Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

وفاقی حکومت کا شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ کیس کی دوبارہ تفتیش کا فیصلہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی برطانیہ میں ٹی ٹیز سمیت نئے ثبوت ملے ہیں جس کی بنیاد پر حدیبیہ پیپر ملز کیس کی نئے سرے سے تفتیش شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ ‘آج وزیر اعظم عمران خان کو قانونی ٹیم نے شہباز شریف کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی’۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو تفتیش نئے سرے سے شروع کرنے کی بدایات دی جارہی ہیں’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے، اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کے لیے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا، اس لیے اس کیس کو انجام تک پہنچانا از حد اہم ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کچھ نئی معلومات ملی ہیں، شہباز شریف نے برطانیہ میں ٹیٹیاں لگائیں اور اس کے ذریعے پاکستان میں پیسے لائے یہ ساری شہادت حدیبیہ سے لنک کرتی ہیں اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایف آئی اے کو کیس دوبارہ کھولنے کا کہا ہے’۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ ‘عدالتوں کے سامنے پرانے ثبوت کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا، اس کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس معاملے میں کچھ نئے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں، خاص کر برطانیہ میں شہباز شریف نے نئی ٹی ٹیاں لگائیں اور ان کے ذریعے پیسہ یہاں آیا اور دور میں شہادتیں حدیبیہ کیس سے لنک کرتی ہیں’۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ‘یہ شہادتوں کی نئی چین ہے، جو سامنے آئی ہے اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کرے’۔

 

قبل ازیں گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی بیرون روانگی کی اجازت نہ دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر کی جانب سے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی درخواست پیش کی گئی اور درخواست کی اگلی ہی سماعت میں انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تاہم اس تمام معاملات میں حکومت سے کوئی مؤقف شامل نہیں رہا۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ شہباز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان ہزاروں قیدیوں کو حقوق کو ایک طرف رکھ دیں اور انہیں بھول جائیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے عدالتی فیصلے کے بعد عوام کو گمراہ کرنا شروع کردیا ہے اور شہباز شریف کے خلاف شہزاد اکبر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لیے میں یہاں 55 جلد پر مشتمل ثبوت لے کر آیا ہوں جس میں 100 سے زائد گواہان کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ جلدوں پر مشتمل دستاویزی ثبوت ریفرنس کے ساتھ عدالت میں داخل ہوچکے ہیں۔

شہزاد اکبر نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ‘یہ ہیں وہ ذرائع جو آپ بتانے سے قاصر ہیں لیکن میرے پاس ہیں اور عید کے بعد ٹرائل آگے چلے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جنہیں صرف نظر کردیا گیا اور اسی منی لانڈرنگ کی وجہ سے پاکستان آج فیٹف کی گرے لسٹ میں ہے، حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا، انہوں نے نیب کو مشورہ دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتساب ادارے کو اپیل کرنی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.