Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

نیب سے پی ٹی آئی کے کسی رہنما کیخلاف کارروائی کرنے کی امید نہیں، سعید غنی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) پر یہ اعتماد نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے کسی رہنما کیخلاف کارروائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ نیب نے حلیم عادل شیخ کو کلین چٹ دینے کے لیے یہ معاملہ اٹھایا ہے، ایسی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ جس میں نیب نے ٹھوس شواہد ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کی ہو۔

صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ آگئی، وزیراعظم وزیراعلیٰ پنجاب، اسد عمر، مشیر خزانہ، مشیر تجارت، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر انگلیاں اٹھیں لیکن کسی ایک شخص کو نیب نے طلب نہیں کیا۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر محسوس نہیں ہوتا کہ نیب پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کرے لیکن دیکھتے ہیں کہ شاید اپنی ساکھ کو کچھ بحال کرنے نیب کوئی اقدام اٹھالے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی معیشت کا برا حال ہے اور عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس حکومت نے نیا طریقہ اختیار کیا ہے کہ نان ایشوز کو سامنے لا کر اس پر شور مچاتے ہیں اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کردیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علی زیدی بے وقوف نہیں بے وقوفوں کے سردار ہیں جنہوں نے دو روز قبل دعویٰ کیا کہ وہ ایک تہلکہ خیز ویڈیو منظر عام پر لانے والے ہیں اور پھر وہ شیخ حبیب جان کی ویڈیو ریلیز کی۔

سعید غنی نے کہا کہ میں گزشتہ کئی روز سے کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کا عذیر بلوچ سے رابطہ تھا اور پی ٹی آئی کے دھرنوں میں امن کمیٹی کے لوگ شریک ہوتے رہے اور ان کی دعوتیں اور ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ اب حبیب جان بلوچ نے بھی ان تمام باتوں کی تصدیق کردی کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے امن کمیٹی کی وجہ سے کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں بھی امن کمیٹی کے لوگوں نے شرکت کی اور تقریریں کیں۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق حبیب جان بلوچ نے کہا کہ علی زیدی امن کمیٹی کے افراد سے رابطے میں تھے اور درخواست کرتے رہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے کامیاب کروائیں، ان کے دھرنوں میں شرکت کریں، اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو میں کہ رہا ہوں وہ درست اور جو علی زیدی کہہ رہے ہیں جو جھوٹ ہے۔

سعیدغنی نے کہا کہ میں اب بھی کہتا ہوں کہ علی زیدی میری باتوں کو جھٹلائیں۔

انہوں نے کہ ایک انٹرویو میں حبیب جان نے یہ ساری باتیں تسلیم کرنے کے علاوہ ایک نیا ایک انکشاف یہ کیا ہے کہ لندن میں پی ٹی آئی کی رابعہ نام کی خاتون رہنما کے فون پر سنہ 2011 میں عمران خان اور ذوالفقار مرزا کی بات ہوئی جس میں یہ طے ہوا کہ امن کمیٹی پی ٹی آئی کی حمایت کرے گی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ حبیب جان نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اس نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور علی زیدی نے 2014 میں ایک ٹوئٹ کے ذریعے بھی اس کی تائید کی تھی اور جب کسی نے اعتراض اٹھایا کہ یہ لوگ قاتل ہیں تو علی زیدی نے جواب دیا کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں تو پھر بلدیہ ٹاؤن سانحے کی جے آئی ٹی کا ذکر کیوں نہیں کرتے جس میں واضح طور پر بتایا کہ کس سیاسی جماعت نے یہ سب کیا جو آپ کے اتحادی ہیں۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ ذوالفقار مرزا نے 2015 میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ خود کیا تو علی زیدی اسے تسلیم نہیں کررہے حالانکہ وہ خود مان رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے ذریعے کراچی کے شہریوں ساتھ ظلم جاری تھا اور اس گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کراچی کے لوگوں پر مسلط کی گئی جبکہ اسد عمر کہتے ہیں کہ گیس اور فرنس آئل کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے اور آج سے کوئی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری وفاق پر عائد کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے شہریوں پر لوڈ شیڈنگ کا عذاب اس نالائق اور نااہل حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے آیا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ہر ایشو پر سوائے جھوٹ بولنے کے کچھ نہیں کرتے انہوں نے اپنی دو سالہ حکومت میں صرف ایک صحیح کام کیا ہے اور وہ اپوزیشن کے اراکین کے خلاف کیسز بنانا اور انہیں نیب کے ذریعے گرفتار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس 28 جنوری کو سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زیدی کی سانحہ بلدیہ فیکٹری، لیاری کے گینگسٹر عذیر جان بلوچ اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (ایف سی ایس) کے سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی 3 رپورٹس کو منظر عام پر لانے کی درخواست منظور کی تھی۔

تاہم اس معاملے پر کئی ماہ کی خاموشی کے بعد 30 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر بحری امور علی زیدی ایوان میں عذیر بلوچ کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ لے کر آئے تھے اور انہوں نے ایک ایک فرد کا نام لے کر بتایا تھا کہ اس میں کون کون ملوث تھا۔

جس پر 4 جولائی کو حکومت سندھ نے عذیر بلوچ، نثار مورائی اور بلدیہ ٹاؤن کیسز کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس کو پبلک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چنانچہ 7 جولائی کو حکومت سندھ نے سال 2012 میں پیش آنے والے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے آتشزدگی کے واقعے، لیاری گینگ وار اور لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ اور فشرمین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے الگ الگ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس جاری کی تھی۔

تاہم 8 جولائی کو علی زیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئےسندھ حکومت کی جے آئی ٹی کو غلط قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

مذکورہ صورتحال پر علی زیدی بمقابلہ پیپلز پارٹی کی جیسی صورتحال دیکھنے میں آئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں رہنما پی پی پی اور صوبائی وزیر سعید غنی نے دعویٰ کیا تھا کہ علی زیدی، عمران اسمٰعیل اور صدر پاکستان عارف علوی نے پی ٹی آئی کراچی کے مقامی عہدیداران کی کمیٹی تشکیل دی جس کو امن کمیٹی کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

صوبائی وزیر نے کہا تھا کہ صرف ایک آدمی اسد عمر نے اس کام سے انکار کیا اور وہ کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جبکہ کراچی کے ایک موجودہ پی ٹی آئی ایم این اے کے گھر میں دعوتیں بھی ہوتی رہیں جس میں ان تینوں کے علاوہ امن کمیٹی کے افراد بھی شریک ہوتے تھے۔

صوبائی وزیر نے کہا تھا کہ کراچی میں پی ٹی آئی نے سی ویو پر دھرنا دیا جس میں امن کمیٹی کے رہنما شریک ہوتے تھے اور اسٹیج پر بیٹھتے رہے، حبیب جان نے دھرنے سے ٹیلیفونک خطاب بھی کیا اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم ہی نہیں۔

جس کے بعد گشتہ روز وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے عذیر بلوچ کے ماضی کے قریبی ساتھی حبیب جان بلوچ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں بظاہر ایک انٹرویو دیتے ہوئے حبیب جان بلوچ کا کہنا تھا کہ ’2012 کے آپریشن کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی نے عذیر بلوچ سے ایک مرتبہ پھر رابطہ کیا اور 5 کروڑ روپے نقد دیے‘۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’پیسے ملنے کے بعد عذیر بلوچ دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے رہنما قائم علی شاہ، شرمیلا فاروقی اور فریال تالپور عذیر بلوچ سے ملاقات کے لیے ان کے پاس گئے‘۔

کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت عذیر بلوچ کے کہنے پر پولیس افسران کے تبادلے کرتی تھی؟ کے جواب میں حبیب جان بلوچ نے کہا کہ ’ایک گروپ پورے کراچی میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) تک کی سطح کے افسران کے تبادلے کیا کرتا تھا اور وزارت داخلہ رحمٰن ملک کی صورت میں ان کے دروازے پر کھڑی رہا کرتی تھی‘۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.