Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سنہ 2018 ءکے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی: حافظ حسین احمد

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کو ئٹہ(آئی این پی)جمعیت علما اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماﺅں کے بیانیہ اور عمل میں فرق ہے،ان ہاس تبدیلی کی باتیں بعض اپوزیشن رہنماﺅں کے اپنے ہی بیانیے کے خلاف ہے، کل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن کوروایتی انداز سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہونگے۔ بدھ کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا یہی موقف ہے کہ 2018 کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی اور یہ حکومت دھاندلی کے ذریعے قوم پر مسلط کی گئی ہے لیکن اس بیانیے اور موقف پر دو سالوں کے دوران میدان میں صرف جے یو آئی ہی نظر آئی جے یو آئی کی طرح اگر اپوزیشن کی تمام جماعتیں میدان میں نکلتیں تو آج حالات مختلف ہوتے، جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں بیانیے پرتو متفق ہیں لیکن اب عملی میدان میں بھی تمام جماعتوں کو متفق ہو نا ہوگاتاکہ اس حکومت کو گھر بھیجا جاسکے اگراپوزیشن جماعتیں کسی متفقہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہوں گی تو حکومت کا یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں اس لیے اس بار کل جماعتی کانفرنس میں روایتی انداز سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماءان ہاﺅس تبدیلی کی باتیں کررہے ہیں جوکہ اپوزیشن جماعتوں خصوصا مسلم لیگ ن کے اپنے ہی بیانیے ووٹ کو عزت دوکے خلاف ہے کیوں کہ ان ہاس تبدیلی کا مطلب اس اسمبلی کو جائز قرار دینا ہوگا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2018 کے انتخابات ٹھیک ہوئے تھے، جے یو آئی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن ناجائز قراردے چکی ہے تو ان ہاس تبدیلی سے منتخب ہونے والی حکومت کو کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے درحقیقت ان ہاس تبدیلی کی باتیں اپوزیشن جماعتوں کے اپنے ہی بیانیے کے منافی ہے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما مصلحت اور مصالحت کا شکار ہوکر میثاق جمہوریت کے بجائے میثاق مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جے یو آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم توقع کرسکتے ہیں کہ اس بار کل جماعتی کانفرنس بارآوار ثابت ہوگی اور اپوزیشن جماعتیں ایک موقف اور ایک انداز سے میدان میں آئیں گی تاکہ اپوزیشن کا اتحاد برقرار رہے اور مسلط شدہ حکومت کو گھر بھیجا جاسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.