Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

46 برس قبل ہونے والا ایک قتل جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بنا(حصہ اول) 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

شاہد اسلم

آج سے 46 برس قبل، یعنی 10 اور 11 نومبر 1974 کی درمیانی شب، ایک مارک ٹو کار لاہور کے علاقے شادمان کالونی میں ایک گھر کے باہر بنی پارکنگ سے سڑک پر نمودار ہوئی۔اس گاڑی میں چار لوگ سوار ہیں جو شادمان کالونی سے ماڈل ٹاو¿ن میں واقع اپنے گھر کی جانب طرف جا رہے ہیں۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا ہے اور ہر طرف ہ±و کا عالم اور اندھیرا ہے۔نوجوان احمد رضا قصوری اس کار کو ڈرائیو کر رہے ہیں جبکہ ان کی برابر کی نشست پر ا±ن کے والد یعنی نواب محمد احمد خان قصوری بیٹھے ہیں۔ عقبی نشستوں پر احمد خان قصوری کی اہلیہ اور سالی موجود ہیں۔یہ سب لوگ شادمان کالونی میں تحریک استقلال گجرات کے ضلعی صدر بشیر حسین شاہ کی شادی کی تقریب میں شرکت سے واپس لوٹ رہے ہیں۔نواب محمد احمد خان کے لیے آج کی تقریب اس لحاظ سے بھی خاص رہی کیونکہ اس میں قوالی کا اہتمام بھی تھا۔ نواب احمد خان اگرچہ مغربی طرز زندگی کے دالداہ تھے لیکن آج انھوں نے قربان حسین قوال سے بلھے شاہ کا کلام ‘میرا پیا گھر آیا’ دومرتبہ فرمائش کر کے س±نی۔جیسے ہی گاڑی شادمان کالونی سے کچھ فاصلے پر واقع شاہ جمال کے راو¿نڈ آباو¿ٹ (گول چکر) پر پہنچتی ہے تو اس پر تین اطراف سے مسلح حملہ آور گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔کار میں سوار تمام افراد اس اچانک حملے اور گولیوں کی گھن گرچ سے سٹپٹا جاتے ہیں، کئی گولیاں گاڑی کو آ کر لگتی ہیں۔ احمد رضا قصوری گاڑی روکنے کی بجائے سر نیچے کر کے اسے چلاتے رہتا ہیں تاکہ اس میں سوار تمام افراد کو اس جگہ سے دور لے جائیں۔ حملہ آور چلتی گاڑی پر پیچھے سے گولیاں برساتے رہے، لیکن گاڑی آگے بڑھ گئی۔اسی اثنا میں ڈرائیو کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے محمد احمد خان قصوری گاڑی چلانے والے اپنے جوان بیٹے کے کندھے پر آن گرتے ہیں۔ بیٹے کا ہاتھ اچانک باپ کے جسم پر پڑتا ہے اور خون سے لال ہو جاتا ہے۔باپ کے خون سے آلود ہاتھ دیکھ کر بیٹا غم سے چلانا شروع کر دیتا ہے۔ محمد احمد خان کے سر میں گولیاں لگ چکی تھیں اور وہ اپنے ہی خون میں لت پت ہو چکے تھے۔عقبی نشست پر بیٹھی پریشان حال ماں بیٹے کو تنبیہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے حواس پر قابو رکھے اور گاڑی فورا گلبرگ میں واقع یونائیٹڈ کرسچیئن ہسپتال لے چلے۔ڈرائیور کار دوڑاتا ہوا مسلسل گاڑی کے شیشے سے پیچھے دیکھتا رہا کہ حملہ آور ا±ن کا تعاقب تو نہیں کر رہے۔ ایف سی کالج کا پ±ل عبور کر کے گاڑی گلبرگ میں واقع ا±س ہسپتال میں پہنچ جاتی ہے جس کے متعلق ماں نے تاکید کی تھی۔ہسپتال پہنچ کر نوجوان احمد رضا قصوری سب سے پہلا فون اپنے بڑے بھائی کو اس واقعہ کی اطلاع دینے کے لیے کرتے ہیں، دوسرا فون ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر کو اور تیسرا فون اس وقت کے ایس ایس پی لاہور اصغر خان کو۔اس وقت تقریباً رات کے پونے ایک بج چکے ہیں۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ جاتے ہیں اور آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور اسی دوران تین، چار سو پولیس اہلکاروں کی ٹرکوں میں سوار نفری بھی ہسپتال پہنچ جاتی ہے۔ ایس ایس پی لاہور، ڈی آئی جی لاہور سردار محمد عبدالوکیل خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور بھی اطلاع ملنے پر فوری ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ایک طرف آپریشن چل رہا ہے اور دوسری طرف پولیس اہلکار احمد رضا خان کے پاس جاتے ہیں تاکہ ابتدائی معلومات لے کر قانونی کارروائی شروع کی جا سکی۔ا±س وقت کے ایس ایچ او تھانہ اچھرہ عبد الحئی نیازی نے ایف آئی آر کے لیے درخواست لکھنا شروع کی۔ ابتدائی معلومات کے اندارج کے بعد جب بات ’آپ کو کسی پر شک ہے‘ کی ہوئی تو احمد رضا قصوری نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیا۔انھوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ دراصل یہ ذوالفقار علی بھٹو نے کروایا ہے جو انھیں مروانا چاہتے ہیں تاہم والد صاحب حادثاتی طور پر فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام س±ن کر ایس ایچ او کے ہاتھ سے پینسل نیچے گر گئی اور وہ چونک کر کہنے لگا کہ ایف آئی آر وزیر اعظم پر درج کروانی ہے آپ نے؟ جواب ملا: جی ہاں۔احمد رضا قصوری بولے ’کیونکہ وہ (بھٹو) مجھ پر پہلے بھی کئی حملے کروا چکے ہیں۔ جب ذمہ دار وہی ہیں تو پھر پرچہ بھی انھی کے خلاف کٹے گا۔‘احمد رضا قصوری نے اس رات پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہوئے اس رپورٹ کے مصنف شاہد اسلم کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بتایا ’کچھ لمحے بعد میں نے دوبارہ عبارت لکھوانا چاہی، تو وہ (ایس ایچ او) باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایس ایس پی اور ڈی آئی جی دونوں آ گئے، کہنے لگے کے آپ اپنے ارد گرد دیکھیں جس نے نواب صاحب پر حملہ کیا ہو، آپ سیدھا وزیر اعظم کا نام لے رہے ہیں۔’انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ارد گرد نظر دوڑا چکے ہیں لیکن کوئی نہیں ملا جو یہ حملہ کروا سکتا ہو، اس لیے ایف آئی آر کا متن وہی ہو گا جو وہ بتائیں گے اور اگر پولیس نے ایسا کرنے میں لیت و لال سے کام لیا تو وہ کل صبح ہائی کورٹ کی مدد لیں گے۔احمد رضا قصوری کے ایک ماموں، جو کہ فوج میں بریگیڈیئر تھے، بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے، پولیس والوں نے انھیں بھی بھیجا تاکہ وہ قصوری صاحب کو سمجھائیں لیکن وہ بضد رہے کہ ان کے والد پر حملہ بھٹو نے ہی کروایا ہے۔تقریبا صبح کے تین بج چکے تھے اور ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ ڈاکٹر نے آ کر احمد رضا خان کو بتایا کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’میں یہ سن کر پھٹ پڑا اور آپے سے باہر ہو گیا۔ پاس ہی ڈنڈا پڑا ہوا تھا میں نے اٹھایا اور ایس ایس پی کو جو کہ یونیفارم میں تھا اس کی پیٹھ پر تین، چار مار دیے۔ اس کے بعد ڈی آئی جی کو بھی بھاگتے ہوئے پیچھے سے ایک لات مار دی، وہ بھی گرتا ہوا پولیس اہلکاروں کے پیچھے جا چھپا۔‘دوبارہ بات چیت کے بعد بالآخر پولیس نے کہہ دیا کہ وہ درخواست لکھ کر دے دیں تاکہ وہ ایف آئی آر درج کریں۔ تقریبا رات تین بج کر 20 منٹ پر احمد رضا قصوری نے اپنے ایک ہمسائے کی مدد سے درخواست تحریر کی اور خود پر ہوئے ماضی کے حملوں کا ذکر بھی کیا اور اپنے والد کے قتل کا الزام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر لگایا۔پھر بالآخر اسی سال فروری میں ذوالفقار علی بھٹو کو انھی کی پارٹی کے ایک ایم این اے کے والد کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا۔محمد احمد خان کا پوسٹ مارٹم ڈپٹی سرجن میڈیکو لیگل لاہور ڈاکٹر صابر علی نے کیا۔

اگلی صبح یعنی 11 نومبر کو پولیس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور گولیوں کے 24 خالی خول اکھٹے کیے، اور گول چکر پر واقع ایک گھر کی دیوار پر بھی گولیوں کے نشان ملے۔ کار کے معائنے سے بھی پتہ چلا کہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ کے پیچھے بھی کچھ گولیاں پھنسی ہوئیں تھیں جن سے احمد رضا خان بھی بال بال بچے تھے۔حملہ میں استعمال ہونے والے اسلحے کا پتہ لگوانے کے لیے گولیوں کے خالی ہول اس وقت کے ڈائریکٹر فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور نادر حسین عابدی کے حوالے کے گئے جنھوں نے تجزیے کے لیے وہ آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی بھجوا دیے۔جنرل ہیڈ کوارٹرز نے تجزے کے بعد بتایا کہ وہ خول سات ایم ایم کے ہیں جو چائنہ کے بنے ہیں، جنھیں ایل ایم جی اور ایس ایم جی رائفلز سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔ ابتدائی طور پر تحقیقات کی نگرانی ڈی ایس پی عبدالاحد کے سپرد کی گئیں لیکن چونکہ وہ سنہ 1975 میں فوت ہو گئے تب سپیشل برانچ کے ملک محمد وارث کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج شفیع الرحمٰن پر مشتمل ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ پنجاب حکومت کو 26 فروری 1975 کو جمع کروا دی لیکن وہ رپورٹ عام نہ کی جا سکی۔اکتوبر 1975 میں تحقیقاتی افسر ملک محمد وارث کی سفارشات پر کیس یہ کہہ کر داخل دفتر کر دیا گیا کہ ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔جیسے ہی پانچ جولائی 1977 کو ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا تب سے اس کیس پر تنازعات کی وہ گرد پڑنی شروع ہوئی جو آج تک چھٹنے کا نام نہیں لے رہی اور وہ تنازعات ملک کی سیاسی، قانونی اور عدالتی تاریخ کا آج بھی ایک آسیب کی طرح پیچھا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔11 نومبر کی تاریک رات کو ہونے والی قتل کی اس واردات کے اصل محرکات پر کبھی روشنی پڑے گی، یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔(جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.