Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

’آئی اے رحمان پاکستانی صحافت میں مزاحمت کی عکاسی کرتے رہے‘

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ریاض سہیل

پاکستان کے نامور صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن عبد الرحمان المعروف آئی اے رحمان پیر کی صبح لاہور میں 90 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔صحافتی اور انسانی حقوق کے رہنما آئی اے رحمان کی زندگی علی گڑھ یونیورسٹی میں ترقی پسند تحریک سے لیکر جنوبی ایشیا میں انسانی اور مزدوروں کے حقوق کی تحریک پر پھیلی ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جنھوں نے برصغیر کی تقسیم کے زخم کھائے اور ان کے رشتے دار بھی فسادات میں مارے گئے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے سابق سیکریٹری جنرل اور اعزازی ترجمان کے عہدے کے علاوہ آئی اے رحمان پاکستان ٹائمز کے مدیر بھی رہے اور بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت وہ ا±ردو روزنامے ’آزاد‘ سے منسلک تھے جس کی انھوں نے بنیاد ڈالی تھی۔اس کے بعد وہ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں ہفتہ وار جریدے ’ویو پوائنٹ‘ کے بھی سربراہ رہے اور اس دوران وہ پاکستان کے دیگر اخبارات کے لیے بھی کالم نویسی کرتے رہے۔آئی اے رحمان فلموں کے بھی دلدادہ تھے اور پاکستانی جریدے ’ہیرالڈ‘ کے لیے انھوں نے سیاسی مضامین کے علاوہ فلموں پر بھی تبصرے تحریر کیے تھے۔پاکستان اور جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے آئی اے رحمان کو ان کی خدمات کے نتیجے میں متعدد بین الاقومی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں سنہ 2003 میں نیورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ، سنہ 2004 میں رامون ماگسئسے اور کئی دیگر ایوارڈز شامل ہیں۔
آئی اے رحمان کے والد وکیل تھے۔ تقسیم کے بعد وہ انڈیا سے نقل مکانی کرکے ملتان میں شجاع آباد آ گئے اور وہاں سے لاہور منتقل ہوگئے۔ڈاکٹر توصیف احمد کے مطابق آئی اے رحمان نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کیا اور اس کے بعد سی ایس ایس کا امتحان دیا جس میں وہ پاس بھی ہوگئے لیکن کوٹہ میں نشست نہ ہونے کی وجہ سے تقررری نہیں ہوئی۔ڈاکٹر توصیف بتاتے ہیں کہ بعد میں آئی اے رحمان اس بات پر خوشی کا بھی اظہار کرتے تھے کہ اچھا ہوا کہ وہ سرکاری افسر نہ بنے۔ڈاکٹر توصیف نے بتایا کہ آئی اے رحمان علی گڑھ میں زمانے طالب علمی سے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوچکے تھے اور وہ زندگی کے آخری ایام تک مارکسٹ رہے۔سی ایس ایس کے بعد انھوں نے نامور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی زیر ادارت پاکستان ٹائمز میں عملی صحافت کا آغاز کیا جہاں انھیں فلمی صفحے کا انچارج بنایا گیا۔ بعد میں وہ اسی اخبار میں اسٹنٹ ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر بھی رہے۔آئی رحمان نے صحافتی دور میں کئی اتار چڑھاو¿ کا سامنے کیا۔ وہ پنجاب یونین آف جرنلسٹس میں بھی سرگرم رہے۔ڈاکٹر توصیف احمد، جو پاکستان میں صحافتی تحریک پر پی ایچ ڈی اسکالر بھی ہیں، نے بتایا کہ 1967 میں انھوں نے پی ایف یو جے کا الیکشن بھی لڑا لیکن ہار گئے۔سنہ 1970 میں میں جب صحافت سے تعلق نہ رکھنے والوں کو ویج ایوارڈ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ یعنی پی ایف یو جے نے 12 روز ہڑتال کی تو وہ اس میں متحرک رہے جس کی وجہ سے انھیں پاکستان ٹائمز سے فارغ کردیا گیا۔بعد میں انھوں نے عبداللہ ملک کے ساتھ ‘آزاد’ اخبار نکالا۔ آئی اے رحمان 1967 میں قیام پانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے لیکن اس وقت کے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) میں آپریشن کے بعد انھوں نے عوامی لیگ کی حمایت کی جس کی وجہ سے آزاد اخبار بند کردیا گیا۔اس کے بعد پی پی پی کے ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت میں آنے کے بعد انھیں روزنامہ پاکستان ٹائمز میں بحال کردیا۔آئی اے رحمان پاکستان میں فلموں کے نگراں ادارے نیف ڈیک کے انگریزی رسالے کے بھی ایڈیٹر رہے تاہم بعد میں جب جنرل ضیاالحق نے اقتدار سنبھالا تو اس رسالے کو بند کر دیا گیا۔اس کے بعد انھوں نے صحافی مظہر علی خان کے ساتھ ویو پوائنٹ کے نام سے انگریزی جریدے کا اجرا کیا۔ اس دوران 1981 میں انھیں گرفتار کیا گیا اور وہ چھ ماہ جیل میں رہے۔سنہ 1988 میں ذوالفقار بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو کی حکومت کے آنے کے بعد انھیں پاکستان ٹائمز میں بحال کیا گیا تاہم اس حکومت کی برطرفی کے ساتھ انھیں ایک بار پھر فارغ کردیا گیا۔سینیئر صحافی ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ آئی اے رحمان ایک انڈر صحافی رہے اور لگی لپٹی رکھے بغیر کوئی بات ہوتی تھی وہ کردیتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی صحافت میں جو مزاحمت ہے وہ اس کی عکاسی کرتے رہے ہیں۔’آئی اے رحمان کا شمار پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے بنیادی اراکین میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے ڈائریکٹر اور پھر سیکریٹری جنرل رہے اور اس وقت انھیں ایچ آر سی پی کے اعزازی ترجمان کا اعزاز حاصل تھا۔اس کے علاوہ وہ باقاعدگی سے ہفتہ وار کالم لکھتے تھے اور آٹھ اپریل کو انھوں نے اپنا آخری کالم تحریر کیا تھا۔آئی اے رحمان کی وفات پر انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ عملی صحافت سے ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے انسانی حقوق کی باگ ڈور سنبھالی اور نہ صرف تنظیم کی ساکھ کو بہتر بنایا بلکہ انسانی حقوق کی اقدار کو فروغ دیا۔
آئی اے رحمان پاکستان کے علاوہ انڈیا اور پاکستان اور سارک ممالک میں امن، دوستی اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن تھےآئی اے رحمان کی وفات کی خبر آنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر صحافی، سیاستدان اور انسانی حقوق سے منسلک کارکنوں کی بڑی تعداد نے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انسانی حقوق کے کارکن علی دیان حسن نے آئی اے رحمان کی وفات کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’دور اندیش رہنما‘ تھے اور وہ ان کے لیے ایک رہنما تھے۔آئی اے رحمان کی وفات پر ایچ آر سی پی نے اپنی تعزیتی ٹویٹ میں لکھا کہ ان کی ایمانداری، ان کا ضمیر اور ان کے جذبہ ہمدردی کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔نیو یارک ٹائمز سے منسلک اور پاکستان میں طویل عرصے تک صحافت کرنے والے ڈیکلن والش نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’آئی اے رحمان کی پاکستان کی ناکامیوں سے ہونے والی مایوسیاں اپنی جگہ لیکن انھیں اپنے ملک سے بے انتہا محبت تھی۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘صحافی زیب النسا برکی نے کہا کہ آئی اے رحمان پاکستان میں ترقی پسند عناصر کے لیے مشعل راہ تھے۔آئی اے رحمان کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے والی وکیل عاصمہ جہانگیر، جن کی تین برس قبل وفات ہو گئی تھی، کی بیٹی منیزے جہانگیر نے بھی لکھا کہ وہ اس خبر پر بے حد دلبرداشتہ ہیں اور ان کی وفات پاکستانی صحافت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں کے لیے بہت افسوسناک ہے۔ ‘آج ہم سب ان کی موت سے یتیم ہو گئے ہیں۔’
وکیل سلمان اکرم راجہ نے لکھا کہ ‘آئی اے رحمان شاعر فیض احمد فیض کے ساتھی تھے اور عاصمہ جہانگیر کے رہنما تھے۔ اور ہم سب کے وہ ضمیر تھے۔’پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک رہنما نفیسہ شاہ نے بھی ان کی وفات پر ٹویٹ میں اپنے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انھوں نے پاکستانی صحافت اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک نسل کی تربیت و رہنمائی کی ہے اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ڈان اخبار سے منسلک صحافی حسن زیدی نے سلسلہ وار ٹویٹس میں آئی اے رحمان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس بات کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کتنی عظیم شخصیت تھے اور پاکستانی صحافت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں کے لیے وہ کیا معنی رکھتے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.