Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : ملکی سیاسی منظرنامے پر نئی ہلچل کے آثار

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

بلوچستان سمیت ملک بھر میں ایک ایسے وقت میں جب ایک طرف وبائی حالات نے معیشت اور معاشرت کو غیر معمولی چیلنجز اور مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے ، اوپر سے خطے کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں کہ امریکی انخلاءکے اعلان کے بعد سے افغانستان میں کئی عشروں کا دبا بحران نئے اندا ز میں سامنے آیا ہے ایسے میں ملک کے سیاسی منظرنامے کی اگر بات کریں تو سیاسی منظرنامے پر ایک بار پھر نئی تحریک کے آثار نمایاں ہورہے ہیں ایک طرف پی ڈی ایم حکومت کے خلاف صف آرائی کررہی ہے تو دوسری طرف ممکنہ ان ہاﺅس تبدیلی سے متعلق جو سرگوشیاں ہورہی تھیں ریکارڈ پر آرہی ہیں اور اب باقاعدہ طو ر پر یہ خبر رپورٹ ہورہی ہے کہ حکومت گرانے کے لئے پیپلزپارٹی متحرک ہوچکی ہے گزشتہ روز پی ڈی ایم کی جانب سے ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک کا عندیہ بلکہ اعلان سامنے آیا ہے پی ڈی ایم کی قیادت نے اس ضمن میں ایک شیڈول بھی جاری کردیا ہے جبکہ اسی سے جڑی ایک اور خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے حکومت کے خلاف ان ہاﺅس تبدیلی کے لئے نئی کوششیں شروع کردی ہیںادھر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک اس وقت سنگین داخلی اور خارجی خطرات سے دوچار اور بدترین عالمی تنہائی کا شکار ہے، حالات کیوں چھپائے جارہے ہیں، پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے، ہمارا سارا زور منصفانہ اور شفاف انتخابات پر ہوگاپی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور دیگر رہنماں کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میںجے یوآئی کے قائد و سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہوئی ہے پی ڈی ایم اجلاس میں مجموعی صورت حال، داخلی اور خارجی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ ملک اس وقت داخلی اور خارجی سنگین خطرات سے دوچار ہے اجلاس نے ملک میں بدترین مہنگائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری اور ظلم کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، عوام کا جینا دو بھر ہوچکا ہے، ظالمانہ ٹیکسوں اور آئی ایم ایف کے شرائط پوری کرنے کے لیے عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑا جا رہا ہے انہوںنے احتجاج کے نئے شیڈول بارے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ اکیس اگست کو اسلام آباد میں اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس ان تجاویز پر غور اور مشاورت ہوگی جو بدھ کے روز منعقدہ اجلاس میں پیش ہوئیں تمام جماعتیں آپسی مشاورت کے بعد سٹیئر نگ کمیٹی کے اجلاس میں متحد ہوں گی اس کے بعد اٹھائیس اگست کو کراچی میں سربراہی اجلاس ہوگا اور اسٹیرنگ کمیٹی کی تجاویز پر غور کیا جائے اور فیصلے بھی صادر کیے جائیں گے اگلے روز یعنی انتیس اگست کو کراچی میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گاانہوںنے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کانشانہ بنایااور اس رائے کااظہار کیا کہ حکومت ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے انہوںنے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو دھاندلی کا ذریعہ قرار دیا اس سے قبل رواں ہفتے وہ پہلے بھی الیٹرانک ووٹنگ مشین اور حکومت کی جانب سے جاری انتخابی اصلاحات کے معاملے پر تشویش اور تحفظات کااظہار کرچکے ہیںموجودہ حالات میں حکومتی اراکین اور وزراءکا کیا کہنا ہے اس کا جائزہ لینے سے بل پیپلزپارٹی کی جانب سے ان ہاﺅس تبدیلی کے لئے شروع کی گئی بھاگ ڈور کی خبروں کا جائزہ اور تذکرہ ضروری ہے کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بیک ڈور رابطے شروع ہوئے ہیں اور ان رابطوں میں پیشرفت بھی ہوئی ہے شنید میں آیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر مرکز اور پنجاب میں ان ہاﺅس س تبدیلی کے خواہاں ہیں، اور بیک ڈور رابطوں میں پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی خواہش کا اظہار بھی کردیا ہے پی پی نے مسلم لیگ (ن) کو وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے عہدوں کی پیشکش کردی ہے، اور کہا ہے کہ اگر ن لیگ ساتھ دے تو مرکز اور پنجاب میں ان ہاﺅس تبدیلی ممکن ہے، کیونکہ پی پی یہ سمجھتی ہے کہ ان کے پاس مرکز اور پنجاب میں نمبرز پورے ہیں، اگرمسلم لیگ(ن) ساتھ دے تو ان ہاﺅس س تبدیلی کی صورت میں پیپلزپارٹی مرکز میں وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلی نون لیگ کا قبول کرے گی فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہوگا مگر یہ بات بہرحال امر مسلم ہے کہ حکومت کے خلاف سیاسی منظرنامے پر نئی ہلچل دیکھنے میںآ رہی ہے جس میں مختلف سوالات بھی اٹھ رہے ہیں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم سے نکلنے کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں جو حد فاصل قائم ہوئی تھی وہ ختم ہورہی ہے دوریاں قربتوں میں بدل رہی ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کامیاب ہوسکتی ہے ؟ پہلے سوال کا جواب شاید وقت گزرنے کے ساتھ اپنے آپ سامنے آجائے مگر جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے یعنی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی نئی تحریک کا تو اس بابت وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشیدایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے انتہائی وثوق کے ساتھ یہ بات کہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت پانچ سال پورے کرے گی انہوںنے کہا کہ پی ڈ ی ایم اجلاس کی باتیں کرتی رہتی ہے ،انہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کر نا کیا ہے، اپوزیشن کچھ بھی کرلے، عمران خان ٹکا کر پانچ سال پورے کریں گے وفاقی وزیر داخلہ نے خطے کے حالات کا بھی تذکرہ کیا ہے اور کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سیاست کا مرکز بننے جارہا ہے لہٰذا اب اندرونی سیاست کے لئے کوئی جگہ نہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ کی اس بات میں غور و فکر کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں سیاست میں کوئی برائی نہیں لیکن خدانخواستہ اگر واقعی افغانستان کے بحران کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی سیاست کا مرکز بننے جارہا ہے ایسے میں فی الواقعی ہمیں من حیث القوم فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا ہوگا موجودہ وقت اور حالات میںہم پر جو انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی بجاآوری یقینی بنانے کی ضرورت ہے اسی میں من حیثیت القوم ہماری کامیابی و کامرانی کا راز پوشیدہ ہے اور ہمیں قوی امید ہے کہ سیاسی قیادت موجودہ حالات کی نزاکتوں کوسمجھتے ہوئے ملک و قوم کود رپیش مسائل ، مشکلات ، بحرانوں اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اجتماعی اقدامات کو یقینی بنائے گی اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لئے تعمیری کردار ادا کیا جائے گاکہ یہی موجودہ حالات کا اولین تقاضہ ہے جس سے پہلو تہی کسی صورت نہیں کرنی چاہئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.