Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : زیادتی کیسز میں صرف سزائیں سخت کرنا مسئلے کا حل نہیں

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

گزشتہ چند دنوں سے پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے لے کر نجی محافل حتیٰ کہ پارلیمان کے ایوانوں تک ہر جگہ موٹروے زیادتی کیس کی صدائے بازگشت شدومد سے سنائی دے رہی ہے جہاں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کڑی سزادینے کا مطالبہ کررہے ہیں وہاں ان دنوں ایک بار پھر یہ بحث بھی زور پکڑرہی ہے کہ زیادتی کے کیسوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر زیادتی واقعات میں پہلے سے متعین سزائیں مزید سخت کردی جائیں تاکہ اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جاسکے اور ان واقعات کی راہ روکی جاسکے موٹروے زیادتی کیس سے متعلق گزشتہ دو تین دنوں کے دوران اہم پیشرفت ہوئی ہے ایک مرکزی ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق ملزم کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاہے کہ فرانزک رپورٹ میں ملزم شفقت کا ڈی این اے خاتون کے ڈی این اے سے میچ کرگیا ہے اور ملزم نے بھی اقرار جرم کرلیا ہے جس طرح پنجاب پولیس کی کوششوں سے ملزمان کی شناخت اور ملزم شفقت کی گرفتاری عمل میںآئی ہے اسی طرح مفرورملزم عابد کو بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کردیا جائے گا۔اس وقت نہ صرف موٹر وے واقعے کے مجرمان بلکہ مجموعی طو رپر جنسی جرائم کے خلاف قوانین میں ضروری ترامیم کی تجویز زور پکڑتی جارہی ہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی جنسی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی دینے بلکہ ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینی چاہئےوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس پر بہت صدمہ ہوااس طرح کے سانحات صرف پولیسنگ سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے دیگر پہلو بھی ہیںاس طرح کے واقعات کے انسدادکے لئے ملوث عناصر کا ریکارڈ مرتب کرنے اور سخت سزاﺅں کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے پورے معاشرے کو ان کی روک تھام کے لئے مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔قانون سازی کا جہاں تک تعلق ہے تواس بابت سینیٹ میں ایک قانون بھی پیش کیا گیا ہے جس میں خواتین اوربچوںکے ساتھ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم سزا کے طور پر تادم مرگ قید کی تجویز دی گئی ہے۔ اخباری اطلاعات او رمیڈیا رپورٹس کے مطابق بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ریپ کے کیسز میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ ایسے معاملات میں تیز تر انصاف کے لئے، ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کی بھی تجویز دی گئی ہے یہ قانون مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا ہے وفاقی کابینہ کے اراکین نے بھی اس حوالے سے موثر قانون سازی اور قوانین پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اس حوالے سے تفصیلی بحث ہوئی ہے گو کہ حسب سابق یہاں بھی مشاہدے میں یہ بات آرہی ہے کہ سانحے پر اظہار خیال سیاسی رنگ میں رنگا ہوتا ہے تاہم چونکہ اس افسوسناک سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس لئے پوری قوم نہ صرف غمزدہ اور افسردہ ہے بلکہ یہ مطالبہ بھی زور پکڑرہا ہے کہ ایسی حکمت عملی بنائی جائے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کی بدولت اس نوع کے واقعات کی راہ روکی جاسکی قومی اسمبلی کی طرح سینٹ میں بھی اس واقعے کی گونج سنائی دی ہے اوارسینیٹ اراکین نے بھی جنسی زیادتی کے مرتکب مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں موٹر وے زیادتی کیس بھی زیر بحث آیا ہے سرعام پھانسی دینے کے مطالبے کی بیشتر حکومتی اراکین نے بھی حمایت کی ہے دوسری جانب سینیٹر رضا ربانی نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ سرعام پھانسی دینی ہے تو آئین کا آرٹیکل 12 پڑھ لیں۔ ضیاالحق نے سرعام پھانسی دی کیا گینگ ریپ ختم ہوئے؟انہوں نے کہا کہ جنسی زیادتی کا حل قانون کی عملداری ہے سرعام پھانسی نہیں۔۔ استغاثہ، ثبوت اور گواہ مضبوط ہو تو سزا ضرور ملتی ہے۔ رشوت دیکر چھٹکارے کی گنجائش نہ ہو تبھی انصاف ممکن ہے لیکن جہاں مک مکا اور غریب کے لیے قانون ہو وہاں انصاف کا حصول مشکل ہوتا ہے۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں جہاںمسلم لیگ(ن) نے بھی سرعام پھانسی کی حمایت کی وہاں پاکستان پیپلزپارٹی نے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی ہے۔ پیپلزپارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ قوانین میں ہر جرم کی سزا موجود ہے۔قومی اسمبلی میں سرعام پھانسی کی تجویز پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ شیریں مزاری نے کہا پھانسی کی سزا پر سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ بہت سے ممالک میں ایسی سزائیں دی گئی ہیں مگر جرائم نہیں رکے۔پاکستان میں گو ناکارہ بنانے کی سزا عجیب سی معلوم ہوتی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا کے بعض ایسے ممالک ہیں جہاں پہلے سے یہ سزاءرائج ہے مثال کے طو رپر انڈونیشیا ، چیک اور یوکرائن میں یہ سزا نافذالعمل ہے بتایاگیا ہے کہ نائیجیریا میں بھی اسی نوع کی سزا منظور ہوئی ہے تاہم اس کی توثیق ابھی نہیں ہوئی ہمارے قریبی ہمسایہ ملک چین میں جنسی زیادتی کی سزا موت ہے شمالی کوریا میں بھی ایسے مجرموں کو گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور سعودی عرب میں اس نوع کے مجرموں کے سرقلم کردیئے جاتے ہیں جبکہ اکثر ممالک ایسے ہیں جہاں اس نوعیت کے جرائم میں ملوث مجرمان کو قید کی سزائیں دی جاتی ہیں البتہ بات اگر وطن عزیز پاکستان کی کریں تو یہاں اس امر میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ جنسی جرائم کے تدارک کے لئے پہلے سے متعین سزاﺅں میں مزید سختی لائی جائے اورسزائیں اتنی کڑی کردی جائیں کہ آئندہ مجرمان سزاءکے ارتکاب سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض دیگر حقائق کو بھی مد نظر اور ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا مثال کے طو رپر بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد دیکھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے اکیسویں صدی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے باقی دنیا بھلے مثبت اور تعمیری کام لے رہی ہو لیکن ہمارے ہاں عام عوام کی ایک غالب اکثریت ایسی ہے جو انٹر نیٹ کو اپنی ادھوری خواہشات کی تسکین کے لئے بروئے کار لاتی ہے موٹروے ریپ کیس سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں ایسے کتنے مردوخواتین ہیں جن کی شادیاں فرسودہ رسوم و رواج کی وجہ سے نہیں ہوپارہیں معاشرتی تنزلی کی یہی تو علامات ہوتی ہیں اب ایسے حالات میں ہمیں وزیراعظم عمران خان کی تجویز سے انکار ہے او رنہ ہی ہمارا ایوان بالاکے اراکین کے مطالبات سے کوئی اختلاف ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ بے شک سزائیں سخت کریں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر حقائق کو بھی نظر انداز مت کریں انٹر نیٹ پر غیر اخلاقی مواد کی فراوانی ختم کریں معاشرے میں جا بجا موجود فرسودہ روایات اور رسوم و رواج کا خاتمہ کریں صرف سزائیں تجویز اور رائج ہی نہ کریں بلکہ انصاف کی فوری فراہمی بھی یقینی بنائیں ورنہ اس نوع کے واقعات جنم لیتے رہیں گے ہم چند دنوں کے لئے میڈیا ہاﺅسز کے پرائم ٹائم میں بیٹھ کر مباحث کرتے رہیں گے اور اگلے واقعے کا انتظار کریں گے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جرائم کے تدارک اور خاتمے کے لئے ہمہ گیر اقدامات اٹھائیں اورکسی بھی پہلو کو نظر انداز کریں تاکہ اس طرح کے واقعات کی راہ روکی جاسکے اور جرائم کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.