Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : بلوچستان:مون سون بارشوں سے تباہی اورحکومتی اقدامات 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

بلوچستان سمیت ملک بھر میں جیسا کہ امکان اورخدشہ ظاہر کیا گیا تھا ، نہ صرف یہ کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ملک بھر میں نقصانات بھی ہوئے ہیں اورکافی تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نہ صرف زمینی راستے بند اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے مکانات اور مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوچکے ہیں بلکہ انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے متاثرہ علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق صورتحال ہنگامی ہوچکی ہے اور ان حالات سے نمٹنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات اور کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے بلوچستان کے تناظر میں اگر بات کریں تو بلوچستان کے متعدد اضلاع میں مواصلات کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے مال مویشی اور کھڑی فصلیں ہی متاثر نہیں ہوئیں بلکہ مکانات گر گئے ہیںمتعدد علاقوں سے اموات رپورٹ ہورہی ہیں موسلادھار بارش اور سیلابی ریلوں سے جانی و مالی نقصانات کی حتمی فہرست ابھی سامنے نہیں آئی تاہم صورتحال انتہائی تشویشناک ہے بلوچستان کے 21اضلاع ایسے ہیں جو مون سون بارشوں کی زد پر ہیں اور ان میں متعدد اضلاع ایسے ہیں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں سیلابی ریلوں اور ہونے والے نقصانات سے متعلق سوشل میڈیا پر ویڈیو ز اور تصاویر بھی آچکی ہیں جن سے سیلابی ریلوں کی شدت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ نے آگاہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری بارشوں سے نمٹنے کے لئے ایکشن پلان تیار کرلیا گیا ہے سبی اور نصیر آباد میں تین ہزار افراد کے لئے امدادی سامان کا بندوبست کردیا گیا ہے ، میدانی علاقوں میں سات کشتیاں ریلیف کا کام کر رہی ہیں ،پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی اسٹینڈ بائی ہیں، شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے جبکہ متاثرہ شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے گزشتہ روز بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کوئٹہ میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران ،ایف سی اور سدرن کمانڈ کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں موسون بارشوں کے ایکشن پلان کی منظور ی دے دی گئی ہے ابتدائی طور پر بارش کا سلسلہ آئندہ 24گھنٹوں تک جاری رہے گا جبکہ آئندہ دو ماہ تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہے گا صوبائی کے 21اضلاع میں بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے جن میں سے 4میں صورتحال خراب ہوسکتی ہے جہاں تمام مشینر ی بھجوائی جاچکی ہے جانی و مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ متعدد رابطہ سڑکیں بھی ٹریفک کے لئے بند ہوچکی ہیں تاہم ان رابطوں سڑکوں کو پانی کا بہا?کم ہونے کے بعد بحال کردیا جائے گا اسی طرح ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بھی ہونے والے نقصانات اورحکومتی اقدامات سے متعلق گزشتہ روز جو بریفنگ دی ہے اس میں انہوںنے بتایا ہے کہ بعض علاقوں میں کمیونکیشن سسٹم متاثر ہوا ہے وزیر اعلی جام کمال خا ن پیدا شدہ صورتحال کا از خود جائزہ لے رہے ہیں مون سون بار شو ں کا الر ٹ جاری کر دیا گیا تھا،پی ڈی ایم اے پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر ہے وزیر اعلی نے متعلقہ محکموں کو مشینری کو استعمال کرکے امدادی کاموں کی ہدایت کردی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ، دیگر امدادی سامان بھی بھجوایا جارہا ہے بلوچستان میں مون سون کی زیادہ تند و تیز بارش کی پیشگوئی کے بعد یہاں حکومتی سطح پر پہلے ہی الرٹ جاری کردیاگیا تھا متعلقہ محکمے اور حکام الرٹ تھے اور عوام کو بھی تنبیہ کردی گئی تھی گزشتہ دو روز کے دوران بننے والی سیلابی صورتحال کے باعث جن حالات نے جنم لیا ہے ان حالات کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے خصوصی اقدامات کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے خود وزیراعلیٰ جام کمال تمام امور دیکھ رہے ہیں انہوںنے جہاں گزشتہ روز کوئٹہ شہر میں جنم لینے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور موقع پر ضروری احکامات دیئے وہاں ان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا بھی انعقاد کیاگیا جس میں مون سون کی جاری بارشوںاور صوبے کے مختلف اضلاع میں پیدا ہونے والے سیلابی صورتحال کے علاوہ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔اس اجلاس کو پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے موثر بریفنگ دی گئی اور اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ اس وقت صوبے کے اکیس اضلاع مون سو ن کی بارشوں کے زیر اثر ہیں بعض اضلاع سے انسانی ضیاع کی بھی اطلاعات ہیں صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے لاجسٹک اسٹریٹیجی پلان بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں بارہ انتہائی حساس اضلاع میںامدادی اشیائ کی اسٹوریج کی استعداد قائم کرتے ہوئے تین تین سو خاندانوں کے لئے خوراک اور دیگر ضروری اشیائ ذخیرہ کردی گئی ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا پی ڈی ایم اے کا کنٹرول روم اور کال سینٹر چوبیس گھنٹے فعال اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط روابط قائم کئے گئے ہیں کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے بھاری مشینری کی دستیابی سمیت تمام تیاری مکمل کی گئی ہے اسی طرح نیشنل ہائی اتھارٹی کے حکام نے بھی قومی شاہراہوں سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی جبکہ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحا ل کی بہتری کے لئے تمام متعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ متحرک اور فعال رہیں، پانی کی گذرگاہوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، محکمہ مواصلات اور محکمہ زراعت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لئے بھاری مشینری تیار رکھیں، وزیراعلیٰ نے محکمہ آب پاشی کو ڈیموں کی مسلسل نگرانی کرنے اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو واٹر چینلز کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے بلوچستان کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر کو امداد وبحالی کی مجموعی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اورساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے اور محکمے کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے اپنی تیاریاں مکمل رکھیںیہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پیش آنے والی صورتحال کے پیش نظر پہلے ہی صوبے کے  تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اس ضمن میں پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ صحت بلوچستان کے تمام پروگرامز ہیڈز ڈویڑنل اور ضلعی افسران اور میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں موثر اقدامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ویڑنل ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران ، میڈیکل سپریٹنڈنٹس ، پروگرامز ہیڈز سے کہا ہے کہ وہ اپنی اپنی جائے تعیناتیوں پر حاضری کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات کی نگرانی کریں بلوچستان میں مون بارشوں کے باعث تباہی کا یہ پہلا موقع نہیں اکثر وبیشتر بلکہ ہر سال ہی ایسی صورتحال پیش آتی رہی ہے امسال بھی ہنگامی صورتحال پیش آگئی ہے تاہم اس نازک مرحلے پر ہمیں ہوش وحواس قائم رکھنے چاہئیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر انتہائی فعالیت اور مستعدی کے ساتھ تمام صورتحال کو دیکھ رہا ہے حکومت ،ا نتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام متعلقہ حکام متاثر علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اورسول سوسائٹی سمیت تمام مکاتب فکر آگے بڑھ کر حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ معاونت کریں تاکہ مشکل کی ان ساعتوں میں متاثرین کی داد رسی بھی یقینی بنائی جاسکے اور بحیثیت قوم و بحیثیت معاشرہ ہم پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی بجاآوری بھی ممکن ہوسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.