Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکی انتخابات میں ’اکتوبر سرپرائز‘ کا کھیل جانتے ہیں؟(حصہ آخر)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

آصف شاہد

 

صدر ٹرمپ کی بیماری کو اکتوبر سرپرائز کا نام بھی دیا گیا۔ ہر صدارتی الیکشن میں اکتوبر سرپرائز ایک بڑی خبر ہوتی ہے جو الیکشن کا رخ بدل دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اکتوبر سرپرائز کی بحث چھڑی رہی اور صدر ٹرمپ کی بیماری کو ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بتایا گیا۔ اکتوبر سرپرائز امریکی انتخابات میں غیر معمولی فتوحات اور غیر متوقع ناکامیوں کی بنیاد بنتا آیا ہے۔1972ءمیں ری پبلکن صدر رچرڈ نکسن دوسری مدت صدارت کے لیے انتخابی میدان میں تھے اور امریکی افواج ویتنام کی جنگ میں پھنسی ہوئی تھیں۔ ووٹنگ سے چند دن پہلے ان کے سیکیورٹی ایڈوائزر ہنری کسنجر نے بیان دیا کہ جلد امن ہونے کو ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی نکسن کے حمایتی جنگ کے خاتمے کی تعریفوں کے پلے کارڈ اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے۔ نکسن کے حریف جارج میک گورن نے اس اعلان کو ‘ظالمانہ سیاسی دھوکا’ قرار دیا۔اس اعلان کی وجہ سے نکسن نے انتخابات میں کامیابی تو حاصل کرلی لیکن جنگ کو ختم ہوتے ہوتے مزید 3 سال لگ گئے۔1979ءمیں ایران میں امریکی سفارتخانے پر حملہ ہوا اور باون سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے تہران سے مذاکرات کیے اور مسئلہ جلد حل کی طرف بڑھتا نظر آیا۔ 21 اکتوبر کو اس وقت کے ایرانی صدر محمد علی رجائی نے غیر متوقع طور پر بیان دیا کہ یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گے۔ اس بیان نے ری پبلکن صدارتی امیدوار کے اس دعوے کو سچ ثابت کردیا کہ جمی کارٹر کی انتظامیہ کمزور ہے اور یرغمالیوں کو رہا کرانے کے قابل نہیں۔ ایرانی صدر کے بیان نے جمی کارٹر کی یقینی فتح کو شکست میں بدل دیا اور ریگن کو شاندار فتح ملی۔ اس انتخابات کے بعد سازشی تھیوری آئی کہ ریگن نے یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کے لیے ایران کے ساتھ خفیہ ڈیل کی تھی۔

2000ءمیں ری پبلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش کا ڈیموکریٹ امیدوار الگور کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ تھا۔ ووٹنگ سے 5 دن پہلے امریکی میڈیا نے رپورٹ شائع کی کہ بش 1976ئ میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔ بش کے حمایتیوں نے الزام لگایا کہ الگور نے یہ خبر میڈیا کو لیک کی ہے۔ خود بش نے بھی یہی الزام دہرایا اور کہا کہ ڈیموکریٹس گندی سیاست کر رہے ہیں۔ ووٹنگ میں الگور جیت گئے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے متنازع بیلٹ کی دوبارہ گنتی کے لیے فلوریڈا کی عدالت کا حکم خارج کردیا اور الیکٹورل کالج میں بش جیت گئے۔

2004ءمیں صدر بش کے مقابلے میں جان کیری صدارتی امیدوار تھے۔ امریکا عراق اور افغانستان کی جنگوں میں پھنسا ہوا تھا اور ووٹنگ سے ایک ہفتہ پہلے الجزیرہ نے اسامہ بن لادن کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں اسامہ نے امریکی صدر کو طعنے مارے اور امریکا کو دھمکیاں دیں۔ بش نے اس ویڈیو کو انتخابی مہم میں استعمال کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا کو صرف وہ ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں، یوں بش آسانی سے کامیاب ہوگئے۔7 اکتوبر 2016ءکو واشنگٹن پوسٹ نے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو جاری کی جس میں وہ خواتین سے نازیبا حرکات کرتے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے کرتے نظر آئے۔ اس ویڈیو کی وجہ سے ری پبلکن پارٹی کے کئی اہم رہنما ٹرمپ کی حمایت سے دستبردار ہوگئے۔ 28 اکتوبر کو ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کانگریس میں بیان دیا کہ وہ سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کی طرف سے سرکاری خط و کتابت کے لیے ذاتی ای میل سرور کے استعمال کی تفتیش کر رہے ہیں۔ ہلیری کلنٹن، ایف بی آئی ڈائریکٹر کے اس بیان کی وجہ سے ابتدائی جائزوں میں مقبولیت میں آگے ہونے کے باوجود الیکشن ہار گئیں۔صدر ٹرمپ ہسپتال سے واپس آئے تو وائٹ ہاو¿س نے ان کی ویڈیو اور کئی تصاویر جاری کیں جن کا مقصد امریکی عوام کو یقین دلانا تھا کہ صدر کورونا کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں۔ وائٹ ہاو¿س کی ویڈیو اور تصاویر نے عوام کو یقین دلانے کے بجائے مزید شکوک و شبہات میں ڈال دیا اور مزید افواہوں اور ابہام نے جنم لیا۔صدر ٹرمپ کی بیٹی اور ان کی مشیر ایوانکا ٹرمپ نے صدر کی ایک تصویر ٹویٹر پر شیئر کی جس میں انہیں والٹر ریڈ ہسپتال میں کام کرتے دکھایا گیا۔ ایوانکا نے اس کے ساتھ لکھا کوئی بھی بات ٹرمپ کو امریکی عوام کے لیے کام کرنے سے روک نہیں سکتی۔ ایک اور تصویر میں صدر ایک کاغذ پر دستخط کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس کا غور سے معائنہ کیا جائے تو وہ سادہ کاغذ پر دستخط کرتے نظر آتے ہیں۔ویسے تو صدر ٹرمپ کی کئی تصاویر جاری کی گئیں جن میں وہ بظاہر مختلف مقامات پر الگ الگ لباس میں نظر آرہے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب تصاویر محض 10 منٹ کے دورانیے میں لی گئیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ صدر سارا دن کام کرتے رہے۔ وائٹ ہاو¿س کی طرف سے جاری کی گئی 4 منٹ کی ویڈیو میں ایک مقام پر صدر کھانستے محسوس ہوتے ہیں جسے اناڑی پن کے ساتھ ایڈٹ کیا گیا ہے۔

صدر کی بیماری سے متعلق وائٹ ہاو¿س معالج اور چیف آف اسٹاف کی تضاد بیانی نے بھی شبہات کو بڑھاوا دیا۔ جیسے ایک طرف معالج نے ہفتے کے روز میڈیا کو بتایا کہ صدر کی حالت اچھی ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں سے انہیں بخار نہیں ہوا اور وہ کسی بھی وقت ہسپتال سے باہر آسکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف چیف آف اسٹاف مارک میڈوز نے پول رپورٹرز کو بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں سے صدر کی حالت زیادہ اچھی نہیں اور اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ صدر نے جمعہ کے روز ہسپتال منتقلی سے پہلے وائٹ ہاو¿س میں آکسیجن بھی لی۔ ہفتے کی رات مارک میڈوز نے فاکس نیوز کو بتایا کہ صدر کو بخار تھا اور ان کے خون میں آکسیجن کی سطح کم تھی۔صدر ٹرمپ کی تضاد بیانیوں کی وجہ سے ان کی بیماری کے ساتھ ہی سازشی تھیوریز بھی گردش کرنے لگی تھیں۔ ٹی وی رائٹر اور پروڈیوسر ڈیوڈ سائمن نے فوری ردِعمل میں کہا کہ ’جب کوئی شخص بے تحاشا جھوٹ بولتا ہے تو کیا میں اس کے بارے میں یہ تصور کرنے میں غلط ہوں کہ یہ ایک جھوٹ اور اکتوبر سرپرائز ہے؟ ٹرمپ کورونا پازیٹو ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہ خود کو بغیر علامات والے وائرس کا شکار بتائیں گے، بلیچ کے ساتھ شفایابی کا دعویٰ کریں گے، پھر کورونا کو ڈیموکریٹ پارٹی کا فریب قرار دیں گے، کیا میں غلط کہہ رہا ہوں یا درست؟‘ٹرمپ کے حامی، قدامت پسند مصنف کرٹ شلیکٹر نے کہا کہ ’اس خبر کا مقصد نیویارک ٹائمز کی منفی رپورٹنگ کے بعد خبروں کو نیا رخ دینا ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صدر ڈرامہ کر رہے ہیں‘۔صدر نے ہسپتال سے وائٹ ہاو¿س واپسی سے پہلے ریکارڈ کیے گئے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’امریکی عوام گھبرانے کے بجائے گھروں سے باہر آئیں اور کام کریں۔ مو¿ثر دوائیں بنالی گئی ہیں، کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ ویکسینز بھی جلد آ رہی ہیں‘۔

میری نظر میں صدر کی بیماری شاید اکتوبر سرپرائز نہ ہو بلکہ ویکسین اکتوبر سرپرائز بن سکتی ہے۔ ٹرمپ کئی ہفتوں سے بار بار کہہ رہے تھے کہ الیکشن سے پہلے ویکسین آجائے گی۔ اب اطلاع یہ ہے کہ وائٹ ہاو¿س نے اپنے سائنسی مشیروں پر بھی عدمِ اعتماد کردیا ہے اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ویکسین گائیڈلائنز کو کالعدم کرتے ہوئے ویکسین جلد مارکیٹ کرنے کی تیاری کرلی ہے، حالانکہ امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے ایک ماہ پہلے کانگریس میں بیان دیا تھا کہ الیکشن سے پہلے ویکسین کے تیار ہونے کے امکانات نہیں۔

ٹرمپ اس کے باوجود اصرار کرتے رہے کہ ویکسین وسط اکتوبر یا نومبر کے آغاز میں تیار ہوجائے گی۔ اگست میں صدر ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ ‘ڈیپ اسٹیٹ’ یا اسے جو بھی نام دیا جائے، ویکسین کی منظوری میں رکاوٹ ہے تاکہ انتخابی امکانات کو متاثر کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ ایف ڈی اے کی ویکسین کے لیے گائیڈ لائنز کی وائٹ ہاو¿س سے منظوری ضروری ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) گائیڈ لائنز کے مطابق ویکسین رضاکاروں کو آخری خوراک دینے کے 2 ماہ بعد تک اس کے اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے لیکن وائٹ ہاو¿س اس کو ماننے کو تیار نہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ 3 نومبر سے پہلے کسی بھی دن صدر ٹرمپ ویکسین کا اعلان کرسکتے ہیں اور اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کسی سائنسدان کو بھی سامنے لاسکتے ہیں۔

کورونا وائرس کو دونوں طرف سے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو بائیڈن بار بار امریکا میں وائرس متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کا موازنہ بھارت اور روس سے کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی تضاد بیانی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور فیس ماسک استعمال نہ کرنے اور فیس ماسک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کو بھی ان کی تقریروں میں نمایاں کیا جا رہا ہے۔

جو بائیڈن کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی بھی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ابھی تو نظر نہیں آتے لیکن کارٹر بمقابلہ ریگن الیکشن کی طرز پر صدر ٹرمپ کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ٹرمپ بار بار اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اکتوبر سرپرائز دے کر اپنی جیت کے امکانات مضبوط کرسکتے ہیں لیکن کیا ایسی کسی ویکسین پر عوام کو اعتماد ہوگا؟

3 نومبر کی پولنگ کے بعد ایک اور امتحان درپیش ہونے کا خدشہ ہے اور وہ ہے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا۔ صدر ٹرمپ بار بار الیکشن فراڈ کے خدشات کا ذکر کرتے ہیں، بذریعہ ڈاک ووٹوں پر سوال اٹھاتے ہیں، گنتی میں تاخیر کا بھی امکان ظاہر کرتے ہیں اور اس تاخیر اور بعدازاں دوبارہ گنتی کے مطالبات اور ان کی آڑ میں دھاندلی کا ڈر ظاہر کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ سے بار بار پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ہر بار بار وہ یہ سوال ٹال گئے۔

ووٹنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اتوار تک 33 لاکھ ووٹ کاسٹ ہوچکے تھے، ووٹروں کی مزید بڑی تعداد کورونا وبا کے ڈر سے بذریعہ ڈاک ووٹنگ یا قبل از وقت ووٹنگ کا سوچ رہی ہے اور 3 نومبر سے پہلے بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ ہوجائیں گے۔ امریکا کے انتخابی مبصرین کو سب سے بڑا سوال جو درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ کیا ٹرمپ نتائج تسلیم کرلیں گے؟ اگر انہوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا تو کون ان سے تسلیم کروائے گا؟ اس کا حل کیا ہوگا؟

سب سے بڑا خدشہ جو سر اٹھا رہا ہے اس کا سوچ کر ہی مبصرین بے چین ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ووٹوں کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا جا سکتا ہے، بذریعہ ڈاک موصول ہونے والے ووٹوں کو شمار سے باہر کرنے کی کوشش میں ہر ریاست میں عدالتی کارروائی کی تیاری ہوچکی ہے اور یہ تیاری ری پبلکن وکیل کر رہے ہیں۔ اگر ووٹوں میں بڑا فرق نہ ہوا تو مظاہرے بھی شروع ہوسکتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کا تنازع عدالت کو حل کرنا پڑسکتا ہے اور اسی لیے صدر ٹرمپ حال ہی میں سپریم کورٹ کی خالی ہونے والی نشست پر تقرر الیکشن سے پہلے چاہتے ہیں جبکہ جو بائیڈن کا مطالبہ تھا کہ یہ تقرر نئے صدر پر چھوڑ دیا جائے۔ 3 نومبر کی پولنگ سے 20 جنوری کو صدر کے حلف تک کا درمیانی عرصہ امریکی سیاست میں طوفانی بھی ہوسکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.