Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

عمرانی یوٹرن ان کی سیاسی ”بال ٹمپرنگ“ ہے ، حافظ حسین احمد

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(آن لائن)زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے زیراہتمام زرعی ٹیوب ویلز کی بجلی کی بندش ،صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے سبسڈی کی عدم فراہمی ،ہمسایہ ممالک سے پیاز،ٹماٹر ودیگر کی غیرقانونی اسمگلنگ کے خلاف آج وزیراعلیٰ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دیاجائے گا۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ورکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی ،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی کے مطابق زمیندارایکشن کمیٹی کی جانب سے محکمہ واپڈا کی جانب سے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کے 622 فیڈرز پر 2 سے 4 گھنٹے بجلی فراہمی و مختلف فیڈرز کے بجلی بلوں کی ادائیگی کے باوجود،سبسڈی کی عدم ادائیگی پربجلی کی بندش اورافغانستان و ایران سے آنے والے فروٹ اور سبزیوں کی اسمگلنگ کے خلاف آج بروزسومورار 12اکتوبر کو وزیراعلی ہاﺅس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیاتھا ،آج بلوچستان بھر سے زمیندار صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پہنچیںگے جو ایوب اسٹیڈیم سے ریلی کی شکل میں وزیراعلیٰ ہاﺅس کی طرف روانہ ہوںگے جہاں پر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دیاجائے گا،انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے زمینداران پہلے سے ہی مشکلات سے دوچار ہے ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے زمینداروں کے بہت زیادہ مالی نقصان ہوا جس کے بعد رہی سہی کسر محکمہ واپڈا کی جانب سے بجلی کی بندش سے پوری کردی ، صوبے کے اکثریت فیڈرز کی بلیں 75 سے 82 فیصد تک ادائیگی یقینی بنائی گئی ہے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی ٹیوب ویلز پر سبسڈی کی عدم فراہمی ٹیوب ویلز کی بجلی بند کردی گئی ہے جبکہ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کے 622 فیڈرز پر 2 سے 4 گھنٹے بجلی فراہمی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے فصلات اور باغات تباہی کے دہانے پر ہیں دوسری جانب ہمسیہ ممالک ایران اور افغانستان سے پیاز ، انگور، سیب اور ٹماٹر ودیگر کی غیر قانونی اسمگلنگ کی وجہ سے صوبے کے زمینداروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیاہے ،زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے زمینداروں کے ساتھ کسی بھی ناانصافی پر خاموشی نہیں رہے گی آج صوبے کے تمام زمینداران اپنے حق کیلئے احتجاجی دھرنے میں شرکت کرینگے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.