Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

عالمی وبا کے دوران دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی دولت ’دگنی ہو گئی‘

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بین الاقوامی ادارے آکسفم کے مطابق کووڈ 19 کی عالمی وبا نے دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں مزید اضافہ کیا لیکن اسی دوران ایسے لوگوں کی تعداد میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

آکسفم کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ دنیا کے غریب ترین افراد کی کم آمدن روزانہ کی بنیاد پر 21 ہزار افراد کی موت کا سبب بنی، مگر دوسری جانب مارچ 2020 (کورونا کے آغاز کے بعد) سے دنیا کے دس امیر ترین افراد کی مجموعی دولت دگنی ہو گئی۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے قبل آکسفم معیشت میں عالمی عدم مساوات پر اپنی رپورٹ جاری کرتا ہے۔

اس اجلاس میں دنیا بھر سے سیاسی رہنما، معاشی ماہرین، صحافیوں سمیت مختلف اہم شخصیات سوئٹزرلینڈ کے سکی ریزورٹ میں جمع ہوتے ہیں، جہاں پینل مباحثوں، پارٹیوں اور ہلکے پھلکے ماحول میں بات چیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تاہم یہ دوسرا برس ہے کہ اس اجلاس کو آن لائن منعقد کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کا تیزی سے پھیلنا ہے۔

رواں ہفتے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں عالمی وبا کے مستقبل اور ویکسین کی منصفانہ تقسیم پر بات چیت ہو گی۔

ایلون مسک

آکسفم کے چیف ایگزیکٹیو ڈینی سرسکندراجا نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ ہر سال ڈیووس میں اجلاس منعقد ہونے سے پہلے یہ رپورٹ مرتب کرتا ہے تاکہ دنیا بھر کے معاشی، کاروباری اور سیاسی طبقے کی توجہ حاصل کی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس برس جو ہو رہا ہے وہ ہٹ کر ہے۔ اس وبا کے دوران تقریباً ہر روز کوئی نیا ارب پتی بنا جبکہ دنیا کی بقیہ 99 فیصد آبادی لاک ڈاؤن، کم ہوتی بین الاقوامی تجارت اور سیاحت کی وجہ سے بدتر حالات میں مبتلا رہی جس کے نتیجے میں دنیا کے مزید 160 ملین سے زیادہ افراد غربت میں جا گرے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے معاشی نظام میں کچھ بہت غلط ہے۔‘

آکسفم نے اپنی رپورٹ میں امریکی جریدے فوربز کے جن اعدادوشمار کا حوالہ دیا ہے، ان کے مطابق دنیا کے دس امیر ترین افراد میں ایلون مسک، جیف بیزوس، برنارڈ ارنالٹ اور ان کا خاندان، بل گیٹس، لیری ایلسن، سرگئی برن، مارک زکربرگ، سٹیو بالمر اور وارن بفیٹ شامل ہیں۔

مجموعی طور پر ان سب کی دولت 700 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.5 کھرب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس میں ایلون مسک کی دولت میں ایک ہزار فیصد جبکہ بل گیٹس کی دولت میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

لائن

آکسفم اعدادوشمار کیسے جمع کرتا ہے؟

آکسفم کی رپورٹ امریکی جریدے فوربز کی ارب پتی افراد کی فہرست اور انویسٹمنٹ بینکنگ کمپنی ’کریڈٹ سوئسی‘ کی عالمی دولت کی رپورٹ کے اعدادوشمار پر مشتمل ہوتی ہے۔

فوربز کے سروے میں کسی فرد کے اثاثوں کی قیمت، خاص طور پر جائیداد اور زمین جبکہ قرضوں کو نکال کر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کوئی شخص کتنی دولت کا مالک ہے۔ ان اعدادوشمار میں اجرت یا آمدن کو شامل نہیں کیا جاتا۔

اس طریقہ کار کو ماضی میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طالب علم جس کے پاس زیادہ قرض ہے لیکن مستقبل میں وہ زیادہ کمانے کی صلاحیت ہے، اسے اس طریقہ کار کے تحت غریب سمجھا جائے گا۔

آکسفم کا یہ بھی کہنا ہے کہ وبائی امراض کے دوران قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے، اس نے افراط زر کو امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا استعمال کرتے ہوئے ترتیب دیا ہے، جس سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کی قیمت میں کتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

لائن

آکسفم کی اس رپورٹ کے مطابق، جس میں بہت سے اعدادوشمار عالمی بینک سے بھی حاصل کیے گئے ہیں، صحت کے مراکز تک رسائی میں کمی، بھوک، صنفی بنیادوں پر تشدد اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے عوامل کی وجہ سے ہر چار سیکنڈ میں ایک شخص کی موت ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد یومیہ 5.50 ڈالر کمانے والوں کی تعداد میں 160 ملین افراد کا اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ عالمی بینک اعلیٰ متوسط ​​آمدنی والے ممالک میں غربت کی پیمائش کے لیے یومیہ 5.50 ڈالر آمدن کا پیمانہ استعمال کرتا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ:

  • وبائی مرض ترقی پذیر ممالک میں قرضوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی اخراجات میں کمی پر بھی مجبور کر رہا ہے
  • دنیا میں صنف کی بنیاد پر عدم مساوات میں اضافہ ہوا اور سنہ 2019 کے مقابلے میں اب کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں ایک کروڑ 30 لاکھ کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ دو کروڑ لڑکیاں کبھی سکول واپس نہ جانے کے خدشے کا شکار ہیں
  • عالمی وبا کی وجہ سے نسلی اقلیتی گروہ شدید متاثر ہوئے، جن میں برطانیہ میں رہنے والے بنگلہ دیشی اور امریکہ کی سیاہ فام آبادی شامل ہے
لڑکیاں، تعلیم، سکول

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

آکسفم کے چیف ایگزیکٹیو ڈینی سرسکندراجا کا کہنا ہے کہ ’حتیٰ کہ عالمی بحران کے دوران بھی ہمارا غیر منصفانہ معاشی نظام امیر کو امیر تر کرتا رہا لیکن غریب افراد کو تحفظ نہیں دے سکا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے پاس اب یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ ’ہم جس خطرناک راستے‘ پر ہیں، وہ اسے ’تبدیل کرنے کے لیے‘ جرات مندانہ معاشی حکمت عملیوں کی حمایت کریں۔

ڈینی سرسکندراجا نے مزید کہا کہ ’اس مقصد کے لیے مزید ترقی پسند حکومتیں شامل ہونی چاہیے، جو سرمائے اور دولت پر زیادہ محصولات عائد کریں جبکہ آمدن کو معیاری صحت اور سماجی تحفظ پر خرچ کیا جائے۔

اس کے علاوہ آکسفم کووڈ 19 ویکسین کے ملکیتی حقوق کے خاتمے پر بھی زور دے رہا ہے تاکہ اس کی پیداوار اور تقسیم کو بڑھایا جا سکے۔

رواں ماہ کے آغاز میں ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے بڑھتی عالمی عدم مساوات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افراط زر کے اثرات اور اس سے نمٹنے کے اقدامات بھی غریب ممالک کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسا نظر آ رہا ہے کہ کمزور ممالک کو مزید پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔‘

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.