Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سپریم کورٹ دہشتگردی کے مجرموں کو معافی دینے پر اسلامی اسکالرز سے مشاورت کرے گی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ طور پر اس بات کا تعین کیا جانا ہے کہ کیا دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ قیدیوں کو معافی دینے کا استحقاق یا بنیادی حق ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ فساد فل ارض کے حقیقی معنی کو سمجھنے کے لیے عدالت کے دوست کی حیثیت سے مذہبی ماہر قانون سے مدد حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسلامی اسکالرز کے ناموں کا فیصلہ عدالت بعد میں کرے گی اور دو ہفتوں کے بعد یہ کیس دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

اسلامی اسکالرز کی مدد حاصل کرنے کا خیال بینچ کے سامنے اس وقت آیا جب پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاسم علی نواز چوہان نے سماعت کے دوران سورۃ مائدہ سے آیت نمبر 33 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ‘ان کی بھی یہی سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے’۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت سزا پانے والے مجرموں کے حق میں متعلقہ اعلی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خوا کی طرف سے متعدد اپیلیں دائر کی گئیں۔

جس سوال پر فیصلہ ہونا ہے وہ یہ ہے کہ کیا انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت مجرم قرار پائے جانے والے قیدیوں کو معافی ملنی چاہیے، خاص طور پر 2001 میں اس ایکٹ کے سیکشن 21-ایف میں ترمیم کے بعد؟۔

سیکشن 21-ایف معافی سے متعلق ہے اور اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ سہولت کسی بچے کے علاوہ ان افراد کے لیے میسر نہیں جنہیں اس ایکٹ کے تحت کسی بھی جرم میں سزا سنائی گئی۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال، جو بینچ کے ایک رکن بھی ہیں، نے مشاہدہ کیا کہ حقوق ایسی چیز ہے جس کا تحفظ کیا گیا ہے تاہم اصل سوال یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم مجرم کی اصلاح کے لیے کوئی نقطہ نظر اختیار نہیں کریں گے یا اس کے لیے سارے دروازے بند کردیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.