Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ایشیا کی امیر ترین خاتون جس نے اپنی آدھی دولت ایک سال میں گنوا دی

0

برسوں سے جس خاتون کی دولت چین سے باہر بھی شہ سرخیوں، تبصروں اور حساب کتاب کا مرکز رہی ہے۔ وہ ہیں صرف 41 سالہ چین کی شہری یانگ ہوئیان، جو نہ صرف چین کی امیر ترین شخصیت میں شامل ہوتی ہیں بلکہ وہ ایشیا کی بھی امیر ترین عورت ہیں۔

ایک دہائی قبل جب سے انھیں ان کے والد کی جانب سے وراثت میں ایک رئیل سٹیٹ ایمپائر ملی ہے ان کی دولت میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے۔ لیکن سنہ 2022 میں ان کے لیے چیزیں بدل گئیں، گذشتہ ایک برس کے دوران انھیں شدید معاشی نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بلومبرگ کی ارب پتی افراد کی فہرست کے مطابق گذشتہ برس کے دوران یانگ کی دولت میں مجموعی طور پر 52 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

بلومبرگ نے سنہ 2021 میں اس کاروباری خاتون کی کل دولت کا تخمینہ تقریباً 33.9 ارب ڈالرز لگایا تھا، جو گذشتہ ماہ جولائی میں کیے گئے اندازے کے مطابق کم ہو کر 16.1 ارب ڈالرز رہ گئی ہے۔

معاشی ماہرین و تجزیہ کار اسے نہ صرف چین کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی بری حالت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں بلکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم تنبیہ کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

چین میں رئیل اسٹیٹ کی بری حالت کی وجہ سنہ 2020 سے اس شعبے میں مکانات کی قیمتوں میں کمی، خریداروں کی مانگ میں کمی اور قرض کی ادائیگی میں صارفین کا دیوالیہ ہونے کے بحران کے باعث سنگین مسائل سامنے آئے ہیں جس نے ملک کے چند بڑے ڈویلپرز کو متاثر کیا ہے۔

صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی ہے کہ چند بینکوں کے پاس رقم ختم ہو گئی ہے جس کے باعث چین کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے بھی ہوئے۔

کمپنی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

جبکہ یانگ ایشیا کی سب سے امیر ترین خاتون ہی ہے، مگر ان کی مالی حیثیت میں بھی کمی اور گراوٹ آنا شروع ہو گئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق، ان کے بعد کیمیکل فائبر کی صنعت سے وابستہ خاتون فین ہونگ وے کا نمبر آتا ہے، جن کے اثاثے بھی تقریباً 16 بلین ڈالر ہیں۔

مگر یانگ یوئیان کون ہیں اور ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں کیسے ہوا؟

وراثت

یانگ ہوئیان

یانگ سنہ 1981 میں جنوبی چین کے صوبہ گوانگزو کے شہر فوشان کے ایک ضلع شونٹاک میں پیدا ہوئیں۔ وہ چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک یانگ گوکیانگ کی بیٹی ہے۔

چین کے بااثر خاندان میں پرورش حاصل کرنے والی یانگ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی جوانی میں وہ امریکہ میں بھی زیر تعلیم رہی۔ انھوں نے سنہ 2003 میں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس ای سائنسز میں گریجویشن مکمل کی۔

چین واپس لوٹنے کے بعد انھیں سنہ 2007 میں ان کے والد کی جانب سے وراثت میں چین کی فروخت کے لحاظ سے سب سے بڑی رئیل سٹیٹ کمپنی کنٹری گارڈن ہولڈنگ کے اکثریتی حصص دیے گئے۔

گوانگزو میں 1992 میں قائم کی گئی ریئل سٹیٹ کمپنی، کنٹری گارڈن ہولڈنگز ہانگ کانگ میں اپنے آئی پی او کے بعد کامیاب ہوئی اور وہاں اس نے تقریباً 1.6 بلین ڈالر اکٹھے کیے، جو کہ گوگل کے 2004 کے امریکی آئی پی او کے بعد کے برابر ہے۔

اگرچہ یانگ کو عوام کی نظروں سے دور رہنے اور سادہ زندگی گزارنے کے لیے جانا جاتا ہے، مگر وہ چین میں اور بیرون دنیا کی بے شمار شہ سرخیوں کا مرکز ہیں۔

ان میں سے سب سے زیادہ بدنام واقعہ وہ تھا جب سنہ 2018 میں ‘دی سائپرس پیپرز’ نامی لیک دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے قبرص کی شہریت لے رکھی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چین دہری شہریت لینے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے تسلیم بھی نہیں کرتا۔

مشکلات

تعیمراتی شعبہ

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

چینی منڈی کے ماہر یانگ کو ایک قابل اور کاروبار کی سمجھ بوجھ رکھنے والی خاتون قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ سال جون میں، انٹرنیشنل ہاسپیٹلٹی انسٹی ٹیوٹ نے انھیں عالمی مہمان نوازی کی صنعت میں سب سے طاقتور اور بااثر افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

تاہم اس وقت تک ان کے کاروبار میں کمزوری کے آثار دکھائی دینے لگے تھے۔

اور ایسا اس لیے تھا کہ کیونکہ سنہ 2020 سے ملک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں زیادہ پیچیدگیاں شروع ہو گئی تھیں، اور اس کی وجہ صرف کورونا وبا نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ چینی حکام کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ضرورت سے زیادہ قرضوں کو روکنے کی کوشش کرنا تھی۔

چینی حکام کے اس اقدام سے ملک کی بڑی تعمیراتی کمپنیوں کو ادائیگیوں کے لیے ایک جنگ کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں اپنے قرض دہندگان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بحران اس وقت مزید بڑھ گیا جب چین کی سب سے زیادہ مقروض رئیل اسٹیٹ کمپنی ایورگرانڈ سنہ 2021 میں مہینوں کے مالی مسائل کے بعد دیوالیہ ہو گئی

اس کے تناظر میں اور اس سال اب تک، کئی دوسرے بڑے ڈویلپرز بشمول کائسا اور شیماؤ گروپ نے بھی قرض دہندگان سے مہلت مانگی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ‘خریداروں کی ہڑتال’ کی خبریں سامنے آنے اور ہزاروں افراد کی جانب سے گھروں کی تعمیر کے لیے کی جانے والی پیشگی ادائیگی روک دیے جانے کے بعد ملک میں تعمیراتی شعبے میں سست روی کے باعث اس بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سب صورتحال نے کنٹری گارڈن کمپنی جوکووڈ وبا کی ابتدا میں بھی کامیابی سے کام کرتی رہی کو بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں تک کہ گذشتہ جولائی میں اس کمپنی کو پیسے اکٹھے کرنے کے لیے اپنے حصص کو 13 فیصد کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا تھا۔

اس سب صورتحال میں یانگ کی دولت اور ان کی کمپنی کے لیے طویل المدتی تصویر کچھ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ جولائی میں ایک رپورٹ میں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے اندازہ لگایا تھا کہ اس سال چین میں قرض اور گروی رکھے جانے پر ہڑتالوں کے باعث جائیداد کی فروخت میں ایک تہائی کمی آ سکتی ہے۔

دریں اثنا، لندن میں قائم ایک آزاد اقتصادی تحقیقی فرم کیپٹل اکنامکس نے پیش گوئی کی ہے کہ ‘فروخت کے بغیر، بہت سے مزید ڈویلپرز ختم ہو جائیں گے، جو چین کی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔’

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.