Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : اپوزیشن کی نئی صف بندی اور اس کے ممکنہ اثرات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

ملکی سیاسی منظرنامے پر گزشتہ کئی مہینوں سے اپوزیشن کی اس مجوزہ اے پی سی کی صدائے بازگشت جاری ہے جو اگرچہ تاحال منعقد نہیں ہوئی تاہم اس کے انعقاد کے لئے تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے یعنی بیس ستمبر کو یہ اے پی سی منعقد ہونے جارہی ہے جس کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے آپسی روابط اور میل جول کے ساتھ ساتھ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو بھی بالواسطہ آمادہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اس کا بین ثبوت جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مسلم لیگ(ق ) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ہونے والی وہ ملاقات ہے جس سے متعلق دونوں شخصیات کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں چوہدری شجاعت حسین کہتے ہیںکہ یہ ملاقات غیر سیاسی تھی جس میں سیاست کو چھوڑ کر ہر موضوع پربات ہوئی جبکہ مولانا فضل الرحمان کے بیان کا اگرچہ جائزہ لیا جائے تو یہ سرتاپا سیاسی ہے جس میں انہوںنے اس رائے کااظہار کیا ہے کہ اے پی سی میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھ کریہ طے کریں گی کہ حلوہ کتنا کھانا ہے ورنہ سارا حلوہ حکومت کھاجائے گی مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہائشگاہ پرملاقات کی اور انکی عیادت کی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماﺅں نے میڈیا سے الگ الگ گفتگو کی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اے پی سی کی تاریخ طے ہوچکی ہے، پیپلز پارٹی اس کی میزبان ہے۔انہوں نے کہا کہ بیس تاریخ کو اپوزیشن بیٹھ رہی ہے، طے کرنا ہے کتنا حلوہ کھانا ہے ورنہ سارا حکومت کھا جائے گی انہوںنے کہا کہ ملک میں بیروزگاری، مہنگائی عروج پر ہے، روپے کی قدر زمین بوس ہوچکی اور اب تو ملک میں عام خاتون کی عزت بھی محفوظ نہیں جبکہ چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات غیرسیاسی تھی ملاقات کے دوران سیاست کے سوا ہر موضوع پر بات ہوئی مجوزہ اے پی سی سے جڑی ایک خبر یہ بھی ہے کہ مریم نواز اس اے پی سی میں شریک نہیں ہوں گی بلکہ ان کی جگہ میاں شہباز شریف پارٹی کے وفد کے ہمراہ اے پی سی میں شریک ہوں گے د و دن قبل پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے ا ے پی سی میں شرکت کے لئے روابط کرنے کی خبریں آچکی ہیں جن کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کے لئے وفود تشکیل دے دیئے ہیں مسلم لیگ (ن) کا سات رکنی وفد شہباز شریف کی قیادت میں اے پی سی میں شرکت کرے گا جن میں شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف، احسن اقبال اور ایاز صادق بھی شامل ہو ں گی اسی طرح جے یوآئی کے وفد کی سربراہی مولانا فضل الرحمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے وفد کی قیادت میاں افتخار حسین ، نیشنل پارٹی کے وفد کی قیادت ڈاکٹر عبدالمالک بلو چ کریں گے حالیہ دنوں میں متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی بھی از سرنو فعال و متحرک ہوچکی ہے رہبر کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد کمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ حالات کے پیش نظر اے پی سی میں مزید تاخیر نہیں کر سکتے اکرم درانی نے کہا کہ اس وقت احتساب نہیں صرف اپوزیشن کوتنگ کیاجارہاہے۔ یہ منتخب نہیں سلیکٹڈحکومت ہے۔ حکومت کو ایک دن بھی دینا ملک کے ساتھ زیادتی ہوگی اے پی سی کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ان ہاوَس تبدیلی یا کچھ اور طریقہ کار اے پی سی میں طے ہوگا۔ ان کے بقول اپوزیشن کو تمام مسائل کا ادراک ہے۔ کوئی محبت وطن پاکستان کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا۔ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ پاکستان بلیک لسٹ ہو اب گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوںنے موجودہ حکومت کو ناکام ترین حکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو نعرے لگائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے اور حکومت کا سو دن کا پلان بھی فیل ہوچکا ہے آج سب سے بڑا صوبہ بد انتظامی کی مثال بن چکا ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جس ملک میں آئین کا احترام نہ ہو وہاں قانون کا کیا احترام ہو گا ؟جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے حکومت کو مشکل سے دوچار کرنے کے لئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی خبریں بھی آتی رہی ہیں شنید میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے درمیان ملاقات میں دونوں نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔یہ اتفاق رائے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں سامنے آیا تھا مذکورہ ملاقات میں دیگر ایشوز کے ساتھ ساتھ اس مسئلے پر بھی غور کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کوکس طرح سے کم کیا جاسکے شہباز شریف پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم تمام جماعتوں کو اکٹھا کرکے مشاورت کریں گے بعدازاں گزشتہ دنوں جب میاں شہباز شریف پی پی قیادت سے ملنے کراچی گئے تبھی سے یہ پیشکوئی کی جارہی ہے کہ جس طرح جے یوآئی اور مسلم لیگ(ن) ایک دوسرے کے قریب آچکی ہیں اسی طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی ماضی کی تمام تلخیوں کو فراموش کرکے ایک ہورہے ہیں تاہم سیاسی مبصرین جے یوآئی کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد کے اس بیان کو بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں جس میں انہوںنے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک اور اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس سے پہلے نواز شریف کو واپس آنا ہو گا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نواز شریف کی بیماری اور مسائل کا احساس ہے لیکن حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ ٹیلیفون یا خط کے ذریعے سے ممکن نہیں ہے۔حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ حکمران اور ان کے پشتی بان چاہتے ہیں کہ نواز شریف بیرون ملک رہیں اور خاموش رہیںان کا کہنا ہے کہ وطن کی فضا میں نواز شریف کے داخل ہونے سے ہی اکثر معاملات واضح ہو سکتے ہیں اور ان افواہوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے جن میں الزام ہے کہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مرکزی ترجمان جے یو آئی ف کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے بجائے میثاق مفاہمت کو اہمیت دی تو درست نہیں ہو گا، متحدہ اپوزیشن کے اتحاد کے لیے اے پی سی آخری موقع ہو سکتا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ ملک کے سیاسی منظرنامے پر اپوزیشن کی ا س کل جماعتی کانفرنس کے کیا اثرا ت مرتب ہوںگے تاہم ایک بات طے شدہ ہے کہ اس وقت ہمیں بحیثیت قوم اور بحیثیت معاشرہ جن مسائل ، مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لئے سیاسی قیادت کی سنجیدگی اور فہم و بصیرت شرط اول ہے محاذ آرائی کی سیاست کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے اور ملک و قوم کے مسائل ا س وقت تک حل نہیں ہوسکتے جبک تک اپوزیشن اور حکومت کی تخصیص ختم کرکے تمام سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد اور تعمیری اقدامات پر متفق نہیں ہوتیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.