Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سچن ٹنڈولکر کا کیریئر کے دوران انزائٹی، بے خوابی کا شکار رہنے کا انکشاف

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بھارتی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر نے کیریئر کے دوران انزائٹی (anxiety) اور بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے (insomnia) کا شکار رہنے کا انکشاف کیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سچن ٹنڈولکر نے بتایا کہ میچ سے ایک رات قبل اکثر انہیں نیند نہیں آتی تھی۔

سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے رنز بنانے والے بھارتی کرکٹر نے کہا کہ جب وہ سو نہیں پاتے تھے تو ٹی وی دیکھتے اور ویڈیو گیمز کھیلتے تھے۔

 

رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا سے بات چیت کے دوران سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ ‘میدان میں جانے سے بہت دیر قبل ہی میرے ذہن میں میچ شروع ہوجاتا تھا اور میری انزائٹی بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی’۔

سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ مجھے 10 سے 12 سال تک انزائٹی رہی اور میچ سے قبل کئی راتیں بے خوابی میں گزریں۔

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے مزید کہا کہ بعدازاں میں نے یہ قبول کرنا شروع کیا کہ یہ سب میری تیاری کا حصہ تھا۔

سچن ٹنڈولکر کا کہنا تھا کہ ‘اس کے بعد جب میں رات کو سو نہیں پاتا تو میں نے اس دوران خود کو پُرسکون کرنا شروع کیا، میں اپنے ذہن کو پُرسکون رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ایتھیلیٹس سمیت کرکٹرز کی ذہنی صحت ایک اہم موضوع بن گئی ہے خاص طور پر عالمی وبا کے دوران جب ان میں سے کئی کھلاڑیوں کو طویل دورانیے کے بائیو سیکیور ببلز سے گزرنا پڑرہا ہے۔

سچن ٹنڈولکر، جنہوں نے کرکٹ کے 24 سالہ انٹرنیشنل کیریئر کے 200 ٹیسٹ اور 463 او ڈی آئی کھیلے، نے اس حوالے سے کہا کہ سب سے پہلے یہ قبول کرنا ضروری ہے کہ کوئی مسئلہ موجود ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ‘جب کوئی چوٹ لگتی ہے تو ڈاکٹرز آپ کا معائنہ کرتے ہیں اور تشخیص کرتے ہیں، ایسا ہی ذہنی صحت کے معاملے میں ہوتا ہے’۔

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارتی کرکٹ لیجنڈ نے کہا کہ ‘کسی کو بھی زندگی میں اتار چڑھاؤ سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ عام بات ہے اور جب آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو آپ کو اپنے اردگرد موجود لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس حوالے سے کلیدی چیز مسئلے کو قبول کرنا ہے، نہ صرف کھلاڑی کے لیے بلکہ اس کے گرد موجود لوگوں کے لیے بھی، ایک مرتبہ جب آپ قبول کرلیتے ہیں تو پھر آپ حل تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں’۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.