Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکی انتخابات میں ’اکتوبر سرپرائز‘ کا کھیل جانتے ہیں؟(حصہ اول)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

آصف شاہد

 

معیشت کو ترجیح بتانے والے ووٹروں کی شرح 99 فیصد تھی۔ تین تہائی ووٹروں نے مزید 6 فیکٹرز کو بھی اہم بتایا۔ ان تین تہائی میں سے 83 فیصد نے دہشت گردی اور سیکیورٹی کو، 82 فیصد نے تعلیم، 80 فیصد نے صحت، 80 فیصد نے جرائم، 77 فیصد نے کورونا وائرس اور 76 فیصد نے نسلی امتیاز کو بھی اہم فیکٹر تسلیم کیا۔99 فیصد ووٹروں کا معیشت کو صدارتی انتخابات میں ووٹ چوائس بتانا حیران کن نہیں۔ امریکیوں کا اقتصادی اعتماد مارچ کی کم ترین سطح کے بعد بہتر ہوا ہے لیکن بیروزگاری کی شرح 1948ءکے صدارتی الیکشن سے پہلے کی سطح سے بھی بلند ہے۔ویسے جو ری پبلکن ووٹر ہیں وہ معیشت کے حوالے سے تو ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، لیکن شاید اس کا فائدہ ٹرمپ کو کم ہی ہو کیونکہ ڈیموکریٹ یا اس کی طرف رجحان رکھنے والے آزاد ووٹر کی ترجیحات میں نسلی امتیاز کا خاتمہ، ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ اہم ہے اور صدر ٹرمپ ان محاذوں پر انتہائی کمزور ہیں۔ٹرمپ کا سب سے کمزور ترین پہلو کورونا وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے۔ امریکا اس وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں سب سے اوپر ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کورونا وائرس کو سب سے بڑا ایشو بنائے ہوئے ہیں۔ جو بائیڈن کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ وہ اس وبا سے ٹرمپ کی نسبت بہتر انداز میں نمٹیں گے۔بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 3 نومبر تک اسی نکتے پر مہم چلائی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انتخابات 2 طرح کی قیادت کے درمیان ہورہے ہیں۔ بائیڈن نے وبا آنے کے بعد مثال بن کر قوم کی رہنمائی کی۔ انہوں نے ماسک استعمال کیا، سماجی فاصلے کے اصول کی پاسداری کی اور ذمہ دار لیڈر ہونے کا مظاہرہ کیا۔

امریکا کے صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ سے صرف 32 دن پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان کیا اور پھر انہیں فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ صدر ٹرمپ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے پانچویں دن ہسپتال سے واپس وائٹ ہاو¿س پہنچ گئے اور پھر چند گھنٹوں بعد صدارتی معالج نے صدر میں بیماری کی کوئی بھی علامت نہ ہونے کا اعلان کیا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے جب کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان ہوا تو ووٹروں اور سیاسی مبصرین نے صدارتی محل سے آنے والی اطلاعات کی بنیاد پر حالات کا تجزیہ کیا اور کئی طرح کی قیاس آرائیاں ہونا شروع ہوگئیں۔والٹر ریڈ ہسپتال سے وائٹ ہاو¿س واپس پہنچنے سے پہلے ہی ٹرمپ نے ٹویٹر پر بریکنگ نیوز کے طور پر لکھ دیا تھا کہ دوسرے صدارتی مباحثے سے پہلے وہ ہسپتال سے واپس آجائیں گے اور اس کے بعد ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’وہ نہ صرف ٹھیک ہیں بلکہ خود کو 20 سال پہلے سے بھی زیادہ اچھا محسوس کر رہے ہیں‘۔ اس پوری صورتحال میں 2 طرح کے تبصرے زیادہ دلچسپ اور قرین قیاس محسوس ہونے لگے۔

ایک امریکی ٹی وی نے صدر کی ہسپتال سے واپسی کو ’مسولینی موومنٹ‘ کہا جبکہ صدر کی بیماری کے انکشاف نما اعلان پر ’اکتوبر سرپرائز‘ کا تبصرہ بھی سازشی تھیوریز پر غور کرنے والوں کے لیے ’حق الیقین‘ کا لمحہ بنتا نظر آیا۔صدر ٹرمپ کی ہسپتال واپسی کو مسولینی موومنٹ کہنا دراصل ان کو فسطائیت کا علمبردار قرار دینا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے حامی ٹی وی نے صدر ٹرمپ کو دوسری مدتِ صدارت کے لیے ووٹنگ سے پہلے ایک بار پھر فاشسٹ کہہ کر ووٹروں کو صدر ٹرمپ کی سفید فام بالادستی کی حمایت، نسلی امتیاز پر خاموشی، تضاد بیانی یا یوں کہیں کہ کئی مواقع پر عوام سے بولے گئے جھوٹ اور آمرانہ رویوں سے ڈرایا۔فاشزم کا بانی مسولینی کسی زمانے میں سوشلسٹ تھا لیکن پھر سوشلزم سے اکتا کر خود کو انفرادیت پسند کہلوانے لگا اور بالآخر فاشزم کی بنیاد رکھی۔ مسولینی کی قیادت میں فاشٹ 2 متضاد باتوں کو اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پہلی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ یہ لوگ سوشلزم اور کمیونزم کے دشمن تھے۔ اس بنیاد پر وہ آجر طبقہ (صنعت کاروں، تاجروں، زمینداروں) کی ہمدردیاں رکھتے تھے۔ لیکن مسولینی خود بہت پرانا سوشلسٹ احتجاجی اور انقلابی تھا۔ وہ سرمایہ داری کے خلاف مقبول نعرے لگایا کرتا تھا جو غریب طبقات بہت پسند کرتے تھے۔ اس نے احتجاج کے مختلف طریقے بھی کمیونسٹوں سے سیکھ رکھے تھے۔ فاشزم ایک عجیب و غریب ملغوبہ بن گیا جس کی تعبیر مختلف انداز میں کی جاسکتی تھی۔ یہ ایک ایسی سرمایہ دارانہ تحریک تھی جس کے نعرے بذاتِ خود سرمایہ داری کے لیے خطرناک تھے جبکہ متوسط طبقے کے بے روزگار اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

صاحبِ ثروت فاشسٹ سمجھتے تھے کہ مسولینی ان کی املاک کو تحفظ دے گا۔ ان کا خیال تھا کہ مسولینی کی سرمایہ داروں کے خلاف تقریریں اور نعرے بازی محض ڈھونگ اور سادہ لوح عوام کو فریب دینے کے لیے ہے۔ غریب فاشسٹ کا خیال تھا کہ فاشزم کی روح سرمایہ داری کی مخالفت ہے اور باقی سب کچھ امیر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ مسولینی نے ان طبقات کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک دن امیروں کے حق میں بولتا تو دوسرے دن غریبوں کی ہمدردی میں بیان دیتا۔ لیکن اصل میں وہ سرمایہ دار اور آجروں کے مفاد کا نگران تھا کیونکہ وہی اس کی مالی امداد کر رہے تھے۔ یہ لوگ محنت کشوں اور سوشلزم کی قوت کو ختم کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہ ایک عرصہ سے ان کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی۔فاشسٹوں کا ایک ہی مقصد تھا یعنی اقتدار حاصل کرنا اور وہ مسولینی کے وزیرِاعظم بننے کے ساتھ پورا ہوگیا تھا۔ اقتدار ملنے کے بعد مسولینی نے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے مخالفین کو کچلنے کا عزم کیا، تشدد اور دہشت گردی کی غیر معمولی صورت پیدا ہوگئی۔ تاریخ میں تشدد ایک معمول کی بات ہے لیکن اسے ایک تکلیف دہ ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس کی وضاحتیں اور جواز پیش کیے جاتے ہیں۔

فاشزم، تشدد کے لیے معذرت خواہانہ رویہ میں یقین نہیں رکھتا۔ فاشسٹ اسے قبول کرتے ہیں اور کھلے عام اس کی تعریف کرتے ہیں۔ اس کا استعمال وہاں بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے جہاں کوئی مزاحمت نہیں ہوتی۔ امریکا میں حالیہ دنوں میں سیاہ فام اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک، پولیس تشدد میں ہلاکتیں، مظاہروں کو دبانے کے لیے نیشنل گارڈز کی تعیناتی اور ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے جوابی ریلیاں اور ‘بلیک لائیوز میٹر’ تحریک کے کارکنوں پر حملے فاشزم سے تعبیر کیے جا رہے ہیں۔پہلے صدارتی مباحثے میں صدر ٹرمپ نے سفید فام بالادستی کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی مذمت سے انکار کیا اور ایک دن بعد لولی لنگڑی وضاحت بھی کی، اس تمام صورتحال کو اسی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ڈیموکریٹ پارٹی خود کو متوسط طبقے کی ترجمان بتاتی ہے اور برنی سینڈرز سمیت اس کے کئی نمایاں لیڈر سوشلسٹ رجحانات رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹس ووٹرز کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ٹرمپ غریبوں کا ہمدرد نہیں، امیر طبقات کا نمائندہ ہے، اسی لیے ٹرمپ نے اوباما کیئر کو ختم کیا۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ ووٹروں کو سوشلزم سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں اور بار بار ووٹروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ ڈیموکریٹس جیت کر ان پر بھاری ٹیکس عائد کردیں گے اور ان کی محنت سے کمائی گئی دولت ان سے چھینی جاسکتی ہے۔ اس الیکشن کو بھی کہیں نہ کہیں سوشلزم اور فاشزم کا مقابلہ بنانے کی شعوری کوشش کارفرما نظر آتی ہے۔(جاری ہے)

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.