Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ترقیاتی کام کی آڑ میں دکانداروں کے نقصانات قبول نہیں : مرکزی انجمن تاجران

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ : کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ سے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ کی قیادت میں سریاب روڈ کیٹنگ کے حوالے سے ایک وفد نے ملاقات کی جس میں میر یاسین مینگل حاجی عبدالمالک لہڑی مستی خان قمبرانی عباس لہڑی عبدالسلام بادینی حاجی لعل محمد لہڑی رحمت اللہ نیچاری ناصر قمبرانی حاجی رشید شامل تھے۔ ایڈیشنل کمشنر یاسر بازئی پروجیکٹ ڈائریکٹر عابد بلوچ بھی موجود تھے۔ عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ ترقیاتی کام کے کوئی مخالفت نہیں لیکن ترقیاتی کام کے آڑ میں تاجروں کے نقصانات قبول نہیں اس طرح منصوبہ بنایا جائے جس سے تاجر برادری کے نقصانات کم سے کم ہوں اور ترقیاتی کام بھی صحیح انداز میں جاری ہو کر تکمیل تک پہنچ سکیں۔ موجودہ حکومت نے جو ریٹ 690/-روپے فی فٹ کے حساب سے تاجروں کو دیا ہے یہ ریٹ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اس ریٹ پر سریاب کولپور اور بلوچستان کے کسی ایریا میں بھی اس ریٹ پر زمین نہیں ملتا، ہمارا مطالبہ ہے کہ FBRکے شیڈول جو کہ12000/-روپے فی فٹ کے حساب سے ریٹ رکھا گیا ہے یا تو وہ ریٹ دیا جائے یا جو موجودہ مارکیٹ ریٹ 25000/-روپے فی فٹ سے لیکر35000/-روپے فی فٹ ریٹ ہے اس کے مطابق ریٹ دیا جائے۔ جبکہ سریاب فلائی اوور کے موقع پر جو ریٹ دکانداروں کو2012 میں دیا گیا تھا جو کہ 3000/-روپے سے لیکر5000/-روپے تک دیا گیا ہے اور آج 2022 میں 690روپے کا ریٹ دیا جا رہا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے۔ آج جب بھی ہم زمین کی خرید و فروخت کے لئے تحصیل جاتے ہیں تو وہ FBRکے شیڈول 12000/-روپے فی فٹ کے حساب سے ہم سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور 690/-کے حساب سے دیا گیا ریٹ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہمارے مطالبات ہیں کہ سریاب روڈکٹنگ کے حوالے سے ہم نے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا اور ہمارا اب بھی مطالبہ ہے کہ ایک کمیٹی PDاور مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے نمائندے اور اسسٹنٹ کمشنر صاحب سریاب، تحصیلدار اور علاقہ MPAاور MNAشامل ہوں۔ اور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق سروے کیا جائے۔ سریاب روڈ کٹنگ کا منصوبہ دو سال سے شروع ہے جس کی وجہ سے سریاب روڈ کے دکانداروں کی دکانیں گرا کر انہیں دو سال سے بے روزگار کر دیا گیا ہے اور کام سست روی سے جاری ہے اور کام کی وجہ سے گرد و غبار فضا میں پھیلا رہتا ہے اور دکانیں مٹی سے بھری پڑی ہیں جس سے کاروبار حضرات اور عوام کو شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک کام مکمل نہ ہو اس وقت تک جتنی دکانیں گرائی گئی ہیں ان دکانداروں کو الانس دیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر گزر بسر جاری رکھ سکیں۔ سریاب کسٹم پر جو نقشہ اڈے کے لئے دیا گیا ہے یہ ہمیں اس لیے قابل قبول نہیں کیونکہ 1990 سے ہزار گنجی میں ویگن، بس اسٹاپ زیر تعمیر ہے جو کہ آج تک خالی پڑا ہوا ہے اگر گورنمنٹ کو یہاں ویگن اسٹاپ بن ویگن، بس اسٹاپ زیر تعمیر ہے جو کہ آج تک خالی پڑا ہوا ہے اگر گورنمنٹ کو یہاں ویگن اسٹاپ بنانا ہے تو پولیس ٹریننگ کالج پر اس نقشے کو منتقل کیا جائے جو کہ سرکاری زمین ہے اور قانون کی رو سے بھی یہی طریقہ ہے کہ پہلے سرکاری زمین کو کام میں لایا جائے۔ ایری گیشن سے لیکر سریاب کسٹم تک سرکاری زمینوں میں دکانداروں کو ایڈجسٹ کیا جائے جن میں ریڈیو ٹرانسمیشن، ایگریکلچر کی زمین، ولی جیٹ جو کہ اکبر خان بگٹی اسکول سے گزر کر سریاب پل تک سرکاری زمین اور پولیس ٹریننگ سینٹر سے لیکر ریڈیو اسٹیشن مینگل آباد اور یونیورسٹی آف بلوچستان کی زمین اور دیگر سرکاری زمین جو کہ ریڈیو اسٹیشن سریاب کسٹم چوک پر کافی ایکڑ میں موجود ہے، ان دکانداروں کو وہاں پر ایڈجسٹ کیا جائے مستونگ روڈ اور سبی روڈ کسٹم کا ابھی تک کوئی نقشہ نہیں بنایا گیا ہے لہذا ہمیں پہلے سے بتایا جائے کہ ہم اپنی دکانوں کے پیچھے اپنی جگہ بنائیں جس کی وجہ سے حکومت کے لئے بھی آسانی ہو اور دکاندار بھی بے روزگاری سے بچ سکیں۔ اگر دکانداروں کو سرکاری زمین پر ایڈجسٹ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ برما ہوٹل سے لیکر بلوچستان چوک تک دکانداروں کو ابھی تک کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی نقشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے دکانداروں میں تفتیش پایا جاتا ہے۔اور ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد نقشے کی وضاحت کی جائے کمشنر کوئٹہ نے تمام مسائل کو سن کر یقین دہانی کرارء کہ چند دنوں تک ان مسائل کوحل نکالیں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.