Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکی صدارتی الیکشن اور اس کے خطے پر اثرات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

مہمان کالم : تحریر: عبدالرزاق برق

دنیا کی سب سے بڑی جنہوری اور سپر پاور ملک امریکہ کے تاریخ ساز انتخابات میں کامیاب ہونے والے صدر کے بارے میں خطے میں سب سے بڑا سوال پوچھا جا رہا ہے کیا خطے کے اہم ملک افغانستان کے پر امن سیاسی تصفیہ کے بغیر امریکی افواج کو نکالیں گے؟ کیا افغانستان میں جنگ کا خاتمہ کیا جائیگا۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں کامیاب ہونے والے صدر کے بارے میں لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ نئے صدر کے ہمارے خطے پر کیا سیاسی اور دفاعی اثرات مرتب ہوں گے؟ امریکہ کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے صدر کے بارے میں ہمارے خطے کے افغان امور کے مبصرین دو رائے رکھتے ہیں جس میں ایک رائے یہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر افغانستان سے اپنے فوجیوں کو نکالنے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی پرانی پالیسی میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملے پر بھی متفقہ طور پر اتفاق موجود ہے جوبائیڈن ، ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے انخلا کے منصوبے کی عوامی حمایت کی ہے وہی عسکریت پسندانہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) گروپ سے نمٹنے کے لئے واضح حکمت عملی پر زور دیا ہے وہ افغانستان میں امریکی زمینی فوج کی تعداد میں مزید کمی لانا چاہتا ہے اور اُ س کے لئے وہ آئی ایس اور دہشت گردوں کے دیگر خطرات کے خلاف اپنی خصوصی کاروائیوں پر پوری توجہ مرکوز کریں گے درحقیقت جوبائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ایک قدم اور آگے بڑھ چکے تھے جب ستمبر میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر افغان طالبان اقتدار میں آئیں گے تو امریکہ کو صفر کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کے قومی مفاد کا تحفظ کرے اور انہیں خواتین اور مردوں کو نقصان پہنچانے کے راستے میں نہ ڈالے جوبائیڈن کا یہ بیان افغانستان میں کچھ افغان رہنماﺅں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہوں نے اس امید پر ان کی فتح کے لئے داﺅ پر لگایا تھا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان سے امن معاہدے کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف افغان امور کے ماہرین جوبائیڈن کی خارجہ پالیسی کے مشیر کا یہ بیان بڑ اہم قرار دے رہے ہیںجس میں کچھ دن قبل یہ کہہ چکے ہیں اگر جوبائیڈن انتخابات میں جیت جائے ایک تو وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے لئے ایک جائزہ لیں گے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ چاہیں گے جوبائیڈن بطور صدر وہ افغانستان میں دہشت گردی کے ضنگ کے خلاف کچھ فوجیں کچھ عرصے کے لئے افغانستان میں رکھیں گے جوبائیڈن کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ان سے یہ امید نہیں کہ وہ اچانک کوئی فیصلہ کرے کہ وہ معاہدہ کر لے اور اس کو ختم کرے امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن کی شخصیت کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ بہت زیادہ محتاط صدر ہونگے وہ بڑے عہدوں پر وائس نائب صدر رہے ہیں افغانستان کی جنگ کو انہوں نے دیکھا ہے اور وہ اس کا پالیسی بنانے کا حصہ رہا ہے جوبائیڈن افغانستان سے گہری شناسائی بھی رکھتے ہیں اور وہ ایسے میں اپنے فوجیوں کو نکالنے میں جلد بازی نہیں کرینگے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان نہیں کرینگے بلکہ وہ اس اہم ایشو پر اپنے مشیروں سے مشورہ کرینگے اس کے بعد پالیسی بنائینگے جو بائیڈن افغانستان سے اپنے افواج نکلانے کے لئے کہتے رہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ فوج بلائینگے یعنی افغانستان میں سیکورٹی خالی گاہ نہیں ہونے دینگے یہ بات پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے کچھ تجزیہ کار ان دونوں امیدواروں کے مابین افغان انخلاءکے منصوبے پر متفقہ رائے کو افغان حکومت میں شامل ان عناصر کے لئے بیدار کرنے کی درخواست کے طور پر دیکھتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ امریکی افواج افغانستان میں ہی رہے لیکن اس سے یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ امریکہ کو چھوڑنے کی بے چینی سے طالبان کو زبردست فروغ مل سکتا ہے اور باغیوں پر افغان حکومت کے ساتھ سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے دباﺅں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جوبائیڈن کا افغانستان کے بارے میں موقف زیادہ ناپا جاتا ہے اور وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو ذمہ داری کے ساتھ انخلاءکرنا ہوگا اور امریکہ اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کو روکنے کے لئے افغانستان میں فوج کی بقایا موجودگی کی ضرورت ہوگی اتنے عرصے سے اس واشنگٹن میں افغانستان کی عینک سے دیکھا جاتا ہے ویسے افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکلانے کے بارے میں لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ اس بات کی کیا ضمانت موجود ہے کہ امریکی فوجیوں کو نکلانے سے افغٓنستان میں امن دوبارہ خراب نہیں ہوگا۔ اس بارے میں افغان امور کے ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بقول ان کے افغانستان کے معاملے میں سیاسی تصفیہ کے بغیر امریکی افواج کی جلد بازی واپس لینے سے منقسم ملک میں ایک نئی اور شاید خون خرابہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے عام طورپ رشہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے آئی ایس دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ نے افغانستان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے مشرق وسطی میں اس عسکریت پسند گروہ کا املی مقصد ان افغان عمل کو سبوتاث کرنا ہے حال ہی میں شائع ہونے والی کچھ اطلاعات میں امریکی افواج اور طالبان کے مابین افغانستان کے کچھ حصوں میں آئی ایس سے لڑنے میں ابھرتے ہوئے تعاون کا انکشاف کیا گیا لیکن عسکریت پسند گروپ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا موثر طور پر طالبان اور افغان حکومت کی افواج کے مابین دشمنوں کے خاتمے کے بغیر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی جنگ میں خطے کے ایک اہم ملک پاکستان جن نے ماریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی گئی اور افغان مسئلے کے حل کے لئے پاکستان نے امریکہ کے لئے اہم اور فعال کردار ادا کیا امریکہ کے حالیہ انتخابات میں نئے صدر جوبائیڈن کے منتخب ہونے سے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں اس نئے صدر کے منتخب ہونے پر پاکستان کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے عزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں جوبائیڈن کی کابیانی پر مبارک باد دی ہے اور نئے امریکی صدر کے ساتھ خطے میں کام جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو سال تک تعلقات اچھے نہیں رہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جاری رہی ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ءمیں پاکستان کے خلاف سخت بیان دیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو 33ارب ڈالر دئیے تھے اور پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہمارے لئے اچھے طریقے سے کام نہیں کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے اچھے تعلق جاری رکھنے کے بجائے انڈیا کو اہمیت دی اور ان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ سٹریٹجی ڈائیلاگ تھا امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس کو2017ءمیں معطل کر دیا تھا اس کے علاوہ ہماری جو ملٹری اسٹیٹس تھی وہ پچھلے سال سے معطل رہی ور پورے چار سال کے دوران میں اکنامک اسٹیٹ میں کافی حد تک کمی آئی وہ جو ایک کولیشن سپورٹ پروگرام فنڈ کی مد میں امریکہ نے ہمارے پیسے دئیے تھے جو کہ حکومت پاکستان کا جائز حق بنتا تھا وہ بھی ابھی تک پاکستان کو نہیں ملے ہیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ آخری دو سال کے دوران وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے حکومت پاکستان کے وزیر اعظم امریکہ کے دورے پر گئے اور پاکستان حالیہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لئے جو فعال سہولت کاری فراہم کی ہے اس کے بدلے پاکستان کو یہ فائدہ ہنچے گا کہ امریکہ انڈیا پر زور دیگا کہ ہمرے لئے بلوچستان اور افغانستان کے ساتھ دیگر سرحدی علاقوں میں مسائل پیدا نہ کرے اس وقت پاکستان کی طرف سے طالبان کی سہولت کاری کے معاملے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان عملی رابطوں کو تقویت دی ہے چونکہ امریکی حکومت کو پاکستان کی معاونت درکار تھی اور اس عمل میں پاکستان نے واشنگٹن میں حکام کے ساتھ قریبی رابطے بڑھا لیے ہیں ہمارے وزیر اعظن نے نہ صرف ٹرمپ حکومت سے اچھے تعلقات جاری رکھے بلکہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ صدر جوبائیڈن ہے۔ ہمارے اسٹیبلشمنٹ کا زیادہ رجحان بھی جوبائیڈن کی طرف ہے اسلام آباد کو توقع ہے کہ جوبائیڈن جوبائیڈن کے خیالات امریکی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کے قریب ہیں جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جوبائیڈن کی بطور صدر موجودگی میں ہمارے خطے میں مسائل کا حقیقی ادراک کیا جائیگا امریکہ کے نمائندہ خاص برائے افغانستان سب سے زیادہ ملاقاتیں آرمی چیف جنرل باجوہ سے کر چکے ہیں امریکہ کے نئے صدر کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جوبائیڈن ایک صدر کی حیثیت سے بین الاقوامی اتحادوں کی طرف سے زیادہ مناسب سمجھے اور دیکھتے ہیں جو اوول آفس میں ٹرمپ نے اپنے دور میں منع کیا تھا جوبائیڈن تمام بین الاقوامی تنظیموں کا وقار بحال کریگا اور اس سے پاکستان کی مدد ہوگی دنیا کی ایک سپر پاور ملک کے لئے صدر منتخب ہونے پر مبصرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ اس نئے صدر کی جنوبی ایشیاءکے دیگر ممالک چین، انڈیا اور ایران کے ساتھ اس کی پالیسی کس نوعیت کی ہوگی ؟ کیونکہ یہ تین ممالک جنوبی ایشیاءمیں ہر لحاظ سے اہم ممالک سمجھے جاتے ہیں ۔ جنوبی ایشیاءکے اس تین اہم ممالک کے بارے میں بقول مبصرین کہ سب سے پہلے ایران کے بارے میں جوبائیڈن مفاہمت مند روش اپنائیں گے جوبائیڈن سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو جوہری پروگرام بنانے سے روکنا تھا اسی موضوع پر ایران اور امریکہ کے درمیان تعلق سخت خراب ہوئے اور جب ایعران میں ٹرمپ انتظامیہ نے ڈرون کے ذریعے ایران کے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے ان کے فیصلے نے دونوں ممالک کو رواں سال جنوری میں ایک مکمل جنگ کے قریب کر دیا تھا امریکہ کے لئے مقرر جوبائیڈن جو سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین تھے اس وقت سے ہی جنوبی ایشیاءکے امور میں گہری وابستگی رکھتے ہیں اور امریکہ سینٹ کے ذریعے کیری لوگر برمن کے 75بلین ڈالر کے بل کو منظور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جوبائیڈن وائٹ ہاﺅس کو اس خطے کے لئے کیا اہم ہے کے بارے میں بہتر معلومات حاصل ہونگی جوبائیڈن جنہوں نے آٹھ سال تک اوبامہ کے نائب کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں اور یہاں تک کہ ایران کے بارے میں زیادہ مفاہمت والی خارجہ پالیسی حاصل کرینگے رہ گئی یہ بات کہ انڈیا سے جوبائیڈن کی پالیسی کیسی ہوگی اس بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے باز نہیں آسکے گا مگر جوبائیڈن انتظامیہ اسٹریکٹجک اور معاشی امور پر بھارت کے ساتھ تعاون ہوئے ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں خاموش نہیں رہے گی ٹرمپ کی انتظامیہ کشمیر میں نریندر مودی کی پالیسیوں کی سازشتی طور پر خاموش رہی یہاں تک کہ جب ٹرمپ اس سال کے شروع میں نئی دہلی کے دورے پر تھے انہوں نے ایسی کوئی بات کرنے سے انکار کیا جس سے ان کے میزبان کو تکلیف پہنچے لیکن دوسری طرف نئے امریکی صدر جوبائیڈن اس بارے میں متوازن انداز اختیار کرینگے ور جو بائیڈن انتظامیہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو مزید گہرا رکھنا چاہے گی اور انڈیا امریکا کے لئے چین کے حوالے ایک اہم ملک رہے گا انڈیا اور امریکا کے درمیان 90کی دہائی سے تعلقات میں قربت ہوئی ہے اور اس میں اب تک بہتری بھی آئی ہے اور دونوں ممالک نے2018ءمیں دفاعی معاہدہ ہوا تھا اس معاہدے کی وجہ سے انڈیا دفاعی اور سیاسی لحاظ سے چین کے خلاف ایک کنفیوژن پیدا ہوئی ہے اور یہ معاہدے بہت اہم بھی ہیں بقول مبصرین کے اگر خدانخواستہ انڈیا اور چین کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا انڈیا کے ساتھ جنگ میں ضم ہو جائیگا جو کہ یہ خطے کے لئے ایک خطرے کی بات بھی ہوگی مبصرین کا جوبائیڈن کی طرف سے ایسی پالیسی جاری رکھنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ جوبائیڈن کا سٹائل دوسری قسم کا ہے وہ دھیمے مزاج کے خیالات کی شخصیت ہے ان کو پاکستان کی لمبی ٹینشن کا پتہ اور ادراک ہے جوبائیڈن اچھے طریقے سے پاکستان کو جانتے ہیں وہ پاکستان کے کئی دفعہ دورے کر چکے ہیں پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ ہوئی تھی جوبائیڈن پاکستان کے سینئر اہلکاروں سے اجلاس کرتے تھے ان کی پاکستان کی دفاعی اور سیاسی لیڈر شپ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.