Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سیاسی انتشار ،بیرونی سازشیں اور دباﺅ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

محمد رمضان اچکزئی

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قائم پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں مختلف پارٹیاں اپنے منشور پر عملدرآمد کیلئے اس حکومت کا حصہ بنی۔ اس حکومت کا پہلا اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) نے حکومت کی حمایت اس لئے ترک کی کہ ان کے ساتھ کئے جانے والے تحریر ی معاہدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا ۔پارٹی کا موقف واضح اور جمہوری تھا ۔ انہوں نے اپنے ووٹر سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے سلگتے ہوئے دیر پا مسائل کو حل کریں گے لیکن حکومت کی حمایت کرنے کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کئے گئے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میںپوری قوم کے ساتھ اپنے منشور کے مطابق وعدے کئے ہیں اور وعدوں کے مطابق عوام کو روزگار دینے کیلئے ایک کروڑ نوکریاں دی جائے گی اور رہائش کیلئے 50 لاکھ مکانات اور فلیٹس تعمیر کئے جائیں گے، روپے کی قدر میں کوئی کمی نہیں ہوگی ، ڈالر کی قیمت نہیں بڑھے گی، بجلی، گیس، خوردنی اشیاءکی چیزیں عوام کو سستے داموں ملے گی، تعلیم، صحت اور انصاف عوام کا بنیادی حق تصور کرتے ہوئے عوام کو یہ بنیادی حقوق میسر ہوں گے۔اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان نے دھرنے کے دوران بجلی اور گیس کے بل جلائے اور کہا کہ بجلی اور گیس کے اتنے مہنگی بل عوام نہ دیں۔عوام پر بلا وجہ کے ٹیکسز وہ حکومت لگاتی ہے جو چور ہوتے ہیں اور وہ ٹیکسز کے پیسے چوری کرتے ہیں اس لئے وہ عوام کی زندگیوں میں آسانی لانے کیلئے بلا وجہ کے ٹیکسز عائد نہیں کرتے ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ بیرون ملک سے اربوں ڈالر ملک میں لائے جائیں گے ، بیرون ملک پڑے ہوئے 200 ارب سے زیادہ ڈالر ملک لایا جائے گا ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے کچکول کو توڑ کر خود انحصاری کے ذریعے ملک کو ریاست مدینہ کے ماڈل کے مطابق چلانے کا بندوبست کیا جائے گا، ملک میں انصاف، احتساب اور مساوات کا نظام قائم ہوگا، اونچ ،نیچ کا خاتمہ کرکے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق برابری کے حقوق دیئے جائیں گے، اداروں کو خود مختار بنا کر اس میں سیاسی مداخلت بند کرکے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا ، ادارے سیاسی مداخلت سے پاک ہو کر آئین اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاںپوری کرتے ہوئے ملک میں آزادانہ ،شفاف اور منصفانہ فیصلوں سے قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔اس کے علاوہ بہت سے وعدے ان کے تقریروں اور منشور کا حصہ ہے جس پر عملدرآمد کرنے سے اس ملک میں تبدیلی کی امید دلائی گئی تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال پورے ہونے کے بعد اس وقت عوام کو صرف اس ملک میں ڈاکو، چور، لٹیرے اور میں نہیں چھوڑوں گا کے علاوہ عوام کیلئے فلاحی منصوبے ، اصلاحات، مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی، روٹی ،کپڑا اور مکان کی صورت میں بنیادی سہولتیں دینے کی بجائے ،ضروریات زندگی کی اشیائ، بجلی، گیس ،پٹرول، ڈیزل کئی گنا مہنگی ہو چکی ہے اور اس پر آئے روز ٹیکسز لگائے جارہے ہیں۔ پارٹی کے رہنماﺅں نے آٹااور چینی غائب کرکے لوگوں کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ اس وقت ،دالیں، سبزیاں اور ضروریات زندگی کی تمام چیزیں 100% سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہیں، غریب ملازمین ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر آہ و پکار کر رہے ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد مڈل کلاس سے غربت کی طرف اور غریب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو کر خود کشیاں اور خود سوزیاں کررہے ہیں۔ جبکہ حکومت صبر کرنے کی تلقین او ر مخالفین پر چڑھائی کو اپنی کارکردگی سمجھ کر بیٹھی ہوئی ہے ۔ حکومت کی وجہ سے ملک کی اسٹبلشمنٹ سے متعلق بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہے اور اپوزیشن جس کا کردار جمہوریت میں اہم ہے ان کی قیادت نے احتساب کے منصفانہ نظام قائم کرنے، آزاد الیکشن کمیشن کا مطالبہ کرنے ، سستے انصاف کی فراہمی ، مہنگائی ،بے روزگاری کے خلاف یکجا ہوکر آواز اٹھانے کی بجائے اپنی اپنی قیادت پر قائم مقدمات کو مقصد بنا کر سیاسی پارٹیوں کو کمپنیز کا طرز دے دیا ہے جس میں سیاسی پارٹیوں کے ادارے مفلوج اور خاندانی وراثت عروج پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی پونرآئزیشن اور انتشار اتنی بڑھ چکی ہے کہ ملک کے 22 کروڑ عوام کو مذہبی، لسانی، صوبائی تعصبات میں مبتلا کر کے ملک کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ بیرونی ملکوں کی سازشیں اور ان کا دباﺅ اس ملک کے اندرونی معاملات میں اتنا بڑھ چکا ہے کہ کرسمس سے پہلے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکے بعد افغانستان کے حالات کی وجہ سے ہمارے ملک کے حالات میں بھی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس وقت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر توجہ دے اور ادارے ایک دوسرے کی حدود میں جانے اور طاقت حاصل کرنے کی بجائے اس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کیلئے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرکے ملک کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ اسٹبلشمنٹ خاص پارٹی کے پاکٹ میں جانے کی بجائے اپنا آزادانہ کردار ادا کرے ، عدلیہ آئین اور قانون کے مطابق تنازعات کے حل کیلئے فیصلے کرے اور سب سے بڑھ کر غریبوں اور مظلوموں کی داد رسی کیلئے انھیں فوری اور سستا انصاف فراہم کرے ۔ سرکاری ادارے عوام کو لوٹنے ، انھیں تنگ کرنے کی بجائے عوام کی خدمت کو شعار بنائیں اور حکومت اپنے منشور کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں، مہنگائی ، بے روزگاری کے خاتمے، تعلیم، صحت کی فراہمی اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ اپوزیشن پارٹیاں وراثتی سیاست اور احتساب سے بچنے کی بجائے تمام لوگوں کے احتساب اور سیاست اور پارٹیوں کو جمہوری بنا نے اور ملک کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرےں۔اس وقت ہمیں باہمی دست و گریباں ہونے کی بجائے تمام فریقین کو ایک دوسرے کی عزت و احترام اور ملکی مسائل کو سمجھ کر آئین اور قانون کے مطابق باہمی بات چیت کے ذریعے ملک کو خطرات سے نکال کر ان کی بہتری کیلئے کام کریں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.