Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

 بلوچستان ، پیداواری شعبے اور آمدن 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

محمد عظیم خان کاکڑ

 

کسی بھی قوم کی معیشت میں دو بنیادی اکائیوں کا اہم کردار رہا ہے یعنی زراعت و صنعت۔ مگر اب ٹیکنالوجی کا بھی آغاز ہو چکا۔ لہٰذاا پہلے درجے کے ترقی یافتہ ممالک ان تین شعبوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ آج بھی اگر دیکھا جائے روزمرہ کے استعمال کی اشیاءمیں دنیا میں سب سے زیادہ گندم اور چاول چین میں پیدا ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ چینی برازیل میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جی سیون ، جی ایٹ ، (معاشی تنظیمیں) سر فہرست ہیں۔اب ممالک نے ان تین شعبوں کے علاو¿ہ سیاحت، ماہی گیری، کمیونیکیشن (مواسلات)، معدنی ذخائر کی پیداوار، تیار خوراکی مصنوعات، نفاذ ٹیکس و دیگر اہم شعبوں سے آمدن پیدا کرنے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ جہاں تک بلوچستان کی بات ہے تو آٹھ ایسے محکمے ہیں جن سے پیداوار ممکن ہے مثلا زراعت، صنعت، منرل اینڈ مائنز، ماہی گیری، حیوانات، ٹرانسپورٹ اور لینڈ ریونیووغیرہ، محکمہ فنانس بلوچستان کی ایک رپورٹ کے مطابق2019-20 کے دوران محکمہ ایکسائز کے سالانہ اخراجات 746 ملین رہے جبکہ 1154 ملین آمدن رہی، یوں محکمہ مائنز و منرلز کے اخراجات 1957 ملین تھے جبکہ 1992 ملین آمدن حاصل کیا گیا۔ محکمہ لینڈ ریونیو کے اخراجات 334 جبکہ آمدن 981 ملین، محکمہ صنعت کے اخراجات 1052 ملین جبکہ آمدن محض 45 ملین، محکمہ زراعت کے اخراجات 7499 جبکہ آمدن صرف 362 ملین۔ اب بات کریں محکمہ حیوانات کی تو سالانہ اخراجات 2520 ملین جبکہ آمدن 80 ملین، محکمہ ماہی گیری کے اخراجات 829 ملین جبکہ آمدن 18 ملین اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے سالانہ اخراجات 67 ملین جبکہ آمدن 50 رہے۔

پچھلے دنوں اسلام آباد سے لاہور براستہ موٹروے جانا ہوا۔ اس روٹ کو سرکاری طور پر ایم – 4 نام دیا گیا ہے جو تقریبا 355 کلومیٹر ہے۔ میرے اپنے مشاہدے کے مطابق ایم – 4 اسلام آباد لاہور موٹروے کی سالانہ آمدن بلوچستان کے ان آٹھ محکموں سے زیادہ ہے جن کا پچھلے پیرائے میں ذکر ہوچکا۔ ایم – 4 موٹروے پر ایک منٹ میں 35 گاڑیاں سفر شروع کرتی ہے، اس موٹروے کے ساتھ بنائے گئے قیام و طعام کے مقامات پر ایک منٹ میں سات گاڑیاں رکھتی ہیں۔ لہذا آپ مجموعی طور پر اندازہ لگا لیں کہ اسلام آباد پشاور موٹروے، پنڈی بھٹیاں فیصل آباد موٹروے، لاہور ملتان موٹروے، ملتان ڈیرہ غازی خان موٹروے کا یومیہ آمدن کتنا ہوگا؟ صرف یہ نہیں بلکہ ان تمام موٹرویز پر موجود قیام و طعام کے مقامات پر لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں موٹرویز کا تصور نوازشریف لیکر آیا جنہیں یقینا اس احسن اقدام پر داد دینا چاہیے۔ شیر شاہ سوری نے دہلی سے لاہور اور پھر پشاور سے جلال آباد تک جی ٹی روڈ کی بنیاد ڈالی، فرنگیوں نے پورے برصغیر میں ریلوے ٹریک بچایا، 1871 سے لیکر 1890 تک بیس سال جرمنی پر پرنس اوٹو بسمارک نامی حکمران رہا، انہوں نے اپنے دور میں تین اہم کام کیا اول یہ کہ 39 جرمن آزاد ریاستوں کو متحد کر کے جرمن کو یورپ کی مضبوط قوم بنایا، دوئم پورے جرمنی کو ریلوے ٹریک اور سڑکوں کے ذریعے ملایا اور سوئم یہ کہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کئے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.