Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ملک کے 23 ویں وزیراعظم کے انتخاب کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد : ملک کے 23 ویں وزیراعظم کے انتخاب کے لئے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس جاری ہے۔ وزارت عظمیٰ کیلئے نون لیگ کے شہباز شریف اور تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی مد مقابل ہیں۔

ڈپٹی سپکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد پر کارروائی ہوچکی، میری رولنگ کو غیر آئینی قرار دینے پر کافی بحث ہوئی، غیر ملکی مراسلہ میرے ہاتھ میں ہے، مراسلے میں دھمکی دی گئی، عمران خان کو کس چیز کی سزا دی گئی ؟ چیف جسٹس کو مراسلہ قومی اسمبلی کی جانب سے بھیج رہا ہوں۔

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج کوئی کامیاب ہوگا اور کوئی آزاد ہوگا، ایک خودی کا راستہ اور ایک غلامی کا، قوم کے سامنے 2 راستے ہیں، ایک اختیار کرنا ہوگا، ان کا مشکور ہوں جن لوگوں نے وفاداری تبدیل نہیں کی، آج ایک آئینی عمل اختتامی مرحلے تک پہنچنا ہے، تحریک انصاف کی سوچ لوگوں کے دلوں میں پیوست ہوچکی، تاریخ گواہ ہے ان میں کوئی ہم آہنگی نہیں، اس اتحاد میں بینظیر بھٹو کی کردار کشی کرنیوالے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ان کے ساتھ بیٹھ گئی جن کو 4 سال کوستے رہی، ایک بہت بڑا منصوبہ ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے، کچھ سر جھکانے اور کچھ سر اٹھا کر جینے کا ارادہ کر کے آئے ہیں، عمران خان نے کہا طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، عمران خان نے اردو زبان اور قومی لباس کو فروغ دیا، عمران خان ے قوم کو سر اٹھا کر جینے کا درس دیا، دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کیا، کل پورے ملک کے عوام نے بتا دیا کہ وہ پی ٹی آئی کیساتھ ہیں، شہباز شریف آج وزیراعظم بننے کیلئے خود کو میدان میں اتار رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ کون نہیں جانتا کہ شہباز شریف کو مسلط کیا جا رہا ہے، آنیوالے وزیراعظم کہتے تھے پیٹ چاک کر کے پیسہ واپس لاؤں گا، پیپلزپارٹی کی بلاول کو وزیر خارجہ بنانے کی خواہش ہے، انوکھی جمہوریت ہے، والد وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ۔

خیال رہے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے سپیکر چیئر سے شیڈول پڑھ کر سنایا جائے گا۔ قائد ایوان کے انتخاب کے لئے تمام ارکان کو ایوان میں کارروائی کا آغاز ہوتے ہی پہنچنا ہوگا۔ ارکان کو ایوان میں حاضری کے لیے پانچ منٹس تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔ تمام ارکان کے حاضر ہونے اور پانچ منٹس گھنٹیاں بجنے کے بعد تمام دروازے بند کر دیئے جائیں گے۔

دروازوں کے مقفل ہونے کے بعد کوئی رکن اندر سے باہر یا باہر سے اندر داخل نہیں ہوسکے گا۔ لابیز کے دروازوں پر سارجنٹ ایٹ آرمز متعین کر دیئے جائیں گے۔ سپیکر چیئر سے ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیے میاں شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی دو امیدوار ہیں۔ دونوں امیدواران کے لئے الگ الگ لابیز مختص کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی اجلاس کی کل کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 91 اور قاعدہ 32 کے تحت چلائی جائیگی۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 172 ارکان لازمی درکار ہونگے۔ گزشتہ روز تحریک عدم اعتماد کو اپوزیشن 174 ارکان کے ساتھ کامیاب بناچکی ہے۔ نئے قائد ایوان کی حلف برداری آج رات 8 بجے ہوگی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.