Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیا بائیڈن صدارت پاکستان کے لیے سود مند ہوگی؟ : عاقل ندیم

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں اب تک رائے عامہ کے تجزیوں سے لگتا ہے کہ شاید صدر ٹرمپ یہ انتخاب ہار جائیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن نئے صدر منتخب ہو جائیں گے۔

پاکستان کے امریکہ سے تاریخی طور پر اچھے تعلقات رپبلکن انتظامیہ کے دور میں رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک ادوار میں ہمارے تعلقات مشکلات کا شکار رہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے برعکس رپبلکن  پارٹی کو اس سے غرض نہیں تھی کہ پاکستان میں جمہوریت ہے یا آمریت۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی چاہے وہ جمہوری حکومت پوری کرے یا آمریت اس میں مددگار ہو۔اسی لیے پاکستان میں آمریت کے ادور میں اسلام آباد واشنگٹن کے بہت قریب رہا اور دونوں افغان جنگوں میں امریکہ کا قریبی ساتھی رہا۔ رپبلکن  دور میں ہی پاکستان نے امریکہ کو اپنے علاقے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی بےمثال سہولت فراہم کی۔ اس کے  بدلے میں رپبلکن  انتظامیہ نے پاکستان کی فراخدلی سے فوجی اور معاشی مدد کی۔

اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مختلف ادوار میں ہمارے امریکہ سے تعلقات کشیدگی اور مشکلات سے بھرپور رہے۔ انہیں ادوار میں پاکستان پر بہت ساری معاشی اور ایٹمی پابندیاں بھی لگائی گئیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی دنیا میں جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کی بالادستی پر زور دیتی ہے اور دوسرے ممالک سے تعلقات میں ان اہم آئینی قدروں کے احترام کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ انہی کے دور میں مختلف ممالک کو جمہوری قدروں کو پروان نہ چڑھانے پر معاشی اور فوجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان بھی اسی وجہ سے ڈیموکریٹک ادوار میں مختلف پابندیوں کا شکار رہا۔

انہیں جمہوری قدروں کی وجہ سے1999 کی بغاوت کے بعد صدر کلنٹن نے جنوبی ایشیا کے دورے میں پاکستان کے لیے صرف چند گھنٹے مختص کیے اور یہ بھی کوشش کی گئی کہ ان کی آمر جنرل مشرف کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے کوئی تصویر نہ کھینچی جائے۔ اس موقع پر پہلی دفعہ امریکی صدر نے پاکستانی عوام سے براہ راست ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے خطاب کیا جس میں جمہوریت کی بحالی کے علاوہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

کلنٹن نے پاکستانیوں کو باور کرایا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے تعلیم، صحت اور معاشی شعبوں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ کلنٹن کا دورہ اور پاکستانی حکومت کو لیکچر، پاکستان امریکی تعلقات کو ایک انتہائی پست درجے پر لے آیا۔ لیکن یہ تعلقات نائن الیون کے بعد پاکستان میں آمریت کے باوجود رپبلکن  صدر کے تحت ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گئے۔

اگر ہم تاریخ کو زیر نظر رکھیں اور بائیڈن انتخابات جیت جاتے ہیں تو ہمارے باہمی تعلقات میں ایک نئے مشکل دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جاری سیاسی پابندیاں، غیرجمہوری رویے، سیاسی کارکنوں کی گمشدگی، میڈیا پر پابندیاں، اپوزیشن کی پکڑ دھکڑ اور صحافیوں کے اغوا کے واقعات پر ڈیموکریٹک پارٹی اپنی واضح پوزیشن لے گی۔ کیونکہ صدر ٹرمپ کے دور میں ان معاملات پر دنیا بھر میں کوئی پوزیشن نہیں لی گئی جس سے امریکہ کے اتحادی ملکوں میں بھی مایوسی پھیلی۔

اس لیے بائیڈن انتظامیہ پچھلے چار سالوں کی امریکی غیردلچسپی کے مقابلے میں ان اہم معاملات پر زیادہ توجہ دے گی اور عالمی قیادت دوبارہ سنبھالنے کی کوشش کرے گی۔ اس نئی تبدیلی سے پاکستان بھی اس سلسلے میں مختلف درجوں کے دباؤ کا سامنا کر سکتا ہے۔

بائیڈن صدارت پاکستان کے لیے مثبت بھی ثابت ہوسکتی ہے اگر پاکستان میں شہری آزادیوں اور جمہوریت کو پنپنے دیا جائے۔ بائیڈن پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں اور بطور سینیٹر اور نائب صدر کئی دفعہ پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔ وہ بیشتر پاکستانی سیاسی رہنماؤں کو بھی ذاتی طور پر جانتے ہیں۔

انہیں پاکستان کی مدد کرنے، کیری لوگر بل میں اہم کردار ادا کرنے اور پاکستان میں جمہوریت کو تقویت دینے پر پاکستان کے اعلی ترین سول اعزاز ہلال پاکستان سے بھی نوازا گیا۔ کیونکہ بائیڈن سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے طویل عرصے تک رکن اور سربراہ بھی رہ چکے ہیں تو انہیں خارجہ امور کے معاملے میں اور خصوصا پاکستان کے بارے میں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

وہ کیری لوگر بل کے خالقوں میں سے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو 7.5 ارب ڈالرز کی غیرفوجی امداد دی گئی تھی۔ اور یہ امداد ڈیموکریٹک پارٹی کی جمہوری سوچ کے مطابق پاکستان میں سویلین اداروں کی مضبوطی اور سماجی شعبوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مختص کی گئی۔

بائیڈن افغانستان سے فوج واپس بلانے کے حق میں ہیں اور یہ نقطہ نظر پاکستان اور امریکہ کے لیے تعلقات آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ بائیڈن بطور نائب صدر ان چند رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے افغانستان میں فوج کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کی تھی۔

بائیڈن کے قریبی ساتھیوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ بائیڈن صدر منتخب ہونے کے بعد بھارت سے کشمیر کے مسئلے پر بات کریں گے اور وہاں پر حالیہ بھارتی اقدامات کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار بھی کریں گے۔  لیکن ہمیں اس سلسلے میں کوئی بڑی تبدیلی کی امید نہیں کرنی چاہیے۔

بھارت کی امریکہ کے لیے خطے میں بہت بڑی اہمیت ہے۔ یہ ایک بہت بڑی اقتصادی قوت بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی۔ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کی اشد ضرورت ہے اس لیے کشمیر کے معاملے میں شہری آزادیوں اور 5 اگست 2019 کے اقدامات میں تبدیلی کے لیے تو شاید بات ہو مگر اس سے زیادہ امریکہ کچھ بھی نہیں کرے گا۔

کیونکہ بائیڈن پاکستان کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں تو ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے تعلقات میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دانش مندی سے ہٹایا جائے۔ ٹرمپ کو پاکستان یا دوسرے ممالک میں شہری آزادیوں یا جمہوریت سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اس لیے یہ ہمارے تعلقات میں کچھ زیادہ دراڑ نہیں ڈال سکے۔  لیکن ڈیموکریٹک بائیڈن انتظامیہ ان معاملات پر اپنی اصولی رائے ضرور رکھے گی اور پاکستان پر اس سلسلے میں دباؤ جاری رہے گا۔

امریکہ سے تعلقات میں بہتری اور پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہاں جمہوری قدروں کو فروغ دیں، اپوزیشن کے ساتھ ناروا سلوک ترک کریں، معیشت پر توجہ دی جائے اور اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں کہ موجودہ حکومت جمہوری طرز عمل کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہی ہے۔

ہمارے ہاں ایک توانا جمہوریت، سویلین اداروں کی بالادستی ہمارے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات پر کافی مثبت اثر ڈالے گی۔ لیکن چونکہ غالب قیاس اس کے خلاف ہے کہ پاکستانی حکومت جمہوری بالادستی کے لیے اقدام اٹھائے گی تو ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن صدارت میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری یا گرم جوشی میں واضع اضافہ نہیں ہوگا۔ بلکہ شاید ایٹمی معاملات، دہشت گردی، شہری آزادیوں اور بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پاکستان پر امریکی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.