Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

چین اور امریکہ 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ڈاکٹر فرخ سلیم

 

 

کمپیوٹر کا انسانی زندگی میں استعمال بڑھ رہا ہے عمومی و خصوصی معمولات سے لیکر خلا نوردی اور دفاع جیسے نسبتاً پیچیدہ شعبوں میں کمپیوٹروں کا استعمال ہر دن بڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹروں کے ذریعے جہاں انسنای زندگی میں سہولیات داخل ہوئی ہیں وہیں درس و تدریس سے لیکر گھروں کی صفائی اور کھانے پکانے میں بھی ان سے استفادہ ہو رہا ہے ۔ کمپیوٹروں پر بڑھتے ہوئے اس انحصار کو ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک ایک کاروباری موقع کے طور پر بھی دیکھتے ہیںجہاں کمپیوٹروں سے جڑے شعبے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم و تحقیق اور ایجادات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے ۔ عالمی سطح پر کمپیوٹر سازی میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لئے جس انداز میں غیر معمولی سرمایہ کاری ہورہی ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا قطعی مشکل نہیں کہ آنے والا دورکمپیوٹروں ہی کا ہو گا لیکن آج کی طرح تب کمپیوٹر صرف مشینیں نہیں ہوں گی بلکہ وہ سمجھ بوجھ بھی رکھتی ہوں گی جس کی بنیاد پر انسانوں سے ملتے جلتے اور بہت ساری صورتوں میں انسانوں سے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہوں گی ۔ کمپیوٹروں کی اس خصوصیت یا صلاحیت جس میں وہ اپنے طور پر اور خود مختار رہتے ہوئے فیصلہ کر سکیں ۔ ”مصنوعی ذہانت“ کہلاتا ہے جو ایک نیا علم اور تحقیق کا نیا شعبہ ہے ۔ مصنوعی ذہانت سے لیس کمپیوٹروں کا دفاع میں بالخصوص استعمال بڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مستقبل قریب میں جنگوں کے میدانوں میں ایسے آلات کا استعمال زیادہ ہونے لگے گا جو درپیش صورتحال کے مطابق فیصلہ کرینگے اور ان کے فیصلے ایک جیسے رٹے رٹائے نہیں ہوں گے بلکہ وہ انسانوں کی طرح سوچتے سمجھتے ہوئے رد عمل کا مظاہرہ کریں گے ۔ مصنوعی ذہانت سے لیس کمپیوٹروں کے جنگوں میں استعمال کی صورت جیت کس کی ہو گی ؟ ذہن نشین رہے کہ انسانی تاریخ میں جنگیں ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں لیکن یہ سب رفتہ رفتہ ہورہا ہے کہ بری ، بحری اور فضائی محاذوں پر انسانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی مشینوں کو فیصلے کرنے کی اجازت دیں ۔ مصنوعی ذہانت رکھنے والی دفاعی ٹیکنالوجی صرف کسی حملہ آور کو فوری جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کا کردار ہمہ وقت نگرانی تک محدود ہے بلکہ یہ اپنے اہداف کے بارے مسلسل معلومات اکٹھے کرنے اور عسکری سازو سامان کی نقل و حمل یا افواج کی نقل و حرکت کومحفوظ بنانے جیسی اہم ذمہ داریاں بھی نہایت ہی خاموشی، رازداری اور مستعدی سے سرانجام دیتی ہیں جو کسی بھی جنگ کا سب سے اہم جز سمجھا جاتا ہے اور جیت اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس اپنے دشمن کی ہر چال اور حرکت کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی معلومات ہوتی ہیں ۔ روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ ”مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں “ جس کسی کی مہارت اور برتری زیادہ ہو گی وہی دنیا پر حکمرانی کرے گا “ ۔ دو عالمی طاقتیں امریکہ اور چین کمپیوٹروں کی مصنوعی ذہانت میں اضافے اور اس کا دفاعی مقاصد کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر استعمال کر رہی ہیں اور یہی وجہ ہے دونوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کے میدان میں جاری برتری حاصل کرنے کی جنگ جاری ہے اور کوئی ایک فریق بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ چین سے آگے ہے لیکن کئی امریکی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ چین جس رفتار ، توجہ ، جذبے اور عزم و استقامت سے مصنوعی ذہانت میں جملہ وسائل کی سرمایہ کاری کر رہا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ جب مستقبل قریب میں وہ امریکہ پر سبقت لے جائے گا ۔ ہارورڈ کینیڈی سکول کے پروفیار گراہم کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین صرف امریکہ کا پیچھا ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اب تک ہوئی تحقیق کو ایک نئی بلندی تک لے جانا چاہتا ہے ۔ سال 2015 ءمیں چین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف انسانی زبانوں میں تمیز اور ان کے تراجم کرنے کی صلاحیت متعارف کرائی جو امریکی ادارے مائیکرو سافٹ کی جانب سے اسی قسم کی صلاحیت کرنے سے قریب ایک سال قبل تھی ۔ سال 2016-17 ءمیں چین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑے پیمانے پر چہروں کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جس کی مدد سے کسی بھی سینکڑوں افرادکے ہجوم میں چہروں کو بیک وقت شناخت کیا جا سکتا تھا اور کھوج کے اس طریقے کو متعارف کرانے پر چین کو عالمی اعزاز دیا گیا ۔ چین اور امریکہ روایتی حریف ہیں صرف تجارت ہی نہیں بلکہ دفاع کے شعبے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں کامیابی کس کی ہو گی ؟ امریکہ کے پاس انٹرنیٹ پر حکمرانی موجود ہے اور اس کے کئی ادارے جن میں فیس بک ، ایمازون ، ایپل ، نیٹ فلیکس اور گوگل چھائے ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے مقابلے چین کی کمپنیاں موجود تو ہیں لیکن ان کی حکمرانی محدود ہے ۔ اس صورتحال میں چین کی توجہ ”مصنوعی ذہانت“ پر ہس جے کے ذریعے وہ امریکہ کی انٹرنیٹ کی حکمرانی ختم کر سکتا ہے اور اسی مصنوعی ذہانت کی بنیاد (بل بوتے) پر چین امریکہ کی دفاعی صلاحیت پر بھی حاوی ہو سکتا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.