Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

شہید سہروردی بہت یاد آئے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

عمر فاروقی

کہا جاتا ہے کہ سیاسی مخالفین کو غدار کہنے کی بدترین بدعت کا آغاز قیام پاکستان کے فوراََ بعد ہو گیا تھا جب وزیراعظم لیاقت علی خاں اپنی تقریروں میں حسین شہید سہروردی کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اپنی تقریروں میں وہ حسین شہید سہروردی پر غداری کا الزام تسلسل کے ساتھ لگایا کرتے تھے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد رائے عامہ میں سنجیدہ اور متوازن سیاسی شعور کے حامل لوگوں کے خیال میں لیاقت علی خاں کی بجائےحسین شہید سہروردی کو پاکستان کا وزیراعظم ہونا چاہیے تھا۔ وہ لیاقت علی خاں کی نامزدگی کو پاکستان کیلئے زیادہ مفید اور موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ ایسے لوگوں میں پاکستان کی معتبر اور نامور شخصیات شامل تھیں۔ انہوں نے متعدد بار وزیراعظم لیاقت علی خاں کے اس عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین غدار قرار دیتے تھے بلکہ انہوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” سیاست میں کسی پر اس حد تک جا کر الزام نہیں لگانا چاہیے کہ اسے غدار کہہ دیا جائے کیونکہ یہ الزام ایسا ہے کہ جیسے کسی شخص پر کوئی بدکاری کا الزام لگا دیا جائے۔ کسی کو غدار ہونے کی گالی دینا  کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ”

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ قائد اعظم لیاقت علی خاں اور حسین شہید سہروردی میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے، تاہم ان کی ترجیح سہرودی تھے کیونکہ بنگال کی وزارت اعلیٰ کا انہیں کافی تجربہ تھا، لیکن وہ قائد اعظم کے حکم پر قیام پاکستان کے وقت کلکتہ میں ٹھہر گئے تھے،اس لیے ان کے نام کو ڈراپ کیا گیا۔ پاکستان بننے کے فوری بعدمسلم لیگ کی کم وبیش ساری لیڈر شپ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان منتقل ہو رہی تھی لیکن سہروردی ہندوستان چھوڑ کر پاکستان منتقل نہ ہوسکے جس کا پس منظر تقسیم کے وقت بنگال میں ہندو مسلم فسادات تھے اور صورتحال بد ترین شکل اختیار کررہی تھی۔ قائد اعظم نے سہروردی کے بنگال میں سیاسی اثر رسوخ کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں پاکستان آنے کی بجائے فسادات کے خاتمے تک انہیں کلکتہ میں رکنے کا حکم دیا تھا ، انہی دنوں گاندھی جی نوا کھلی کا دورہ کرنا چاہتے تھے، سہروردی کا خیال تھا کہ گاندھی جی کا نوا کھلی کا دورہ ان فسادات میں مزید اضافے کا سبب بن جائے گا، اور اگر وہ کلکتہ میں ہی رہیں اور فسادات ختم کرنے کی کوشش کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ اپنے اس موقف کیلئے انہوں نے گاندھی جی سے ملاقات کی اوران کو قائل کر لیا ، جواب میں گاندھی جی نے شرط رکھی کہ وہ اس صورت کلکتہ ٹھہر سکتے ہیں کہ سہروردی بھی ان کے ساتھ کلکتہ ہی میں رہیں گے۔ جس کے بعد سہروردی گاندھی کے ساتھ ایک جھونپڑی میں اکٹھے قیام کیا،جہاں گاندھی جی نے مرن بھرت کا اعلان کیا اور کہا کہ جب تک ہندو اور مسلمان فساد ختم نہیں کر دیتے وہ اس وقت تک کچھ نہیں کھائیں گے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ گاندھی جی کےمرن بھرت کے تین دن کے اندر ہیبنگال میں کئی ہفتوں سے جاری فسادات ختم ہوگئے اور کلکتہ کے مسلمان اور ہندووں نے یکجا ہو کر 15 اگست کو ایک پ±رامن ماحول میں آزادی کا سورج طلوع ہو تے دیکھا،یوں سہروردی کی دانشمندی اور تدبر نے مغربی بنگال کی مسلم آبادی کو ایک بڑے قتل عام سے بچالیا، دوسرے یہ کہ پاکستان بننے سے قبل سہروردی نیتا جی سبھاس چندربوس کے بھائی سرت چندر بوس کے ساتھ مل کر بنگال کو دوبارہ متحد کرنے اور ایک علیحدہ وطن کے قیام کا منصو بے پر کام کررہے تھے ۔ سرت چندر بوس بنگال کانگریس کے سربراہ تھے۔ علیحدہ وطن کے قیام کے اس منصو بے سے انہوں نےلارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو بھی آگاہ کر رکھا تھا۔ لیکن ماﺅنٹ بیٹن نے اس کی خبر قائد اعظم کو دیدی اور بتایا کہ سہروردی بنگال کو بنگلہ دیش بنانے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کا مقصد قائد اعظم اور سہروردی کے درمیان بدگمانیاں پیدا کرنا تھا لیکن قائد اعظم نے اس کے جواب میں لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو کہا کہ اس میں ہرج ہی کیا ہے یہ فیصلہ بنگال کے حق میں بہتر ہے کیونکہ کلکتہ کے بغیر ویسے بھی بنگال کا گزارا ممکن نہیں ہوگا۔اس حوالے سے بھی انہیں قائد اعظم کا درپردہ اعتماد حاصل تھا،تاہم، یہ سکیم نہرو اور پٹیل نے آگے ہی نہ بڑھنے دی اور بالآخر بنگال بھی تقسیم ہوگیا۔ مغربی بنگال بھارت کے حصے آیا جب کہ پسماندہ اورصنعتی ترقی سے محروم مشرقی بنگال پاکستان کے حصے میں آیا اور مشرقی پاکستان کہلایا۔

اگر سہروردی بھی باقی خود عرض لیڈروں کی طرح پاکستان آجاتے تو چانس تھا کہ وزیر اعظم بنتے اور یقیناً پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لیاقت علی خان حسین شہید سہروردی کو اپنا ایک طاقت ور حریف سمجھتے تھے اس لیے ا نہوں نے حسین شہید سہروردی کے خلاف کئی اقدام اٹھائے۔ انہیں پاکستا ن کی شہریت سے محروم رکھنے کیلئے آئین ساز اسمبلی کی نشست اس بنیاد پر خالی کر دی گئی کہ جو شخص تقسیمِ کے بعد 6 ماہ کے اندر اندر پاکستان کے کسی علاقے میں رہائش اختیار نہیں کر پاتا ا س کی نشست برقرار نہیں رہ سکتی۔ اس قرارداد کے تحت شہید سہروردی نے کوشش کی کہ مشرقی پاکستان میں انہیں کوئی رہائش گاہ مل جائے۔ وہ جون 1948 میں ڈھاکہ گئے لیکن ان کی آمد کے 24 گھنٹوں کے بعد انہیں ڈھاکہ بدری کا نوٹس دیا گیا۔ اس نوٹس میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ آئندہ 6 ماہ کے لیے مشرقی پاکستان داخل نہیں ہو سکتے۔ اور نہ کوئی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں،لہٰذا انہیں کراچی میںاپنے بھائی شاہد سہروردی کے گھر رہنا پڑا۔

یہ بات بھی یاد رہنی چاہئے کہتقسیم ہند کے بعد قائد اعظم اور لیاقت علی سمیت 17 لیگی رہنماﺅں کے حلقہ انتخاب ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ سہروردی نے اپنے دو میں سے ایک حلقہ خالی کر کے لیاقت علی خان کو کامیاب کروایا تھا ، لیکنبعد میں سہروردی کی سیٹ پر جیتنے والے لیاقت علی خان نے ا نہیں دستور ساز اسمبلی کی نشست سے ہی محروم کر دیا،وہ حسین شہید سہروردی کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے اور اپنی تقریروں میں وہ پر غداری کا الزام لگا تے۔ اس طرح سیاسی حریف کو غدار اور ایجنٹ قرار دینے کی قبیح سیاسی روایت کی داغ بیل لیاقت علی خان نے ڈالی اورقیام پاکستان کے بعد بحیثیت وزیر اعظم انھوں نے حسین شہید سہروردی کو غدار اور ہندوستانی ایجنٹ کہا،پا کستان کی تحریکِ آزادی میںحسین شہید سہروردی نے بنگال میں اہم کردار کیا تھا وہ جو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ بنگال کے جنرل سیکریٹری اور پارٹی کے روحِ رواں تھےلیکن مشرقی پاکستان میں پہلے نامزد وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے بھی ایسی روایات کو دہرایا وہ بھی سہروردی کو ’پاکستان دشمن‘ اور ’انڈین ایجنٹ‘ قرار د یتے تھے۔

اس سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال اور کیا ہو سکتی ہے پاکستان بننے کے بعد حسین شہید سہروردی جیسے لوگوں کو “غدارِ پاکستان “کے خطاب سے نوازا گیا، مسلم لیگ سے نکالا گیا، اور ا ن کیلئے ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ وہ پاکستان میں داخل ہی نہ ہو سکے۔ لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ گورنر جنرل غلام محمد کو اپنے جوڑ توڑ کو قابل قبول بنانے کے لیے اسی سہروردی کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی، اور انہیں جنیوا سے بلا کر پاکستان کا وزیرِ قانون بنا دیا گیا ، کچھ مہینوں کے لیے انہیں پاکستان کا وزیرِ اعظم بھی بننے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ وہ 12 ستمبر 1956 سے لے کر 11 اکتوبر 1957 تک وزیرِ اعظم رہے۔ بعد میں ایوب خان کا دور آیا تو اسی وزیرِاعظم کو ” ایبڈو ” کے تحت سیاست کے لیے نا اہل قرار دے کر کراچی کی جیل میں ڈال دیا گیا۔1962 میںسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میںوہ 30 جنوری کو گرفتار ہوئےاور اگست کی 19 تاریخ کو انہیں رہا کردیا گیا۔جیل میں سارا عر صہ وہ قید تنہائی میں رہے۔ رہائی کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے جہاں 5 دسمبر 1963 میں بیروت کے ایک ہوٹل میں پ±راسرار حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.