Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

غدارستان اور ٹاﺅٹ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نوید چوہدری

 

اقتدار کن مسخروں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اس کا اندازہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کرائے گئے مقدمے سے لگایا جاسکتا ہے ، غداری کے اس کیس میں ن لیگ کی پوری مرکزی قیادت کو نامزد کیا گیا ہے ، یہ ایف آئی آر خوب سوچ سمجھ کر اعلیٰ سطح کے حکام کے احکامات پر درج کی گئی ، اس کا فوری مقصد اپوزیشن جماعتوں کی تحریک کو روکنا ہے ، مقدمہ درج کراتے وقت یہ سوچ بھی تھی کہ دو سابق وزرائے اعظم کے ساتھ تین سابق تھری سٹار جرنیلوں کو لپیٹ میں لینے سے یہ پیغام جائے کہ حکومت کسی کو بھی بخشنے پر تیار نہیں ، وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اس لیے ملزم ٹھہرایا گیا کہ اگلے سال ہونے والے ریاست آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات پاکستان میں 2018 ءکی طرز پر کرائے جانے کا ابھی سے بندوبست کرلیا جائے ، اندراج مقدمہ کی اس چھچھوری حرکت سے منصوبہ سازوں کی ڈھٹائی پر تو شاید زیادہ اثر نہ پڑا ہو مگر ملک کی ساکھ کی عالمی سطح پر جو بھد اڑی وہ انتہائی افسوسناک ہے ، ذرا تصور کریں کہ بھارت میں اس خبر پر کیسے شادیانے بج رہے ہوں گے ، عوام کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ، شاہد خاقان عباسی نے پارٹی موقف کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر فروشی ، معیشت کی تباہی اور آئین شکنی کے خلاف آواز اٹھانا غداری ہے تو ہم یہ جرم باربار کرتے رہیں گے ،اس حکومت کو جہاں گورننس کا علم نہیں وہیں اس بات کا پتہ نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں سے کیسے نمٹنا ہے ، اس سرپرست بھی اسی کی طرح “ عالم ، فاضل “ ہیں ، صاف بات ہے کہ غداری کا کارڈ کب کا پھٹ چکا، نواز شریف نے مسلسل اپنی تین تقریروں میں جو باتیں کیں وہ صرف ن لیگ کا نہیں اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کا مشترکہ موقف ہے ،پیپلز پارٹی کے رہنما اس سے پوری طرح متفق ہیں ، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں تو اس سے بھی کہیں آگے جاکر مطالبات کررہی ہیں ، گیلپ کے تازہ سروے کو سچ مان جائے تو اس وقت 33فیصد پاکستانی عوام نواز شریف کے بیانئیے کے حامی ہیں ، دوسرے الفاظ میں یہ ملک ”غدارستان “بن چکا ،اس لڑائی کے دونوں اصل فریق ایک دوسرے پر ایسے ہی الزمات لگا رہے ہیں ، کشمیر فروشی کا نعرہ غداری نہیں تو پھر اور کس بات کی نشاندھی کر رہا ہے ، ایسے میں نواز شریف کے لیے مودی کا یار یا ملک دشمن ہونے کا پرپیگنڈہ زیادہ اثر نہیں دکھا سکتا ، غداری کے مقدمہ میں تحریک انصاف کے ایک جرائم پیشہ سپورٹر کو مدعی بنایا گیا ہے ، اس طرح کے ٹاﺅٹ ماضی میں بھی ایسی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتے آئے ہیں ، اس مقدمے پر ہر طرف سے شدید ردعمل آیا تو حکومت نے مضحکہ خیز موقف اختیار کیا ، کہاں آدھی رات کو درج ہونے والے اس کیس پر وزرا اور ہم نوا میڈیا اگلے روز شام تک لڈیاں ڈال رہا تھا ، اور کہاں رات ہوتے ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی ، فواد چودھری نے “ انکشاف “ کیا کہ وزیر اعظم کو تو ابھی ابھی ٹی وی سے پتہ چلا ہے ، ایسے مقدمے بنانا پی ٹی آئی کی پالیسی نہیں ، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے ایک انٹرویو میں اس حکومت کے انتقامی ہتھکنڈوں کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے اسکے بعد تو اپوزیشن کے تمام الزمات کی تصدیق ہو جاتی ہے ، ریاستی اداروں کو ایسے ہی استعمال کیا جاتا رہا تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت متنازعہ بننے سے نہیں روک سکتی ، پھر گلہ کیسا؟ یہ حکومت اس وقت بھی ہر طرح انتقامی حربے جاری رکھے ہوئے ہے ، نیب کی جیل میں شہباز شریف کو اذیتیں دے کر کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن میں سے ش نکالیں ورنہ اور رگڑا لگائیں گے ، انہیں یہ پیشکش بھی کی جارہی ہے کہ بات مان لیں تو پوری شہباز فیملی کو صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکٹ بھی دیا جائے گا ، سابق وزیر اعلیٰ پر دباو ڈالنے کے لیے خاندان کی غیر سیاسی خواتین کو بھی مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے ، لیکن شاید حکمرانوں ٹولے نے اس حوالے سے بھی غلط اندازے لگا رکھے ہیں ، نواز شریف نے محمد زبیر کو ترجمان بنا کر ایک اور جارحانہ پیغام دیا ہے ، واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد زبیر کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ دو ملا توں میں پارٹی قیادت کے لیے رعایتیں مانگے کا بیان دیا تھا ، جسے ن لیگ کی قیادت اور محمد زبیر نے مسترد کرکے بات آگے بڑھنے کی صورت میں تفصیلات آشکار کرنے کی بات کی تھی ، یوں معاملہ تھم گیا ، اب ان کو ترجمان لگا کر سخت بیانات دلوائے جائیں گے تاکہ کسی کی ڈیل یاالتجا کا تاثر سرے سے رد کیا جاسکے ، شامت اعمال دیکھیں یہ حکومت جس طرح سے لائی گئی ہے آج اس کو اسی صورتحال کا خود سامنا ہے ، اسلام آباد میں ہزاروں سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ کیے جانے پر سراپا احتجاج ہیں تو شاہراہ قراقرم پر مقامی آبادی کی جانب سے الگ سے دھرنا جاری ہے ، اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ مستقبل قریب میں عوام کو کوئی ریلیف مل سکے ، آئی پی ایس اوایس کے ایک سروے کے مطابق اس وقت ہر پانچ میں چار افراد یہ سمجھ رہے ہیں کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے ، ان سنگین حالات میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکات جاری ہیں ، بلوچستان کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک نے چند روز قبل کہا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا آغاز کردیا گیا ہے بلوچستان کے کوسٹل علاقوں کے تمام زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے کراچی اور بلوچستان کے ساحل کو ملا کر ایک وفاقی یونٹ بنانے کی سازش کا ماسٹر پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس پر موجودہ حکومت عملدرآمد کرنا چاہتی ہے۔اس بعد معلوم ہوا کہ صدر علوی نے چپکے سے ایک آرڈیننس جاری کرکے سندھ کے دو جزیرے وفاقی تحویل میں لینے کا اعلان کردیا ، سندھ حکومت نے اس آرڈیننس کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا ، اپنے ہی ملک کے جزیروں پر قبضے کی کوشش نے ایک اور محاذ گرم کردیا ، سیاسی محاذ آرائی ، اداروں کے بے جا مداخلت اور غیر قانونی استعمال کے باعث تیزی سے پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب بڑھ رہی ہے ، “غدار “ بڑھتے جارہے ہیں ،حکمران اشرافیہ کا روز اوّل سے وتیرہ رہا ہے کہ چند ٹاوٹ آگے کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس مرتبہ یہ وار بھی الٹا پڑ رہا ہے ، ”ٹاوٹ گروہ“ کے لیے زمین تنگ ہوتی نظر آرہی ہے ، کسی کو شک ہو تو ان کی گھبراہٹ سے اندازہ لگا لے ، ویسے یہ ٹاوٹ وہ ”نسل “ ہے جو وفاداریاں بدلنے میں دیر نہیں لگاتی ، احتجاجی تحریک کا بڑے پیمانے پر آغاز ہونے والا ہے ، اپوزیشن جماعتوں تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں کو ٹاوٹوں سے مکمل پاک کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.