Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

افغانستان میں قیام امن کیلئے آواز اٹھانے پر دشمنوں نے عثمان کاکڑ کو گھر میں گھس کا قتل کیا ، محمود خان اچکزئی کا جلسہ عام سے خطاب

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لورالائی  : پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری ملی شہید ملی اتل محمد عثمان خان کاکڑ کے ملی سانحہ پر احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج لورالائی میں پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں لورالائی کے عوام کا عظیم الشان احتجاجی جلوس نے ژوب روڈ اور تحصیل روڈپر میونسپلٹی پارک تک گشت کرتے ہوئے ملی شہید افغان شہید۔ عثمان شہید عثمان شہید، ملی شہید کے قاتلان۔ ریاستی دہشتگردان، ملی شہید کا ارمان۔ پرامن اورآزاد افغانستان، ملی شہید عثمان کاکڑ کو۔ سرخ سلام سرخ سلام کے فلگ شگاف نعرے لگائیں۔ جلوس میں احتجاجی جلوس میں پارٹی کے مرکزی وصوبائی قائدین اور ضلع لورالائی کے رہنماؤں اور کارکنوں اور ہزاروں عوام نے شرکت کی۔جلوس کے اختتام پر میونسپل فٹبال گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس سے پارٹی رہنماؤں نواب ایاز خان جوگیزئی، رضا محمد رضا، ملی شہید کے فرزند خوشحال خان کاکڑ، عبدالرحیم زیارتوال، عبید اللہ جان بابت، یوسف خان کاکڑ، سردار گل مرجان کبزئی، صفدر میختر وال نے خطاب کیا۔ جلسے کی قرارداد پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نصراللہ خان زیرے نے پیش کی جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مصطفی کمال نے ادا کیئے اور تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی نے حاصل کی۔ محمود خان اچکزئی نے پارٹی کے احتجاجی تحریک میں بھرپور انداز سے شرکت کرنے پر لورالائی کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی تحریک کے رہنماء عثمان خان کاکڑ کی شہادت ایک عظیم ملی سانحہ ہے اس ملی شہید کے تاریخی نماز جنازہ فاتحہ خوانی اور پھر پارٹی کے احتجاجی تحریک میں ہمارے عوام نے بھاری تعداد میں شرکت کرکے ہمارے دشمنوں پر واضح کردیا ہے کہ عثمان کاکڑ کی شہادت پر پشتون افغان ملت غمزہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کو اپنی قومی محکومی اور تباہ حالی کی تکلیف دہ صورتحال کا شدید احساس ہونے لگا ہے۔ شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت پر پشتونخوامیپ نے جو احتجاجی تحریک شروع کی ہے اسے ہمارے عوام کی مکمل تائید وحمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی کے عوام نے ہمیشہ قومی تحریک کی جدوجہد میں رہنماء کردار ادا کیا ہے، انجمن وطن کے دور میں باران خان کدیزئی کی رہنمائی میں لورالائی کے کارکنوں انڈیا چھوڑ دو تحریک میں انگریزوں کے خلاف گرفتاریاں پیش کی۔ اور لورالائی کے عوام نے خان شہید عبدالصمدخان اچکزئی کا بھرپور ساتھ دیا۔ ملی شہید عثمان خان کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے قومی حقوق واختیارات کے حصول اور قومی اقتدار کے قیام، قومی وسائل پر حق ملکیت قائم کرنے، ملک کے قوموں کی برابری اور ملک میں آئین کی حکمرانی اور افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے جرات مندانہ آواز اٹھائی جس پر ہمارے دشمنوں نے ان کے گھر میں گھس کر ان پر بہیمانہ حملہ کرکے انہیں شہید کیا۔ ملی شہید محمد عثمان کاکڑ نے اپنے تاریخی رول، قربانیوں اور قومی خدمات کی بناپر پشتون افغان ملت کے علاوہ ملک کے اقوام وعوام اور خطے کے ممالک میں عزت واحترام کا بلند وبالا مقام حاصل کیا۔ جب ملی شہید عثمان خان جیسے اہم قومی رہنماؤں کی برحق موقف ہمارے حکمرانوں کیلئے قابل برداشت نہیں تو پھر اس ملک میں ایک برابر اور خودمختیار قوم کی حیثیت سے پشتون افغان ملت کو عزت کی زندگی کیسے حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان کاکڑ جیسے اہم رہنماء کا بدلہ صرف چند افراد کو سزا دلانا نہیں ان کا حقیقی بدل پشتونوں کی حق حکمرانی اور پشتونخوا وطن کے قومی وسائل پر قومی اقتدار کا قیام ہے۔ ہم اپنے عوام سے یہ وعدہ لینا چاہتے ہیں کہ وہ قومی اہداف کے حصول کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔ ہمیں پشتونخوا وطن کے تمام عوام اورتمام جمہوری سیاسی پارٹیوں سے استدعا کی ہے کہ وہ ایک نمائندہ قومی جرگے میں اپنی قومی وجود کی بقاء،قومی حقوق واختیارات کے حصول اور اپنے خوشحال اور محفوظ مستقبل کے تعین کیلئے باہم ملکر متفقہ قومی فیصلے کریں۔ کیونکہ موجودہ حالات میں ہمارے غیور ملت اور ہمارے بہادر عوام کو بدترین غربت بیروزگاری اور معاشی تباہ حالی کے علاوہ جان ومال اور عزت اورناموس کی تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عظیم شہید عثمان کاکڑ کی شہادت کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایک ایسے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس پر ہم اعتماد کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ناقابل تردید بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلانی برگیڈیئرنے جن افراد کاHit Listمجھے حوالے کیا تھا اْس لسٹ میں عثمان کاکڑ کا نام شامل تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میں قابل اعتبار عدالت کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں۔ اگر ایسے عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے انصاف ملنے کا ہمیں اطمینان ہو تو ہم اس کو ملی شہید کی شہادت کے حوالے سے ثبوت وشواہد پیش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جرنیل ایک منتخب نمائندے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو قید وبند کی سزا دلا کر معافی لینے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، یہ وہ علی وزیر ہے جس کے والد بھائیوں سمیت خاندان کے تقریباً17افراد ریاستی دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔ ہم اپنے ملک اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ علی وزیر کے حق میں اپنا رول ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ وفاق اور صوبوں میں سول اتھارٹی ختم ہوچکی ہے تمام اداروں کے اختیارات فوجی چھاونیوں کے پاس ہے۔ ایسے حالات میں ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک ایسے مکینزم بنایا جائے جس کے تحت نمائندہ کانفرنس کا انعقاد ہو جس میں تمام اداروں کے نمائندے شریک ہوجائیں۔ اور جس میں یہ طے کیا جائے کہ یہ ہمارا ملک پاکستان فوج کیلئے بنا ہے یا فوج پاکستان کیلئے بنا ہے۔ اگر ہماری فوج پاکستان کیلئے ہیں تو اسے اْس حدود کا پابند کیا جائے جس کا تعین اس ملک کے آئین نے کیا ہے۔ ملی شہید کے فرزند خوشحال کاکڑ نے کہا کہ میرے والد شہید عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی پشتون افغان ملت کی آزادی وخودمختاری، تعلیم،صحت اور ترقی وخوشحالی کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ وہ اپنے قوم کی سربلندی چاہتے تھے اور اپنے محبوب وطن کے تمام قدرتی وسائل اور قومی نعمتوں وخزانوں پر اپنا قومی اختیار قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسا نظام چاہتے تھے جس میں عدل وانصاف، معاشرتی ترقی اور خوشحالی ہو۔ شہید لالا نے قوموں کی برابری،قومی حقوق واختیارات، ملک میں جمہوریت کے قیام اور آئین وقانون کی حکمرانی کی ہر جمہوری تحریک میں صف اول میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جب عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا مسئلہ پیش ہوا تو میرے شہید لالا نے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی میں سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ وہ سینٹ کے پسماندہ علاقوں کے کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے تمام قوموں کے پسماندہ علاقوں کی صورتحال پر ایک ایسا تاریخی رپورٹ سینٹ میں پیش کیا جس میں قوموں کے پسماندہ علاقوں کے تمام مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن استعماری حکمرانوں نے اْس کمیٹی کو ہی ختم کردیا۔ شہید لالا نے افغانستان میں ہماری ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی مسلط کرد جارحیت ومداخلت اور دہشتگردی کی جنگ کے خلاف موثر اور جرات مندانہ آواز بلند کیا۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار کی سخت مخالفت کی کیونکہ اس استعماری تار کے دونوں جانب ایک قوم کے قبیلوں وخاندانوں کے مابین رشتوں اور تعلقات کو قائم رکھنے میں سنگین مشکلات پیدا ہوگئے ہیں۔ ہمارے حکمران پنجابی رنجیت سنگھ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں لیکن پشتونوں کو احمد شاہ بابا کو پشتون افغان کا ہیرو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان کاکڑ تمام پشتون جمہوری سیاسی پارٹیوں کونیشنل ایجنڈے پر ہمیشہ زور دیتے رہے کہ وہ پشتون افغان ملت کو درپیش سنگین قومی مسائل کے حل کیلئے ایک نیشنل ایجنڈے پر متفق ہوجائیں۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ یہ بات غلط ہے کہ پشتون قومی ایجنڈے پر متفق نہیں ہوسکتے، عثمان لالا کی شہادت پر پشتون افغان ملت کی عوام اور تمام جمہوری قوتوں نے جس وحدت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا لالاشہید کی نظریات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ انہوں نے باشعور نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ قومی سیاسی تحریک میں شامل ہوکر قومی محکومی کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کریں۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کی شہادت پر پارٹی کے احتجاجی تحریک میں ہمارے عوام کی بھرپور شرکت قابل تحسین ہے لیکن ہماری عوام کو اپنی قوم اور وطن کی دفاع کی راہ میں قربانیاں دینے کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ آج پشتون غیور ملت کو جان ومال، عزت اور ناموس کی تحفظ کے مسائل درپیش ہیں جس کی تحفظ کیلئے ہمیں قومی سطح پر موثر اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پشتونخوا وطن خصوصاً جنوبی پشتونخوا کے بیش قیمت معدنیات کے علاقوں کو ہمارے جرنیلوں نے اپنے اور اپنے ایجنٹوں کے ناموں پرالاٹ کیئے ہیں اور قدرت کے تمام نعمتوں سے مالا مال اس غنی وطن میں ہمارے عوام کو مزدور کرنے کے حق بھی حاصل نہیں اور وہ دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگردان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زراعت تباہ ہوچکی ہے پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہمارے عوام کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ لیکن ہمارے قومی مسائل کا حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہم نے اپنے مسائل خود حل کرنے ہونگے، شہید عثمان خان کا کڑ کا گناہ یہ تھا کہ وہ اپنے وطن کی ملی وحدت اور قومی اقتدار قائم کرنا چاہتے تھے اور اپنے وطن کے بیش قیمت قدرتی وسائل اور معدنیات پر قومی حق ملکیت قائم کرنا چاہتے تھے وہ جرات اور بہادری کے ساتھ حکمرانوں کے سامنے اپنا قومی مقدمہ پیش کرتے رہے۔ ان کی جرات اور حق گوئی ہمارے استعماری حکمرانوں کیلئے ناقابل برداشت تھی۔ شہید عثمان صرف پشتون افغان ملت کے رہنماء نہ تھے بلکہ وہ ملک کے تمام محکوم اقوام اور مظلوم عوام کے حقیقی ترجمان تھے۔ ان کی شہادت پر ملک کے اقوام وعوام نے جس غم ودصدمے کا اظہار کیا اس سے اس عظیم رہنماء کی محبوبیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہو ں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملی شہید کی احتجاجی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پشتونخوامیپ کا ساتھ دیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.