Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

معقولیت آئین پسندی نہیں (آخری حصہ)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

راحت ملک

البتہ حکومت دبے الفاظ میں کبھی صوبائی خودمختاری یا اٹھارہویں ترمیم پر تنقید کرتی رہی ہے اور کبھی بالواسطہ طور پر صدارتی یا نیم صدارتی نظام کی حمایت کرتی رہی ہے اس لیے وہ نہ ہی کھل کر آئینی امور بارے کوئی متبادل نقطہ نظر دے رہی ہے نہ ہی کھل کر پی ڈی ایم کے بیانیے کی اصولاً مخالفت کرتی نظر آ رہی ہے۔بلکہ وہ حالیہ جمہوری بیانیے کو فوجی محکمے کے خلاف باغیانہ خیالات بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ جو حکومت کی ذہنی سیاسی عدم بلوغت کی نمایاں شکل اختیار کرچکی ہے۔ جناب عمران خان ترکی، ملائیشیائ ، ایران اور چین جیسے نظام کو اپنانے کی متضاد الخیال باتیں کرتے اور ریاست مدینہ بنانے کے مدعی بھی بنتے ہیں اس طرح وہ شاید مضبوط مرکزی اقتدار یا شخصی اختیارات کے طلب گار دکھائی دیتے ہیں چنانچہ گمان گزرتا ہے کہ شاید انہیں مسلط کرنے والے ان کے ذریعے اپنے لئے مفید۔
فرد واحد کے ہاتھ میں مرتکز اختیارات کا حامل آئینی بندوبست کرنے کی سعی کر رہے ہیں جناب عمران خان کی اپوزیشن پر حالیہ تنقید کا محور پی ڈی ایم کے موقف کو ملکی سیکورٹی اور دفاعی ادارے کے منافی بنانے حزب اختلاف کو بھارت کا ایجنٹ قرار دینے اور انہیں چور ڈاکو کہنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس طرز گفتار نے ملکی سیاسی درجہ حرارت کو انتہائی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے جسے عموماً۔ پوائنٹ آف نو ریٹرن کہا اور بدترین خدشات کا حامل قرار دیا جا رہے ہےاگر عمران خان صاحب معقول دلائل کے سہارے سیاسی بصیرت مندی کے ساتھ رائج الوقت آئینی بندوبست کو ناکام سمجھتے ہیں تو پھر انہیں پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کو قائل کرنے کے لئے باہمی گفت و شنید کرنے پر توجہ دینی چاہیے چونکہ ایسا نہیں ہو رہا تو یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوگا کہ وہ اپوزیشن کے بیانیے کو حکومت مخالف نہیں سمجھتے بلکہ اسے شعوری طور پر عسکری دفاعی محکمے کے خلاف پیش کر کے اپنے ماضی کے بیانات کی عملی تائید کرر ہے ہیں۔ یہ کمزور پوزیشن ہے جو حکومت کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بنے گی۔ لگتا ہے حکومت کے پاس کوئی متبادل آئینی پیکج ہے نا ہی اس کی اہلیت۔یہ استدلال بھی قومی مباحثے میں سامنے آیا ہے کہ ملک میں دو جماعتی سیاسی سانچے کے خلاف ”آذریت“ کے ماہرین نے عمران خان کو متبادل کے طور پر تراشا تھا تاکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے مقابل ایک تیسرا متبادل پیش کر کے ملک میں سیاسی استحکام لایا جا سکے اگر اس مفروضے میں ذرا سی بھی صداقت ہوتی تو ”بہتر متبادل“ تراشنے والے 2018 ئ کے بعد فوری طور پر موجودہ حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے اسے کلی طور پر با اختیار بنا کر خود کو اپنے پیشہ ورانہ امور تک محدود کر لیتے ایسا نہیں ہوا تو یا تو ان کو اپنے انتخاب کے ناقص ہونے کا یقین تھا یا پھر یہ تصور ہی باطل ہے کہ طاقت ور کسی ”بہتر سیاسی متبادل“ میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے تھے۔عمران اور ان کی جماعت کی 2011 ئ کے بعد اٹھان کا نمایاں عنصر سابقہ سیاسی ادوار کو ہدف تنقید بنانا تھا 2011 ئ کے بعد عمران خان کی تنقیدی گفتگو سے بہت حد تک ”غیر سیاسی ادوار“ خارج ہوتے چلے گئے تھے گویا غیر سیاسی مقتدرہ کے لئے جناب عمران خان بہتر متبادل سیاسی رہنمائ کی بجائے ایک ایسے کردار تھے جو اپنے ”کرشماتی کردار“ کے ذریعے ذرائع ابلاغ اور دیگر کے مکمل تعاون سے صرف ”سیاست جمہوریت اور پارلیمان کو بے توقیر“ کریں ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ جناب عمران خان اس ہدف کے حصول میں بہت حد تک کامیاب ہیں مگر غبارے سے ہوا تب نکلی جب احتساب کے عمل کے نتائج سامنے نہیں آئے الٹا احتساب انتقام کا روپ اختیار کر کے مشکوک ہو گیا۔
علاوہ ازیں اے پی سی کے قیام سے کوئٹہ کے جلسے تک رونما ہوئے واقعات اور سرکاری بیانات کی نوعیت نے پی ڈی ایم کی قیادت اور نواز شریف کے ببانگ دہل ملکی معیشت سفارت ’تجارت‘ معاشرت ’ثقافت اور سیاست میں آلودگی کے پوشیدہ اسباب و افراد کے کردار کو بیان کرنے پر مجبور کر دیا نواز شریف یا مسلم لیگ نون کی صورت میں پنجاب کی سیاسی اشرافیہ پہلی بار غداری کے سرکاری فتوﺅں کی زد میں آئی تو ملک کے دیگر صوبوں میں اس قیادت پر عوامی اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا یہ سب کچھ حکومت و اختیارات کے مالک حلقے کی روایتی مقبولیت پسندی پر مبنی سوچ اور ضد و انا کی وجہ سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں میں تطہیر کے علاوہ ذرائع ابلاغ پر قدغنوں نے سرکاری موقف و اعمال کی حقیقت کھول دی عدلیہ پر یلغار بالخصوص جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف بدنیتی پر مبنی ریفرنس اور پھر اسے سپریم کورٹ میں مسترد کیے جانے سے وسیع معنوں میں فیض آباد دھرنے کے تمام پوشیدہ کرداروں کو بے نقاب کیا اب سیاسی منظر نامہ انتہائی بلند درجہ حرارت کو چھو رہا ہے یہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے ساتھ بے بصیرتی اور روایتی سوچ پر مبنی سرکاری بیانیے پر اصرار کا منطقی نتیجہ ہے جسے دلیل سے نہیں بلکہ عمل سے بدلنا پڑ رہا ہے۔ذرائع ابلاغ درپیش صورتحال میں مکالمے کی افادیت بیان کرتے ہیں لیکن اس مکالمے کے فریقین کا نام لینے سے ہچکچاتے ہیں کیا آئین کی موجودگی میں کسی مکالمہ کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا جواب مکالمے کی ضرورت ختم کرتا اور ریاست کے تمام اجزائے ترکیبی کو آئین پسند معقولیت اپنانے کا بلیغ اشارہ ہے جسے نا سمجھنا ملکی مفادات کے سراسر منافی ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.