Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

آرمینیا نے شکست تسلیم کرلی، آذربائیجان میں‌ فتح کا جشن، پاکستانی پرچموں کی بہار

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

باکو :   آرمینیا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے آذربائیجان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر امن معاہدے پر اتفاق کر لیا، جس کے بعد سینکڑوں فوجیوں پر مشتمل روسی امن فورس نگورنو کاراباخ کیلئے روانہ ہو گئی۔ نیوز ایجنسی کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیوف ، آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشنیان اور روسی صدر پوٹن نے گزشتہ روز امن معاہدے کا اعلان کیا، جس کا متن ڈیل کے آذربائیجان کے حق میں ہونے کا عکاس ہے ۔ معاہدے کے مطابق لڑائی کے دوران قبضے میں لئے گئے علاقے آذربائیجان کے کنٹرول میں رہیں گے ،اس میں شوشا نامی قصبہ شامل ہے ، جبکہ آرمینیا نے نگورنو کاراباخ کے بعض علاقوں سے انخلا کے ٹائم ٹیبل پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشنیان نے امن ڈیل کو اپنے اور اپنے لوگوں کیلئے ناقابل حد تک تکلیف دہ قرار دیا۔ وزیراعظم آرمینیا نے کہا ہے کاراباخ سے متعلق معاہدہ ہمارے لئے تکلیف دہ ہے ، آئندہ چند روزمیں قوم سے خطاب میں معاہدے کی تفصیلات بتاؤں گا۔ انہوں نے بتایا جنگ بندی کا فیصلہ زمینی حقائق کا بغور جائزہ لینے کے بعد کیا گیا، جنگ ختم کرنے سے پہلے ماہرین سے زمینی حقائق سے متعلق رائے لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست تب تک نہیں ہوتی جب تک شکست کو تسلیم نہ کر لیا جائے ۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا معاہدہ آرمینیا کی جانب سے دباؤ تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔علیوف نے کہا میں نے کہا تھا کہ ہم انہیں نکال باہر کریں گے ، ہم نے ایسا کر دکھایا۔ ادھر امن معاہدے پر آذربائیجان میں فتح کا جشن منایا گیا اس موقع پر ہر طرف پاکستانی پرچموں کی بھی بہار دکھائی دی ۔صدر الہام علیوف کے قوم سے خطاب کے بعد لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا اور انہوں نے آذری اور ترک پرچموں کے تلے خوشی میں نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر عوام نے سڑکوں پر روایتی رقص کیے اور لوک گیت گائے ۔ نوجوانوں نے پاکستان کے پرچم بھی لہرا ئے ۔آذری عوام نے ” کاراباخ ہمارا تھا اور ہمارا ہے “کے نعرے لگائے اور چلتے ہوئے مرحوم صدر حیدر علی ایف کے مزار تک پہنچے ۔دوسری طرف آرمینیا کے عوام میں شدید غم و غصہ پایاگیا ، ہزاروں افراد امن معاہدے اور ملکی قیادت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے وزیراعظم نیکول پاشنیان کو غدار قرار دیدیا ،اس دوران مشتعل افراد نے پارلیمنٹ کے صدر ارارت مرزویان پر تشدد کیا ۔سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں بچانے کی بہت کوشش کی لیکن عوام کی بڑی تعداد نے انہیں مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ امن ڈیل کے مطابق روس متنازعہ علاقے میں 1960 فوجی اور 90 بکتر بند گاڑیاں بطور امن فورس تعینات کرے گا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق 10 فوجی طیاروں میں امن فورس کا پہلا دستہ روانہ کر دیا گیا ہے ۔ صدر علیوف کے مطابق ان کا اتحادی ترکی بھی قیام امن کی کوششوں میں کردار ادا کرے گا، تاہم اس کا امن ڈیل میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کو مبارکباد پیش کی ہے ۔آذربائیجان صدارتی دفتر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ترک صدر اردوان اور آذری صدر علیوف کے درمیان ورچوئل ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں درخشاں فتح پر سربراہان نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش دی ۔جنگ کے دنوں میں آذربائیجان کے ساتھ سیاسی و معنوی تعاون کی وجہ سے علیوف نے اردوان اور ترک عوام کا ایک دفعہ پھر شکریہ ادا کیا ۔ترک صدر نے بھی آذربائیجان میں ترکی کے تعاون کی بھر پور پذیرائی پر علیوف کا شکریہ ادا کیا ۔ سربراہان نے اعادہ کیا کہ برادر ملک ترکی اور آذربائیجان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔دریں اثناپاکستان میں آذربائیجان کے سفیر علی علیزادہ کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کا پرچم پاکستان اور ترکی کے پرچموں کے بنا ادھورا ہے ۔ آذربائیجان کے قومی پرچم کی102 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا ترکی اور پاکستان نے جنگ میں ہماری بھر پور حمایت کی ۔ انہوں نے لکھا آذر بائیجان کے عوام آرمینیا کیخلاف جنگ میں شوشا شہر آزاد کروانے کی خوشی منا رہے ہیں، اس جشن کے دوران پاکستان اور ترکی کے پرچم بھی نظر آ رہے ہیں۔پاکستان نے آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جنگ کے اختتام کے لئے امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کاخیرمقدم کیا ہے ۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا روس کی مدد سے سہ فریقی معاہدہ خطے میں قیام امن کاموقع ہے ، امیدہے خطے میں استحکام اورخوشحالی کادورشروع ہوگا اور بے گھرافرادکی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کاراستہ ہموارہوگا۔ترجمان زاہدحفیظ نے کہا مقبوضہ علاقے آزاد کرانے پر آذربائیجان کے عوام اور حکومت کومبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.