Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

موجودہ سیاسی صورتحال اور تاریخ  کا سبق 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

عمرفاروقی

ہمارے بعض  حلقوں  کا خیال ہے کہ عمران خان اور ان کے حکومتی وزرا   اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی تلخی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ یعنی عمران خان پی ڈی ایم میں سے نواز شریف کو سنگل آئوٹ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ نواز شریف اور فوج میں کسی بڑے تصادم کی صورتحال پیدا ہوجائے۔ تا کہ پاکستان کی سیاست میں ان کے کسی بھی ایسے کردار کا خاتمہ ہو جائے جو مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول ہو اور آئندہ سے نواز شریف کو اقتدار میں آنے سے روکنا اس کی مستقل ذمہ داری بن جائے۔کچھ حلقے اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی تلخی اور بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال کو وقتی قرار دے رہے ہیں    ان کا کہناہے کہ اسکا سبب  محض فوج اور نوازشریف میں بڑھتی ہوئی بدگما نیاں ہیں جن کا بلاشبہ  ایک پس منظر ہے۔   جو حلقے موجودہ سیاسی صورتحال کا سبب نواز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی  باہمی ناراضگی کو قرار دینے پر اصرار  کرر ہے ہیںان کے مطابق     کہیں نہ کہیں ایک انڈر سٹیڈنگ ابھی بھی موجود ہے  اور کسی نہ کسی بیک ڈوررابطہ کاری سے حالات واپس اپنے معمول پر آجائیں گے ،    لیکن ایسا سمجھنا درست نہیں ہے بلکہ   موجودہ صورت حال ایک سیاسی جمہوری عمل کے تسلسل کے حاصلات ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کوپاور پالیٹیکس میں اس کی مداخلت کو روکتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں  اقتدار پر زیادہ عرصہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا قبضہ رہا ہے۔ فوجی کمانڈر سول حکومتوں کا تختہ الٹ کراقتدار میں آتے ہیں۔ اور مارشل لاء  لگا کر ملک کے بے تاج بادشاہ بن جا تے ہیں ۔ ایک طویل عر صہ ملک پر قابض ر ہتے ہیں  ۔فوج کا حکومتی سیٹ اپ جب بوسیدہ ہو جاتا ہے تو وقتی طور پر اسٹیبلشمنٹ کسی عارضی بندوبست کے ذریعے حکومت  کسی سویلین یاسیاستدان کے سپرد کر دیتی ہے ۔

پاکستان کی سیاسی قوتوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ا ختیارات اور وسائل  کی چھینا جھپٹی کا عمل پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد سے شروع ہو گیا تھا جو آج لگ بھگ 73سال گزر جانے کے باوجود بھی جاری و ساری ہے۔ پاکستان کی داخلی، خارجی و دفاعی پالیسیوں کی تشکیل وساخت میں فوج کے کردار کی بالادستی  کوئی ڈھکا چھپا ایشو نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں جمہور ی قدروں اور سویلین بالادستی کی  جدوجہد کرنے والے سیاسی حلقے فوج کےاس کردار کو   حدود سے تجاوز اور سول حکومت کے دائرہ اختیار میں مداخلت تصور کرتے  ہیں اورچاہتے ہیں کہ  عسکری ادارے سول حکمرانی کے  ماتحت ر ہیں ، اصولی طور پر ہونا بھی یہی چاہئے۔    جمہوری نظام حکومت میں حق اقتدار صرف عوام کے منتخب نمائندوں   کا ہے  اورا مور مملکت چلانے کا انہیں آئینی حق حاصل ہے۔ آئین میں بھی افواج پاکستان کا کردارکا واضح   تعین  ہے جو اس کی ذمہ داریوں کو سرحدوں کی حفاظت تک   محدود کرتا ہے ۔ لیکن ایسا کہنا افسوسناک ہے کہ آئین میں ریاست کی ہر اکائی کی حدود اور ذ مہ داریوں کا تعین   ہو جانے کے باوجود بھی سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی صورتحال ہر وقت موجود رہتی ہے ۔اب اگر کچھ حلقوںکا خیال ہے کہ عمران خان اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی تلخی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ   چاہتے ہیں  کہ نواز شریف اور فوج میں کسی بڑے تصادم کی صورتحال پیدا ہوجائے۔ تا کہ پاکستان کی سیاست میں ان کے کسی بھی ایسے کردار کا خاتمہ ہو جائے جو مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول ہو اور آئندہ سے نواز شریف کو اقتدار میں آنے سے روکنا اس کی مستقل ذمہ داری بن جائے۔تو ممکن ہے وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں لیکن موجودہ حالات میں کسی بھی جانب سے اس قسم کے ایڈونچر غیر ضروری ہیں ، کیونکہ پاکستان کو جس طرح کے داخلی ، خارجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہےاس کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت سمیت تمام قومی اداروں کو ذمہ داری کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔   ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے، اس ملک کا بچاؤ معیشت پر ہے ، بجٹ خساروں، بیرونی قرضوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ا س کی بجائے ایک بڑی سیاسی قوت کو اگر سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی تو اس کے  نتائج پاکستان کے سیاسی استحکا م کیلئے ہلاکت خیز ہونگے  ، تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ، لوگوں کو آج بھی   سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ بھٹو کی موت سے پاکستان اور اس کے عوام کو کیا فائدہ پہنچایا گیا ۔

تھوڑے وقت کے لیے اگر ایسا سمجھ بھی لیا جائے کہ عمران خان  اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتی ہوئی تلخی سے فائدہ اٹھا کر نواز شریف کے بارے  اپنے عزائم میں کامیاب ہو بھی جا تے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ اس حوالے سے نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ ماضی میں مخالف سیاسی عناصر کی سازشوں سے ایسے ہی حالات سے پیپلزپارٹی اور اس کے سربراہ جناب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کو گزرنا پڑا تھا۔ لیکن بھٹو جیسے حالات  میاں  نواز شریف کو دروپیش نہیں  ہیں نہ ہی مریم نواز کو بینظیر بھٹو شہید جیسی مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے۔

بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد مارشل لا لگانے والوں اپنے فوجی اقدام کو آپریشن فیئر پلے کا نام دیا تھا اور ضیاء الحق نے اپنی تقریر میں کہا تھا نوے روز کے اندر نئے انتخابات کروا کر فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی لیکن اس وقت جناب  ولی خان کی جانب سے پہلے احتساب اور بعد میں انتخابات کے مطالبے نے فوجی حکمرانوں کو 90 روز کے اندر نئے انتخابات کروا کر فوجیوں کی  بیرکوں میں واپسی کے حوالے سے انحراف کرنے کا ایک بہت بڑا بہانہ فراہم کردیا۔ جناب ولی خان کی جانب سے پہلے احتساب اور بعد میں انتخابات کے مطالبے کا بڑا مقصد فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں بھٹو کو سزا دلوا نا تھا۔  ولی خان کی خواہش تو پوری ہوگئی اور بھٹو فوج کے ہاتھوں سزا پاکر پھانسی کے تختے تک پہنچ گئے لیکن  اس کے بعد آج تک نہ تو  فیئر اور فری انتخابات ہو پائے اور نہ ہی فوج بیرکوں میں واپس گئی ہے اور آج تک وہ کسی نہ کسی طورسول اداروں کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سیاست میں اقتدار کے کھیل میں سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک بڑا فریق ہے۔

نواز شریف خوش قسمت ہیں ماضی میں ایسے ہی حالات کا پیپلزپارٹی کو سامنا تھااور بھٹوصاحب کو سزا دلوانے کے لیے ساری اپوزیشن جماعتیں ضیا الحق کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں میاں نواز شریف کے سامنے صورت حال بالکل مختلف ہے۔ پیپلز پارٹی کا طرز سیاست ایک نیا سیاسی کلچر تھا جونہ تو ہمار ے ہاں پہلے سے موجود سیاسی سماج سے ہم آہنگ نہ ہوسکا اور نہ  اس دور کی سیا سی جماعتوں نے پیپلز پارٹی سے اپنی اجنبیت کو ختم کیا۔ بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پیپلز پارٹی کو قومی سیاست سے بے دخل کرنے کیلئے سازشیں کیں ۔ پیپلز پارٹی اپنے قیام سے  اپنی جدوجہد میں اور بھٹو کی شہادت سے لے کر آج تک سیاسی تنہائی کا شکار رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں آج صورتحال بالکل مختلف ہے اورتجزیہ کیا جائے تو  ہماری قومی سیاست دو بڑے سیاسی حریف پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن ہی نہیں ملک کی ساری جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور اگر ان کی یکجہتی برقرار رہتی ہے تو جدوجہد نتیجہ خیز ثابت ثابت ہو جائے گی۔اسطرح موجودہ معرکے میں اگر حکومت مخالف عناصر کامیاب ہوجا تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نتیجے میں سیاسی عمل میں سول بالادستی کے کلچر کی فروغ پذیری سے ایک نارمل اور جمہوری ریاست کے طورپر پاکستان کیلئے عالمی برادری کے اعتماد اور احترام میں اضافہ ہوگا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.