Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کوئٹہ : نانبائیان نے روٹی کی قیمتوں میں اضافے نہ کرنے کی صورت میں ہڑتال کی دھمکی دیدی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

کوئٹہ (سٹی رپورٹر ) نیو اتحاد یونین نانبائیان بلوچستان کے چیئرمین محمد نعیم خان خلجی مرکزی صدر حاجی رضا محمد خلجی نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر نانبائیوں کو فوری طور پر روٹی کا نیا نرخ دیا جائے انہوں نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ 3 یوم بعد پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان بھر میں مکمل ہڑتال کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نانبائیوں کو پرائس کنٹرول کمیٹی نے 2012 میں روٹی کا نرخ 20 روپے مقرر کیا تھا تاحال وہی ریٹ مقرر ہے 23 جنوری 2020 کو ہمیں نیا ریٹ 280 گرام پیڑا ریٹ 20 روپے اسی طرح ڈبل روٹی 520 گرام پیڑا 40 روپے میں فروخت کرنے کا نرخ دیا گیا اس وقت 100 کلو آٹے کی بوری 5400 روپے تھی 10 دن بعد 100 کلو آٹے کی بوری 5000 روپے میں ہوئی اور پرائس کنٹرول کمیٹی نے بغیر تجزیہ کئے ہوئے 320 گرام پیڑا 20 روپے اور 640 گرام پیڑا 40 روپے میں فروخت کرنے کا نرخ نامہ جاری کر دیا اسی دورنا کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹی کے نمائندے دفتروں سے غائب ہوگئے اور نانبائیوں نے اس مشکل وقت میں جب دکانوں کو سیل کرنے اور حد سے زیادہ جرمانے کرنے کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا انہوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد بھی اسی نرخ پر روٹی کی فروخت کو یقینی بنایا لیکن نانبائیوں کو دبانے کے لئے مجسٹریٹ نے ناجائز جرمانے اور دکانوں کو سیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جس پر ہم نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے ملاقات کی اور انہیں مجسٹریٹ کی جانب سے بلا جواز تنگ کرنے کے بارے میں معلومات دیں جس میں مجسٹریٹ ندا کاظمی سرفہرست تھیں ہمیں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ نانبائیوں کو کوئی جرمانہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ان دکانوں کو سیل کیا جائے گا اس کے باوجود ہمارے ساتھ دکانوں کو سیل کرنے اور جرمانے کا سلسلہ جاری رہا انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور اس مہنگائی کے دور میں نانبائی 2012 کے نرخ پر عوام کو روٹی دے رہے ہیں جو ہمارے ساتھ زیادتی ہے اس لئے ہم حکومت اور انتظامیہ کو 3 دن کا وقت دیتے ہں کہ وہ ہمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے روٹی کا نیا نرخ مقرر کرے بصورت دیگر ہم 3 دن بعد پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان بھر میں ہڑتال کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی

Leave A Reply

Your email address will not be published.