Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مہاجرین کی اندراج ہمارے قومی تشخص کی بقا کا مسئلہ ہے کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرینگے، ثناء بلوچ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

خاران(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما رکن صوبائی اسمبلی ثنابلوچ نے کہا کہ مہاجرین کی اندراج ہمارے قومی تشخص کی بقا کا مسئلہ ہے کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔مہاجرین کی آبادکاری سے خاران سمیت پورے بلوچستان کے امن و امان داو پر ہے منشیات قتل وغارتگری کلاشنکوف کلچر ہمارے پر امن علاقوں میں مہاجرین کا دیا ہوا تحفہ ہیں مہاجرین کی انخلا بلوچستان نیشنل پارٹی کے قومی موقف کا حصہ ہے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنمارکن صوبائی اسمبلی واجہ ثنا بلوچ نے خاران دورہ کے موقع پر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں مزید کہا کہ صوبے میں تعلیم صحت اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال تشویش ناک ہے ہسپتالیں ادویات سمیت تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں مریض رل رہے ہیں بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسے اہم ضرورت بھی ناپید ہوگیا ہے ہمارے گریجویٹ نوجوان ڈگریاں لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں مختلف محکموں میں کئی آسامیاں خالی ہونے کے باوجود صوبائی حکومت سرد مہری سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان احساس محرومی کا شکار ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 40 بلین بجٹ لیپس ہوگئے جو بلوچستان کے غریب عوام کے ساتھ ستم ظریفی ہے صوبائی حکومت ان تمام تر کوتائیوں کا اپوزیشن کو مورد الزام ٹھرا کر خود کو برالزمہ نہیں کراسکتے صوبائی حکومت کے پاس بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کوئی جامعہ منصوبہ بندی اور پالیسی نہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں عوام کے پیسے عوامی فلاح و ترقی کے بجائے وفاق کو سرنڈر کردیے گئے۔جو کہ عوام کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ صوبائی حکومت کا سوتیلی ماں جیسی سلوک کے باعث ہمارے تجویز کردہ اسکیمات کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیا ہے جس میں یونین کونسل راسکوہ کے چار ڈیمز 20 بیس 20 ل بیس کروڑ اور محکمہ ایریگیشن کے لیے 80 اسی کروڈ کے پروجیکٹ شامل تھے اس کے علاوہ پانی اور سولر سسٹم کے کئی کئی تشنہ تکمیل منصوبوں کے فنڈز کو بھی بد نیتی سے روک دیا گیا ہے ہم بھی عوام کے منتخب نمائندے ہیں عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر آئے ہیں اس طرح کے دوہرا معیار کی پالیسی کسی صورت برداشت نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ بیلہ سمیت پورا بلوچستان ہمارا گھر ہے اپنے لوگوں کے پاس کئی بھی جاسکتے ہیں حکومت ہمیں روکنے کے بجائے اپنے حلقہ انتخاب کے سکول ہسپتال اور سڑکوں کو بہتر کرے ایک بندہ تین پشتوں سے وزیراعلی منتخب ہونے کے بعد بھی ان کے حلقے کے ہسپتال ویران سڑکیں سنسان اور عوام کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر لاچار ہو تو باقی اضلاع میں کیا ترقی دے سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ عوامی لوگ ہیں عوام کے دکھ اور تکلیف کا احساس ہے ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں اپوزیشن کے باوجود بھی لوگوں کے بنیادی مسائل کو فوکس کئے ہیں دستیاب وسائل میں ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں تاکہ عوام سے کئے گئے وعدوں پر پورا اتر سکیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.