Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پا ک ا فغا ن کشید گی کا حل صر ف ڈ ائیلا گ 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

از: ڈ اکٹر ابر اہیم مغل

افغانستان اور پاکستان کے عوام پیار و محبت اور مذہب و کلچر کے تاریخی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان فاصلے امن دشمنوں کے پیدا کردہ ہیں جنہیں ختم ہونا چاہیے۔ کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں۔ افغانستان نہ صرف جنوبی اور وسط ایشیا بلکہ مغربی ایشیا یعنی ایران کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔ اس لیے افغانستان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ افغانستان سے غیرملکی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے مختلف نسلی اور قبائلی گروپوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو۔قا ر ئین کرام یہی وہ سبب ہے جس کو محسو س کر تے ہو ئے افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے حا ل ہی میں وطنِ عز یز کا دو رہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کی طرف سے گرم جوشی اور دوستی کا پیغام لایا ہوں۔ ہم خودمختار افغانستان چاہتے ہیں جس میں کوئی دہشت گرد گروہ نہ ہو جو ہمارے ہمسائیوں کو نقصان پہنچائے۔ پاکستان نے امن عمل میں سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیاہے۔ ان صائب خیالات کے اظہار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز افغانستان میں امن و استحکام کے متمنی ہیں اور مذاکرات کے احیا سے سب نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ کیا ہم اس بات کی اہمیت سے انکار کرسکتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل امن سے وابستہ ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی تمام جماعتوں کے درمیان مکالمہ ہو اور باہمی اعتماد و احترام کی فضا پیدا ہو۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کی بھلائی چاہی ہے۔ افغان مہاجرین کےساتھ ہمارا تعلق بھائیوں جیسا رہا ہے اور آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔ ان مہاجرین کی موجودگی نے پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں کو متاثر کیا اور اب بھی مشکلات ختم نہیں ہوئی، لیکن پاکستان نے اس کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے عوام پیار و محبت اور مذہب و کلچر کے تاریخی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان فاصلے امن دشمنوں کے پیدا کردہ ہیں جنہیں ختم ہونا چاہیے۔ کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں۔ افغانستان نہ صرف جنوبی اور وسط ایشیا بلکہ مغربی ایشیا یعنی ایران کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔ اس لیے افغانستان میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ افغانستان سے غیرملکی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے مختلف نسلی اور قبائلی گروپوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو۔ اب افغان طالبان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کی اور برسراقتدار گروپوںنے بھی حالات کو سمجھ لیا ہے اور ان کے درمیان باہمی مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔ اس میں پاکستان نے انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امریکیوں کو معلوم ہے کہ وہ دو دہائیوں سے جاری جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر ختم نہیں کراسکتے۔ وہ افغانستان سے باعزت واپسی چاہتے ہیں۔ یہ جو امن کی فضا بن رہی ہے، اس کے نتیجے میں افغانستان کا اقتصادی مستقبل بھی روشن ہے، ہم بہت جلد دوسروں سے امداد لینے کی بجائے دوسروں کی امداد کرنے والے ملک بن جائیں گے۔ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی، انتہا پسندی، عدم رواداری اور کوویڈ 19 کی وبا شامل ہے۔ دونوںممالک کے مابین سیکورٹی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کی صلاحیت موجود ہے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کبھی سو فیصد دوستانہ نہیں رہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن اس وقت سب سے اہم کام افغان امن عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تاکہ دہشت گردی کے واقعات پر قابو پایا جاسکے۔ ان پر قابو پانے میں افغانستان کو اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ پاکستان و افغانستان کے مفادات باہم جڑے ہوئے ہیں۔ اس موقعے پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان تنازع کاعسکری حل نہیں، مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانے والا سیاسی حل ہی واحد حل ہے، تشدد میں کمی امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم افغانستان کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، ہم فرینڈز ہیں ماسٹرز نہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا دورہ باہمی تعلقات کے لیے اہم ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی افغانستان کا جلد دورہ کریں گے۔ کتنی خوش آئند بات ہے کہ برف پگھل رہی ہے۔ افغانستان کی قیادت کو بھی یہ بات اب سمجھ میں آرہی ہے کہ پاکستان کے احسانات ہیں ان کے ملک پر، نہ جانے کیسے وہ پاکستان کے دشمنوں کے پروپیگنڈا کا شکار ہوکر اب تک اپنا نقصان خود کرتے آئے ہیں۔ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ گزشتہ برس پاکستان، چین، افغانستان سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے جن میں طے پایا تھا کہ سہ ملکی سطح پر ایک سڑک ایک راستہ منصوبے کے تحت روابط اور تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاک افغان تجارت میں اضافے کے لیے کابل پشاور موٹر وے پر چین مددگار ہوگا۔ تین ممالک کہ راہداریوں پر امیگریشن مراکز، سرد خانے، طبّی مراکز اور پینے کے پانی کی سکیمیں بھی پایہ تکمیل کو پہنچائی جائیں گی۔ افغانستان میں دراصل امن قائم نہ ہونا، اس کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے حالانکہ یہ ملک خطے کی ترقی کا گیٹ وے ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اور افغانستان کی مفاہمی کونسل کے چیئرمین کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عبداللہ عبداللہ سے ملاقات میں افغان عمل کے کامیاب نتائج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ پاکستان افغان راہدی تجارت کی سہولت کے لیے ہر طرح کی کوششیں جاری رکھے گا۔ معاشی و عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ صدر اشرف غنی کی دعوت پر اپنے دورہ افغانستان کا منتظر ہوں۔انتہائی مدلل انداز میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا دو ٹوک موقف واضح کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی کو مزید پختہ کرنے کے حوالے سے۔ لہٰذا اب یہ ضروری ہے کہ امریکہ سمیت تمام ممالک افغانستان میں قومی حکومت کے قیام میں مدد کریں اور افغان حکومت کو بھی یہ حقیقت اب سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کے تعاون اور امداد کے بغیر افغانستان اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہوسکتاکیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا فوری طور پر افغانستان سے انخلا خطرناک ہوگا۔افغانستان کے راستے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت اور دوستانہ روابط جیسے اہداف پر بھی پاکستان کی نظریں مرکوز رہنی چاہئیں۔ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا دارومدار دو یا تین ممالک سے گرم جوش دوستانہ تعلقات پر ہے جبکہ دنیا زیادہ بڑی اور دیگر امکانات بالخصوص یورپی ممالک سے تعلقات کی نئی جہتوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یورپ میں ابھرتے نئے تجارتی مواقعے پاکستان کے حق میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے بارے میں پہلے سے لائحہ عمل تشکیل دے دیا جائے، مجموعی طور پر تغیر پذیر عالمی تناظر میں نئے اتحادیوں کی تلاش اور انہیں ہمنوا بنانے میں حرج نہیں بلکہ خارجہ تعلقات کی مضبوطی و پائیداری اسی میں ہے کہ دوسروں کا اتحادی بن کر پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔اگر افغانستان میں قیام امن ہوجاتا ہے تو اس سے پاکستان کے مفادات کا تحفظ یقینی ہے اور افغانستان میں مستقبل کا سیاسی حکمران سیٹ اپ جو بھی ہو، اس میں پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازع ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ باہمی جھگڑا نمٹائے بنا پاک افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کا عمل مکمل نہیں ہوگا۔افغان قیادت کے مثبت خیالات سے یہ امید ہوچلی ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے عمل میں سنجیدہ ہیں۔ اگر فہم و فراست اور تدبر کے ساتھ چلیں تو افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے جو خطے کی ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار کا حامل ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے جو خطے کے استحکام کا ضامن ہوگا۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.