات شاہراہوں پر ہونے والے ہولناک حادثات سے ہوتی ہیں؟ جی ہاں یہ بالکل سچ ہے، جس کی مثال ہے چمن کراچی شاہراہ، جو اب خونی شاہراہ بن چکی ہے۔

عظیم بلوچستان جہاں دنیا بھر کے غیرمعمولی خزانے موجود ہیں لیکن رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے میں بنیادی انفرااسٹرکچر ہنوز ایک خواب ہے۔ اگرچہ یہ شاہراہ پاکستان کے دو بڑے تجارتی شہروں چمن اور کراچی کو باہم ملاتی ہے لیکن اس کے چپے چپے پر جان لیوا حادثات رونما ہوچکے ہیں۔

اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ قومی شاہراہ پاکستان و افغانستان کے درمیان تجارتی راستہ بھی ہے اور ماضی قریب میں اسی  راہ  سے نیٹو  افواج کی رسد بھی جاری رہی تھی۔ چمن اور کراچی کے درمیان کئی چھوٹے بڑے شہر آتے ہیں، جن میں  قلعہ عبداللہ، پشین، کوئٹہ مستونگ، منگچر، قلات، سوراب، خضدار، وڈھ، اوتھل، لسبیلہ اور صنعتی شہر حب شامل ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں بڑی چھوٹی گاڑیاں اس پر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹل ، ریسٹورینٹ اور  پٹرول پمپ اسی شاہراہ پر واقع ہیں۔ گویا اس راہ سے ہزاروں گھروں کا چولہا جل رہا ہے۔

لیکن یہی شاہراہ لاتعداد افراد کی موت کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔ اب تک سیکڑوں گھر اجڑ چکے ہیں، ہزاروں بچے یتیم ہوگئے۔ کئی مائیں اپنے لخت جگر سے محروم ہوگئی ہیں، تو کئی بہنیں اپنے بھائیوں کو کھوچکی ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں بچے، بوڑھے، خواتین بھی اسی راہِ اجل کی بھیٹ چڑھ چکے ہیں۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران 280 افراد حادثات میں جاں بحق اور 300 زخمی یا معذور ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ کی بات کی جائے تو صرف خضدار اور اس کے نواح میں 30 سے 40 لوگ جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اگر ان حادثات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی کئی وجوہ سامنے آتی ہیں۔

راہِ اجل: چمن کراچی قومی شاہراہ

پہلی بات یہ کہ سواریاں چھوٹی ہوں یا بڑی، ان کی ڈرائیونگ میں احتیاط کا شدید فقدان ہے۔ پھر N25 پر خضدار ٹو بیلہ سیکشن پر موٹر وے پولیس نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ روڈ ایک سنگل روڈ ہے جسے دو رویہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مصروف شاہراہ ہونے کی بنا پر اس روڈ کو فوری طور پر دو رویہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے عوام ہر حکومت سے یہی تقاضا کرتے آئے ہیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کے دورۂ کوئٹہ پر عوام اسی خوشخبری کی توقع کررہے تھے لیکن افسوس کہ انہوں نے اسے دو رویہ بنانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

 

فوری طبی مراکز کی ضرورت

اس شاہراہ پر شعبہ حادثات  کا ہونا لازمی ہے، اگر شاہراہ  پر حادثہ ہو بھی جائے تو اسپتال تک پہنچتے پہنچتے زخمی لقمہ اجل بن جاتا ہے۔ دوسری طرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرانے کےلیے کوئی بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سڑک کی نگرانی موٹر وے پولیس خود کرتی۔ مگر بدقسمتی سے اس روڈ پر ہونے والے حادثات کے باوجود ایسا کوئی بھی خیال موٹروے پولیس کے کسی اعلیٰ عہدیدار کو اب تک نہیں آیا۔  پھر سڑک کی خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے خود لوگ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

ڈرائیور تیزرفتاری، اوورلوڈنگ، غلط اوورٹیکنگ، تیزرفتاری اور غفلت سے باز نہیں آتے۔ اگرچہ اس شاہراہ کو دو رویہ کرنے کے لیے کئی سو ارب درکار ہیں لیکن سی پیک کے فوائد بھی اسی وقت حاصل ہوں گے جب اس شاہراہ کو بین الاقوامی معیار کے تحت دورویہ بنایا جائے گا۔ لیکن اس ضمن میں انسانی جان کا خیال رکھنا ہوگا جو انمول ہوتی ہے۔

اگرچہ اس روڈ کی تعمیر کے لیے نجی سرمایہ کاری کا آپشن یعنی بلڈ آپریٹ ٹرانفسر (بی او ٹی) آپشن پیش کیا گیا ہے لیکن سادہ حساب کتاب سے بھی اتنے وسائل پیدا نہیں ہوسکیں گے جو بی او ٹی کو ممکن بناسکیں۔

میں ایک بار پھر وزیرِاعظم پاکستان اور مقتدر حلقوں سے دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.