Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

فوج ساتھ ہے، اپوزیشن ناکام ہوگی وزیر اعظم کا بیان کشیدگی بڑھائے گا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

موجودہ حالات میں جہاں افہام و تفہیم سے کام لینا وقت کا تقاضا ہے وہیں حکومتی عہدے داروں اور وزیر اعظم کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو ذمہ داری کا احساس ہی نہیں ہے۔ حالات جو بھی ہوں اس کی بڑی ذمہ داری ہمیشہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پی ڈی ایم کے لاہور کے جلسے کے حوالے سے یقینا حکومت پریشان ہے۔ اس کی پریشانی ان کے بیانات سے واضح ہے۔ اگر پی ڈی ایم قیادت مکمل اتفاق رائے سے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیتی ہے اور پیپلز پارٹی بھی اس میں شامل ہو تو یہ حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ایک صوبے کی حکومت اور مکمل اپوزیشن کے مستعفی ہونے کے بعد ضمنی انتخابات آسان نہیں ہوگا۔ حکومتی رویہ غیر مناسب اور غیر سنجیدہ ہے۔ حالات کی سنگین کا ادراک کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کے خیر خواہ انہیں بتائیں کہ اس قسم کے بیانات سے گریز کیا جائے۔ بالخصوص ہر معاملے میں فوج کو شامل کرنا بذات خود فوج کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔ سب سے بڑے ادارے کو اس قسم کے بیانات سے متنازعہ بنانا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ملک میں اس وقت غربت ہر روز بچے جن رہی ہے، لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے، بے روزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی۔ عوام روٹی کو ترس رہے ہیں اور وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ فوج ساتھ ہے، اپوزیشن کچھ نہیں کر سکتی۔ یہ اپوزیشن کے مﺅقف کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ مقتدر حلقوں کو بھی اس حوالے سے سوچنا ہوگا۔ حالات کی سنجیدگی کو پس پشت ڈال کر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفے دے گی تو ضمنی الیکشن کرا دیں گے،اپوزیشن اگر پراعتماد ہے تو میں بھی پراعتماد ہوں، اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلا گ کیلئے تیارہیں لیکن این آراو نہیں دیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ این آر او کے وا سہر چیز پر بات چیت ہو سکتی ہے، مجھے پتا ہے کہ اپوزیشن کو بیرون ملک سے بھی کوئی سپورٹ حاصل ہوسکتی ہے، جب بھی اپوزیشن سے بات کریں تو اپنے مقدمات لے کربیٹھ جاتی ہے، یہ چاہتے ہیں نیب کا خاتمہ ہو اور ان کے کیسز بھی ختم ہوجائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کچھ ممالک پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے، عراق میں جو کچھ ہوا، وہ بھی اسی وجہ سے ہوا، عراق اور ایران کو آپس میں لڑا کرملکوں کوتوڑنے کی کوشش کی گئی، اس وقت سعودی عرب اورایرا ن کوکمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم ممالک کو غیر مستحکم کیا گیا، پاکستان میں بھی ایسا کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن حکومت کی رٹ کمزور نہیں، اس سارے عمل کے پیچھے پورا پلان لگتا ہے لیکن یہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں، ہم اپنے ایجنڈے پر چل رہے ہیں، فوج ہمیں مکمل طورپر سپورٹ کررہی ہے،ہم ملک کے مفاد کیلئے کام کررہے ہیں اورسارے ادارے بھی ہمارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اپوزیشن سے سیاسی ایشوز پربات چیت کی جائے لیکن وہ اپنے مقدمات لے کربیٹھ جاتی ہے اوراین آراو کی کوشش کرتی ہے جیسا کہ نیب کے قوانین میں ترمیم کے موقع پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا حکومت میں آنے کے بعد فوری طورپر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا بڑی غلطی تھی، دوسری بڑی غلطی اداروں کی اصلاحات کا عمل شروع نہ کرناتھا،اس قسم کے مالی خسارے میں آئی ایم ایف کے پاس فوری جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا آئی ایم ایف بجلی کی قیمتیں بڑھانا چاہتا ہے لیکن ہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اپریل 2021میں سینٹ الیکشن کے بعدبلدیاتی الیکشن کرائیں گے۔ انہوں نے کہا بیوروکریسی کی پرانی سیاسی وابستگی سے پنجاب میں مسائل ہیں، 40لیگی ارکان سرکاری زمینوں پرقابض ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی وبا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس خطرناک ہوتا جا رہا ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مزید کیا تباہی پھیلائے گا،سب کو اس کے بارے میں سوچنا چاہئے لیکن مکمل لاک ڈاﺅن پاکستان جیسے ملک کیلئے تباہی ہوگا،اس موقع پر اپوزیشن انتشار پھیلانا چاہتی ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ ہم طاقت کا استعمال کریں لیکن حکومت طاقت کا استعمال نہیں کریگی۔انہوں نے کہا مجھے فوج کی جانب سے ہر پالیسی پر مکمل حمایت حاصل رہی ہے،میں چاہتا ہوں کہ اسمبلی میں سوالات کا جواب دوں لیکن مجھے بات بھی نہیں کرنے دی جاتی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اداروں میں اصلاحات کرنے میں دیر کر دی، فوری اصلاحات نہ کرنے سے ملک کو نقصان ہوا، میں اپوزیشن سے زیادہ پُر اعتماد ہوں، اپوزیشن نے استعفے دیئے تو ہم الیکشن کرا دیں گے، اگر ان کو این آر او دیا تو یہ ملک کے ساتھ غداری ہوگی، آج ان کے مطالبات مان لوں تو یہ ہر احتجاج ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا حکومتی رٹ کمزور نہیں، عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے، مجھے معلوم ہے جیت میری ہوگی۔ انہوں نے کہا نیب کیس کی وجہ سے حفیظ شیخ کو ہٹانا پڑا تو آپشن موجود ہے، معیشت درست سمت میں چل پڑی ہے،مجھے پتا ہے مشکل وقت ہے مگر مجھے یہ بھی پتا ہے کہ جیت میری ہوگی، ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، چند ملکی اتحاد پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتا، عراق میں جو کچھ ہوا، وہ اسی طرح کیا گیا، عراق اور ایران کو لڑوا کر دونوں ملکوں کو کم زور کرنے کی کوشش کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق مجھ پر کوئی دبا¶ نہیں ڈالا گیا، سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہیں۔ عمران خان سے معاونِ خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹرثانیہ نشتر نے ملاقات کی۔وزیرِ اعظم نے احساس پروگرام کو پاکستان میں غربت میں کمی لانے اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا اور اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیموں کے بننے کی 5 دہائیاں گزرنے کے بعد پاکستان میں 2 بڑے آبی ذخائر مہمند اور بھاشا کی صورت میں زیر تعمیر ہیں۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ مہمند ڈیم سے 800 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی جبکہ 16 ہزارایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔مزیدبرآں وزیراعظم نے سارک کے 36ویں یوم تاسیس پر خصوصی پیغام میں پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے سارک رکن ممالک کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سارک چارٹر کا مقصدجنوبی ایشیاءمیں تعاون، سماجی و اقتصادی ترقی کا فروغ تھا۔ وزیراعظم نے کہاکہ سارک تنظیم دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کی امنگوں کی ترجمان ہے،وباءکا دور یاد دلاتا ہے کہ مشترکہ مقاصد کیلئے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہاوبائی دور میں خطے میں انسداد غربت کی مشترکہ جدوجہد کی شدت سے ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ افسوس بوجہ طویل تصفیہ طلب تنازعات خطہ پاکستان سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھا سکا،امید ہے سارک تنظیم مصنوعی رکاوٹوں کو عبور کرکے آگے بڑھے گی۔ترقی کے دعوے کاغذ پر تو اچھے لگتے ہیں تاہم زمینی حقائق کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں کم از کم بیانات ایسے دینے چاہیں جو باعث کشیدگی نہ بنیں۔

بلوچستان میں کورونا کیسز میں ہوش ربا اضافہ ، لیاقت شہوانی کی تنبیہ
ملک میں یومیہ 50 کی اوسط سے کورونا سے اموات ہورہی ہیں،بلوچستان میں کورونا کے دوسری لہر میں شدت آرہی ہے، خدشہ ہے موسم سرما میں وبا کا عروج آئیگا، دوسری لہر میں شرح اموات پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے،ہسپتالوں میں 24 مریض آکسیجن پر ہیں،دسمبر کے پہلے ہفتے میں کیسز کی شرح 11فیصد سے زائد ریکارڈ ہوئی ہے،نومبر کے مہینے میں کیسز کی شرح 7 فیصد تھی، اپوزیشن جلسہ جلوس اور ریلیاں نکال رہی ہے،رہنماوں کے رویے سے عام۔لوگ سمجھ رہے ہیں۔کورونا نہیں۔ہے، پی ڈی ایم استعفی لے سکتی ہے نا استعفی دے سکتی ہے، پی ڈی ایم نے استعفے دینے کا شوشہ چھوڑا ہوا ہے، یہ شوشہ ملتان جلسے کی ناکامی کے بعد عوام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ہے، اپوزیشن کے ان جلسوں سے کورونا کا یلغار ہوگا،پی ڈی ایم جلسہ گاہ کو مذبح خانہ میں تبدیل کررہے ہیں، سی ایم سندھ کورونا کے پھیلاو روکنے کیلئے آگے رہے، ہاتھ تک جھوڑا، اب مراد علی شاہ خاموش ہیں، خدارا اپوزیشن اس کو انا کا مسئلہ نہ بنائے، ہار یا پار کا جملہ بھی جلسہ کامیاب بنانے کیلئے لگایا گیا،یہ جلسے جلوس لانگ مارچ کا نہیں لاک ڈاون کا وقت ہے، پی ڈی ایم میں صاحب بصیرت افراد سے گزارش ہے اپنا کردار ادا کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.