Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

جس قوم کے ہاتھ میں کتاب ہو وہ پسماندہ نہیں ہو سکتی، حاجی لشکری رئیسانی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ  :   بلوچستان پیس فورم کے چیئر مین نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی،وائس چانسلر سردار بہادرخان وومن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرساجدہ نورین نے کہا ہے کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب ہو وہ پسماندہ نہیں ہوسکتی، صوبے کو اس وقت درپیش بحران اور مسائل کا واحد حل علم کے حصول میں ہے، کتاب کلچر اور مطالعہ کے رجحان کو فروغ دے کر معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، نئی نسل ملازمت کے حصول کے لئے نہیں معاشرے کی خدمت کے لئے تعلیم حاصل کرے۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں نئی قائم ہونے والی لائبریری کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ا س موقع پر جامعہ کی رجسٹرار ڈاکٹر زرینہ واحد، کنٹرولر ڈاکٹر فرح، پرنسپل سٹاف آفیسر حبیب اللہ مینگل، ہیڈ لائبریرین مس سعدیہ سمیت اکیڈمک سٹاف اور طالبات و اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی کے یونیورسٹی پہنچنے پر وی سی ڈاکٹر ساجدہ نورین نے ان کا استقبال کیا اور انہیں لائبریری کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے صوبے میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی ایک باوقار ادارہ ہے میں کسی کی دولت اور طاقت سے متاثر نہیں ہوتا مگر وقار، کردار اور علم مجھے متاثر کرتا ہے آج اکیسویں صدی میں دنیا کی باقی اقوام جو باعزت اور باوقار زندگی گزار رہی ہیں میری خواہش ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی طرز پر زندگی گزاریں ہمیں اس کے لئے علم کو بنیاد بنانا ہوگا۔ علم کے بغیر دنیا کی کوئی قوم نہ تو ترقی کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنے مسائل کا حل نکال سکتی ہے ہم بلوچستان کی پسماندگی، محکومی اور احساس محرومی کو علمی جدوجہد ہی کے ذریعے دور کرسکتے ہیں ہمارے صوبے کو درپیش بحران اور پسماندگی کا واحد حل تعلیم ہے انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ملازمت کے لئے نہیں معاشرے کی خدمت کے لئے حاصل کی جائے ہماری ذہنیت بنی ہوئی ہے کہ ہم ملازمت کے حصول کے لئے تعلیم حاصل کرتے ہیں علم ملازمت کے حصول کے لئے نہیں بلکہ خدمت کے لئے حاصل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میری ذاتی لائبریری ہو جس میں دنیا کے ہر موضوع پر کتابیں موجود ہوں میں نے اس مقصد کے لئے دنیا جہاں کی کتابیں اکھٹی کیں مگر پھر مجھے محسوس ہوا کہ جو کتابیں میں نے پڑھ کر اپنی لائبریری میں رکھ دی ہیں وہ قید ہوچکی ہیں صوبے کے کتاب دوست حلقوں اور نئی نسل کو ان سے مستفید ہونا چاہئے جس کے بعدمیں نے کتاب دوست تحریک کا حصہ بن کر مختلف علمی اداروں کو کتابیں عطیہ کرنا شروع کیں اب تک ہم نے مختلف یونیورسٹیز، کالجز اور مختلف اداروں کو 48ہزار کتابیں عطیہ کی ہیں اس میں ہمیں پاکستان سمیت خلیج میں ہمارے ساتھیوں کی بھی معاونت حاصل رہی ہے جو کتابیں ہم اداروں کو گفٹ کرتے ہیں اس سے کوئی ایک شخص بھی بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرکے صوبے کی رہنمائی کرے گا تو ہم یہی سمجھیں گے کہ ہم ایک علمی انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علم کا حصول ہم سب پر فرض کردیا گیا ہے کتابیں جتنی بھی ہوں علم کی پیاس نہیں بجھتی بلکہ طلب بڑھتی رہتی ہے انہوں نے تجویز دی کہ کتاب دوست تحریک اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی مل کر ایک سیمینار منعقد کریں جس میں کوئٹہ کے تمام پبلشرز اور منتخب نمائندوں کو مدعو کرکے ان کے ذریعے معاشرے میں کتاب دوست تحریک کو پروان چڑھایا جائے اور جامعہ کی لائبریری کے لئے مزید کتابیں اکھٹی کی جائیں اس آواز کو ہم قومی سطح پر بھی اٹھائیں گے۔ اس موقع پر وائس چانسلر سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی ڈاکٹر ساجدہ نورین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہر مسلمان مرد اور عورت پر علم کا حصول فرض کیا ہے جتنا حق ایک بچے کا ہے کہ علم حاصل کرے اتنا ہی حق بچی کا بھی ہے کہ اسے علم و ہنر سے لیس کیاجائے نپولین کا مشہور قول ہے کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن اور تابناک بنانا ہے تو ہمیں اپنی بچیوں کو علم کے ہتھیار سے لیس کرنا ہوگا جس قوم کے بچوں کے ہاتھ میں کتاب ہو وہ قوم کبھی پسماندہ نہیں رہ سکتی بطور ماہر تعلیم میری خواہش اور کوشش ہے کہ ہمارے صوبے کی ہر بچی تعلیم یافتہ ہو ہم اسی وڑن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی نے قلیل عرصے میں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر کی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے ہماری بچیاں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی میں ملک اور صوبے کانام روشن کررہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.