Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ڈونلڈ ٹرمپ مواخذے کی کارروائی سے دوسری مرتبہ بری

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن  : امریکی سینیٹ نے دارالحکومت میں ہونے پُر تشدد احتجاج میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار پر ہونے والی مواخذے کی کارروائی سے بری کردیا، یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک سال کے عرصے میں مواخذے کی دوسری کارروائی تھی۔

سابق صدر کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ٹرائل 5 روز تک چلا اور ان کے خلاف ووٹوں کی تعداد 43 کے مقابلے 57 ووٹس رہی جبکہ انہیں سزا دینے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔

ووٹنگ کے عمل میں 7 ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا دینے کی حمایت میں ووٹ ڈالا ۔  سابق صدر 20 جنوری کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے اس لیے مواخذے کی کارروائی کو انہیں عہدےسے ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ وہ دارلحکومت کے پُر تشدد گھیراؤ کا ذمہ دار ٹھہرانے پر انہیں سزا دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے جس سے وہ دوبارہ سرکاری عہدے پر نہیں آسکیں گے۔

سابق امریکی صدر نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی جس کے فوراً بعد ان کے حامیوں نے 6 جنوری کو امریکی دارالحکومت کے کیپٹل ہل پر چڑھائی کردی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اٹارنی نے مؤقف اپنایا کہ ریلی میں دیے گئے ان کے بیان کو آئین کے تحت آزادی اظہار رائے کا تحفظ حاصل ہے اور انہیں اس کارروائی میں مناسب طریقہ کار نہیں دیا گیا۔

سابق امریکی صدر کے خلاف ان کی اپنی جماعت کے جن سینیٹرز نے ووٹ دیے ان میں رچرڈ بُر، بِل کیسیڈی، سوسان کولِنز، بین ساسے، پیٹ ٹومی اور لیزا مرکوسکی شامل ہیں۔

اس سے قبل ریپبلکنز اراکین سینیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 5 فروری 2020 کو مواخذے سے بچایا تھا اور اس وقت ان کی جماعت کے صرف ایک سینیٹر مِٹ رومنی نے ان کی سزا اور عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد امریکی صدر بن ہیں جن کے خلاف نہ صرف دورِ صدارت میں مواخذہ ہوا بلکہ ان کے خلاف عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی مواخذہ شروع ہوا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.