Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ :فوجی قیادت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، سیاسی قیادت انا چھوڑ کر آگے بڑھے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

مزار قائد پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد صفدر اعوان کی جانب سے نعرہ بازی کے معاملے میں اس وقت معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر گیا تھا جب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے کمرے کا دروازہ زبردستی کھول کر ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا ۔ اس حوالے سے حکومت سندھ نے مکمل طور پر لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس گرفتاری کا نہ تو حکم دیا ہے اور نہ ہی سندھ پویس نے یہ کارووائی خود سے کی ہے بلکہ اس کے کچھ محرکات ہیں۔ ساتھ ہی سندھ پولیس کے سینیئر افسران بشمول آئی جیسند ھ نے بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام چھوڑنے کا عندیہ دیا اور چھٹی کی درخواستوں کا انبار لگ گیا۔ بعد ازاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ بظاہر نظر نہ آنے والی قوتوں نے آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراﺅ کیا اور انہیں اغواہ کیا گیا۔ اس کے بعد صورت حال بگڑ گئی اور صوبہ اور وفاق آمنے سامنے آ گئے ۔ بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ نے رات گئے پولیس ہیڈ کوارٹر جا کرسندھ پولیس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔بلاول بھٹو نے چیف آف دی آرمی سٹاف سے اس معاملے میں تحقیقات کا پر زور مطالبہ کیا ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ذاتی طور پر ٹیلی فون پر بلاول کو صاف شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مکمل تعاون کی بھی حامی بھری۔ اس دوران ملکی سیاست میں اس واقع کو خاص اہمیت دی جاتی رہی ۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے اس حوالے سے سخت ترین مﺅقف اپنایا گیا۔ تاہم اس وقت اس معاملے میں ٹرننگ پوائنٹ آیا جب ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت بارے عوامی سطح پر بغیر لگی لپٹی آگاہ کیا گیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق آئی جی سندھ کی شکایات کے ازالے کیلئے چیف آف آرمی سٹاف کے حکم کے تحت قائم کورٹ آف انکوائری مکمل ہو چکی ہے۔ جس کی سفارشات کی روشنی میں، اس واقعہ میں ملوث آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹرز اور سندھ رینجرز کے افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان افسران کے خلاف مزید کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں عمل میں لائی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے اس ضمن میں جاری کئے گئے مفصل بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر آئی جی سندھ کی شکایات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی ہے۔ کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے افسران مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔ ان افسران پر بڑھتا ہوا عوامی دباﺅ تھا کہ اس معاملہ میں قانون کے مطابق فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ ان افسران نے شدید عوامی رد عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مد نظر سندھ پولیس کے طرز عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سست روی کا شکار پایا۔ ان حالات میں مذکورہ افسران نے قدرے زیادہ جوش و خروش سے کارروائی کا فیصلہ کیا۔ یہ افسران یقیناً اتنے تجربہ کار تھے کہ وہ اس صورتحال میں زیادہ ہوش مندی کے ساتھ کارروائی کرتے تاکہ اس ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکتا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں عمل میں لائی جائے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ‘کراچی واقعے’ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہونے والی انکوائری اور کارروائی کاخیرمقدم کیا ہے۔بلاول کاکہنا تھاکہ ‘کراچی واقعے’ پر آرمی چیف سے انکوائری کامطالبہ کیا تھا،خوشخبری ملی ہے کہ انکوائری مکمل کرکے ایکشن بھی لیا گیا ہے.بلاول بھٹو کاکہنا تھاکہ ہمیں اس عمل کا خیر مقدم کرنا چاہیے، ایسے عمل سے اداروں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے،جمہوری طریقہ یہی ہے کہ جو غلطی ہو اس کا اعتراف کیا جائے اور غلط کے خلاف ایکشن لیا جائے،ہمیں مل کر اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھنا ہے۔بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد سیاسی فضاءقدرے بہتر ہوئی ہے۔ بلاول نے ایک دانشمند سیاست دان کی حیثیت سے مثبت روایت کو پروان چڑھایا ہے۔ پی ڈی ایم بیانیے کے حوالے سے بھی بلاول اور زرداری کا مﺅقف قابل ستائش ہے ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اس انکوائری اور اس کی رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایم معنی خیز ٹیوٹ کیا ہے اس ٹیوٹ کا ایک پس منظر بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ماتحت افسران کی قربانی دی گئی ہے تاہم اصل محرکات اور کرداروں کو بچا لیا گیا ہے لہٰذا ہم اس تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ اس بیانیے کی ایک شکل ہے جو نواز شریف صاحب نے اپنا رکھا ہے۔ اس بیانیے کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طرح تصادم کی فضاءبنے اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا ہو۔ نواز شریف صاحب کو سوچنا چاہیے کہ فوج اور بالخصوص چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھلے دل اور وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے۔ تحقیقات کروائی ہیں۔ حساس ادارے کے افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ غلطی مانی گئی ہے۔ فوجی قیادت نے انا کو پس پشت رکھتے ہوئے اداروں اور بالخصوص صوبائی خود مختاری کو تسلیم کیا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ بہت نازک وقت ہے یقینا اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ مگر آخر کب تک ہم ان غلطیوں کو دہراتے رہیں گے۔ فوج نے ایک قدم بڑھایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت بھی ہوش کے ناخن لے۔ ملک کسی بھی قسم کے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں اس قسم کی ضد اور انا ما سوائے حماقت اور کچھ نہیں۔ بلاول سے سیکھنا ہوگا۔ اس کے خاندان نے قربانیاں دی ہیں۔ نانا، ماموں، والدہ اس ملک کی جمہوریت پر قربان کر دیں۔ بات سالہا سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا۔ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ نواز شریف چراتا رہا ریاستی جبر کا بھی پیپلز پارٹی شکار رہی مگر وقت پڑنے پر ریاست کے ساتھ کھڑی ہوئی اور اداروں کی عزت کی بات کی ۔ نواز شریف صاحب کا ٹیوٹ گزشتہ سے پیوستہ ہے امید ہے وہ بھی اس ٹیوٹ کو واپس لے کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا
شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا

Leave A Reply

Your email address will not be published.