Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : سانحہ مری پر سیاست کے بجائے ٹھوس اقدامات کی ضرورت 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سانحہ مری پورے پاکستان کو سوگوار کر گیا ہے ابھی تک امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ مری میں برف باری کی اطلاعات پیشگی مل چکی تھیں لیکن بروقت اقدامات نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اکثر تقریبات میں کہتے رہے ہیں کہ پاکستان کو سیاحوں کے لئے جنت بنایا جائے گا لیکن مری جو کہ پاکستانی سیاحت میں صف اول کی پوزیشن میں ہے وہاں پر سیاحوں پر بھی سیاہ رات بیتی وہ اپنی کہانی کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے ۔ بلاشبہ بغیر کسی حیل و حجت کے ذمہ داروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے تا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے اور پاکستانی عوام بغیر کے ڈر و خوف کے کسی بھی علاقے میں سیر و تفریح کے لئے جا سکیں جبکہ وقوعے والے دن مری میں ایک لاکھ گاڑیاں آئیں‘پارکنگ کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں سیاح گاڑیاں سڑکوں پر پارک کر کے ہوٹلوں میں چلے گئے‘جہاں رات کو بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔سڑکوں پر پھنسے سیاح گاڑیوں میں ہی سو گئے‘جس کے باعث دم گھٹنے سے 22سیاح جاں بحق ہو گئے ہیں۔حکومت نے ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے مری کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔جبکہ عوام سے مری کا رخ نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ موسم سرما میں برفباری کے موقع میں سیاح مری کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ موسم سے لطف اندوز ہو کر اپنی خوشیاں دوبالا کر سکیں‘امسال برفباری کے دنوں میں سکولز میں چھٹیاں بھی تھیں‘جس کے باعث ایک لاکھ کے لگ بھگ گاڑیاں سیاحوں سے بھر کر چھوٹے سے مری میں داخل ہوئیں۔ مری میں صرف 32 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام ہے جبکہ مری میں ایک ہزار ہوٹل اور گیسٹ ہوسسز موجود ہیں، جن میں لوگ رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔مگر بدقسمتی سے جب مری میں جوق درجوق گاڑیاں داخل ہو رہی تھیں، تو کسی بھی حکومتی اور انتظامی مشینری نے انہیں روکنے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے تو یہ ٹویٹ کیا تھا: کہ لوگ خوشحال ہو چکے ہیں اور اس وقت ایک لاکھ گاڑی مری میں داخل ہو چکی ہیں۔لوگوں کی بڑی تعداد میں محدود مقامات کا رخ کرنے کا نتیجہ ٹریفک جام اور رہائش کے مقامات میں کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔مگر جب لوگ سڑکوں پر گاڑیاں پارک کر کے ان میں رات گزارتے ہیں تو نتیجہ اموات کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔پہلا قصور تو عوام کا ہے، جو بغیر سوچے سمجھے سیاحت کو ذہن پر سوار کر کے اس جانب چل پڑے تھے۔دوسرا قصور حکومت کا ہے، جنہوں نے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو مری میں داخل ہونے دیا؟حالانکہ وہاں نہ تو اتنے افراد کا انتظام تھا‘نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی گئی‘اگر حکومت ضرورت سے زائد گاڑیوں کو پنڈی میں ہی روک لیتی تو پھر بھی اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔ بہرحال یہ سانحہ حکومتی اور انتظامی لاپرواہی کے باعث سامنے آیا ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید ہمیشہ کی طرح وقت گزرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کر رہے ہیں۔سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔حکومت آخر کس مرض کی دوا ہے۔تمام تر اختیارات ہونے کے باوجود اگر وہ منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتی تو پھر کس مقصد کے لیے وہ اقتدار میں آئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سیاحت پر توجہ مرکوز رکھی۔سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاحت ہمارا بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔بلوچستان کے علاقے زیارت ، بولان کے علاوہ سوات‘ مری‘ گلگت‘ بلتستان‘ اور ناران کاغان سمیت ہمارے پاس کئی ایسے مقامات ہیں جن کا سوئٹزر لینڈ بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہم ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ دے کر 30سے 40ارب ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک میں سیاحت کے لئے کیوں بھاگتے چلے جاتے ہیں۔درحقیقت اگر ان ممالک کی حکومتیں سیاحت سے اربوں ڈالر کماتی ہیں تو انہوں نے سڑکوں کی تعمیر سے لے کر پارکنگ اور ہوٹلوں تک وہاں جال بچھا رکھا ہے‘اگر ان ملکوں میں 2لاکھ سیاح بھی اکٹھے داخل ہو جائیں تو وہ انہیں سنبھال لیتے ہیں۔وہاں پر پارکنگ کا مسئلہ درپیش آتا ہے نہ ہی ہوٹلوں کی کمی۔ہر موسم میں ہوٹلوں کے کرائے ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک بھی نہیں ہوتا۔کھانے کے ریٹ بھی عام آدمی کی دسترس میں ہوتے ہیں۔مری کی آبادی کے تناسب سے وہاں پر ہسپتال نہیں۔صرف نتھیا گلی میں ایک بڑا ہسپتال موجود ہے، جو آبادی اور سیاحوں کی ضرورت پورا نہیں کر سکتا۔ موسم سرما میں بجلی‘گیس اور پانی کے مسائل ہر برس سامنے آتے ہیں مگر کسی بھی حکومت نے آج تک ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔پنجاب حکومت کو سانحہ مری کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی گئی جس کے مطابق مری اور گرد و نواح میں موجود سڑکوں کی گزشتہ دو برس سے جامع مرمت نہیں کی گئی تھی اور گڑھوں میں پڑنے والی برف سخت ہونے کے باعث ٹریفک کی روان میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ مری میں موجود ایک نجی کیفے کے باہر پھسلن ہونے کے باوجود کوئی حکومتی مشینری موجود نہیں تھی، اور اسی پھسلن والے مقام پر مری سے نکلنے والوں کا مرکزی خارجی راستہ تھا، سیاحوں کے مری سے خارجی راستے پر برف ہٹانے کے لیے ہائی وے کی مشینری موجود نہیں تھی۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مری کے مختلف علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں رہنے کو ترجیح دی۔رات گئے ڈی سی راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی کی مداخلت پر مری میں گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی اور مری کی شاہراہوں پر ٹریفک بند ہونے کے باعث برف ہٹانے والی مشینری کے ڈرائیورز بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکے تاہم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک کی روانی یقینی بنانے موقع پر موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق مری میں ایسا کوئی پارکنگ پلازا موجود نہیں جہاں گاڑیاں پارک کی جاسکتیں، صبح 8 بجے برف کا طوفان تھمنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی۔وزیر اعلی پنجاب نے مزید تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔حالانکہ اس مری سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم پاکستان بھی رہے ہیں۔مگر انہوں نے بھی مری کو ایک ماڈل شہر بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ مری میں سیاحوں کو تعداد آنے سے روکنے میں کس کس ادارے نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔سڑکوں پر پولیس اور وارڈن سمیت لوکل انتظامیہ کیوں غائب ہوئی؟برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کے لئے صرف چین فراہم کرنے کا تین سے چار ہزار وصول کرنے والا مافیا کس کے حکم پر یہ دھندہ کر رہا تھا۔پٹرول اور اشیاءضروریہ کی کمی کا ذمہ دار کون ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کی تحقیق ہونی چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس سانحہ پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کی رپورٹ فی الفور منظر عام آنی چاہیے تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دی جا سکے۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت اگر سیاحت کو فروغ دینے کی خواہاں ہے تو کم از کم سیاحتی شہروں کو ماڈل سٹی بنایا جائے۔سڑکوں کو حتی امکان وسیع بنایا جائے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں سیاحوں کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے‘ہوٹل اور گیسٹ ہوسز ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیں۔ایسے تمام شہروں میں بجلی اور گیس سمیت پٹرول اور اشیاءضروریہ کی سپلائی بلا تعطل اور وافر ہونی چاہیے۔تمام سہولیات سے آراستہ ہسپتال قائم کئے جائیں۔اس کے علاوہ سیاحوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ہمارے ہاں سوائے اسلام آباد کے کوئی بھی شہر ماسٹر پلان کے تحت نہیں بنا‘جس کے باعث آج ان شہروں کی سڑکیں‘ہسپتال‘بازار اور ہوٹل لوگوں کے رش کا سامنا نہیں کر سکتے۔اس لئے حکومت تمام شہروں کے لئے کوئی ماسٹر پلان ترتیب دے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پریشانی سے بچا جا سکے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.