Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : ہزارہ برادری کا دھرنا ختم ،مگر ان کی آنکھوں میں خوف برقرار ہے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئی بھی ریاست ہو اس کی اولین ترجیح اپنی عوام کی جان و مال کی حفاظت ہوتی ہے۔ دنیا میں فوجی طاقت، اسلحہ سازی اور یہاں تک کہ ایٹم بم بھی اسی غرض سے بنائے گئے ہیں کہ ریاستیں اپنی اور اپنے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریاستیں ہر ممکن وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کرتی ہیں اور یوں اس کی عوام کے اندر تحفظ اور اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یقینا پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا بھی سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ یہاں شخصی اور مذہبی آزادی ہوگی، یہ زمین کسی پر تنگ نہیں کی جائے گی۔ اقلیتوں کو بھی برابر کے حقوق ملیں گے۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ نہیں رکھا جائے گا۔ مساوات اور بھائی چارے کی فضاءہوگی جہاں ہر شخص اپنی مرضی اور اپنے نظریے کے مطابق زندگی گزار سکت گا۔ مگر افسوس کہ ہم پاکستان بنانے کے مقصد اور ہیت کو کوسوں دور چھوڑ آئے ہیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے ساتھ ہی ان کے نظریہ پاکستان کو بھی چند عاقبت نا اندیش لوگوں نے دفنانے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ رہی سہی کسر مفاد پرست سیاست دانوں اور فوجی ڈکٹیٹروں نے نکال دی۔ بالخصوص اپنی اقتدار کی ہوس میں آمروں نے ہر وہ کام کیا جس کی نظیر تحریک پاکستان اور قائد اعظم کے نظریات میں نہیں ملتی۔ اقلیتوں بارے کیا کہا جائے خود اسلام کے نظریات کو پیچھے چھوڑ کر مذہنی بنیاد پر فرقہ وارانہ تصادم کو ایسی ہوا دی گئی کہ یہ جنگل کی آگ کی مانند پھیلنا شروع ہو گئی۔ بالخصوص جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں شیعہ سنی فسادات میں ہوشربا اضافہ ہوا ۔ ایک دوست ملک کے مفاد کی خاطر دوسرے ہمسایہ اور دوست ملک کے ساتھ تعلقات کو بگاڑا گیا اور ایک خاص نظریے کا پرچار کیا گیا ۔ کافر کافر فلاں کافر کا شرم ناک نعرہ اسی زمانے کی پیداوار ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ نواز شریف کے دور میں بھی یہ فسادات بام عروج پر تھیں۔ کسی قسم کے اقدامات نہ کیے گئے بلکہ ایسے لوگوں کو سامنے لایا گیا جو مذہبی منافرت اور فرقہ بندی کو پھیلا رہے تھے۔ اس کے پیچھے جز وقتی سیاسی مفادات یا کسی خاص ملک کو خوش کرنا ہی مقصود تھا چنانچہ یہ آگ ایسی پھیلی کہ آج چار دہائیوں بعد بھی اس کے جان لیوا شعلے ہماری نسلوں ، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھسم کر رہے ہیں۔ کوئٹہ اور بلوچستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والے تشدد اور دہشت گردی کے پیچھے بھی ایسی ہی ایک سوچ کارفرما ہے۔ حالیہ دہشت گردی کے تانے بانے گزشتہ سے پیوستہ ملتے ہیں۔ اس آگ کو بجھانے کی کسی نے سنجیدہ کوششیں ہی نہیں کیں۔ بارہا ایک خاص فرقے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ یہ معصوم اور مظلوم لوگ ہر واقعےکے بعد سیاہ لباس زیب تن کر کے اپنے پیاروں کے لاشے سر بازار لاتے رہے اور ہمارے بے حس حکام اور حکمران ان کی لاشوں کا سودا طفل تسلیوں کے ساتھ کرتے رہے۔ کیا حال اور کیا ماضی سب حکمرانوں نے اس حوالے سے تاریخی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لاشوں پر کھڑے ہوکر تسلیاں دی گئیں، وعدے کیے گئے تاہم عملی طور پر کیا کچھ کیا اس کا ثبوت یہ گیارہ لاشیں ہیں جو منوں مٹی تلے دفنا دی گئیں ۔ چن چن کر ہزارہ برادری کے لوگوں کو سر عام قتل کیا جاتا رہا ہے اور شاید یہ ہولی آئندہ بھی کھیلی جائے گی ۔ ریاست پاکستان اور ہمارے ادرے ان لوگوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم نے ہزارہ برادری کے مطالبات ماننے کا عندیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ وہی رسمی اور روایتی جملہ بازی کی گئی ہے جو ماضی میں کی جاتی رہی ہے۔ آج کے بیانات اور ماضی کے بیانات کو اٹھا کر دیکھ لیجیئے معلوم ہوگا کہ تقریر کا مصنف ایک ہے۔ خدارا سنجیدگی سے اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یقینا اس میں دو رائے نہیں ہے کہ بھارت پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں امن و عامہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور ماضی میں وہ ایسا کرتا رہا ہے، بلوچستان میں اس کی ناپاک کارووائیوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ وہ مذہبی اور فرقہ وارانہ تصادم کروا کر اتحاد بین المسلمین اور قومی مساوات کو تارتار کر نے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ مگر یہ بھی تو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست اور ریاستی ادارے اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سوچ نے ہمارے قومی تشخص کو برباد اور کمزور کر دیا ہے اور دشمن اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، یقینا بھارت اس کے پیچھے ہے مگر ہمیں اپنے اندر بھی ایسے لوگوں کا کڑا احتساب کرنا ہوگا جو اس قسم کی سوچ کے حامی ہیں۔ دیر آئے درست آئے بلوچستان حکومت اوردھرنا منتظمین کے درمیا ن مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ہزارہ برادری کا دھرنا ختم ہو گیا۔دھرنا منتظمین اور مظاہرین نے کہا کہ حکومت سے جو مطالبات کئے تھے وہ پورے ہوگئے اوراس ضمن میں تمام نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے ہیں۔کامیاب مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہاکہ 22 سال سے ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ جو ہو رہا، وہ ناقابل بیان ہے اس ظلم کو اب ختم ہونا ہوگا کیونکہ جیسے ہم چل رہے ہیں اب نہیں چل سکے گا، اگر پاکستان میں گورننس ٹھیک ہوتی تو یہ ملک غریب نہ ہوتا، بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ 70 سال سے ظلم کیا جارہاہے اب انشااللہ چیزیں ٹھیک ہونگی ناامید نہ ہوں، ماضی کے حکمرانوں نے تحریری معاہدہ نہیں کیا،وعدے کئے اور چلے گئے، شہدا کمیٹی اوردھرنا منتظمین کے مطالبات پر عمل ہوچکا ہے،افسران معطل،جے آئی ٹی اور ایک ہائی لیول کمیشن بنایا گیا جس میں وزیر داخلہ بلوچستان بھی ہونگے وہ اس کے سربراہ ہونگے۔ اس کمیشن میں بلوچستان اسمبلی کے دوممبران اوربلوچستان حکومت کے سینئر افسران ہونگے دو شہدا کمیٹی کے ممبران ہونگے جو ہرماہ میٹنگ کریگی انکوائری اورتحقیق کو مانیٹر کریگی۔ تمام فیصلے لوگوں کی مشاورت سے ہونگے،نادرا، پاسپورٹ آفس امیگریشن کی بھی ایک کمیٹی بنی ہے،حکومت بلوچستان شہدا کے لواحقین کو سرکاری نوکریاں دیگی شرعی وارث کو یہ نوکری دی جائے گی،شہدا کے لواحقین کے طالب علموں کے تعلیم کے اخراجات میری وزارت اٹھائے گی۔ جنہوں نے یہ ظلم کیا انہیں نہیں چھوڑ ا جائے گا۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کہا کہ لواحقین کا شکر گزارہوں کہ انہوں نے تدفین کی اجازت دی،جن نکات پر بات ہوئی ہے وہ بغیر تحریر کے بھی ہونی چاہئے، ہمیں ایک حکومت کے لحاظ سے ان کاموں کو خود کرنا چاہئے، ضروری نہیں کہ کہیں ٹائر جلے پتھراﺅ ہو اورشورمچایا جائے ۔بھارت پاکستان میں شیعہ،سنی علماکو قتل کر کے مذہبی منافرت پھیلانا چاہتا ہے،ہمارے خفیہ اداروں نے اسلام آباد سمیت ملک میں دہشت گردی کے چار بڑے حملوں کی سازش ناکام بنائی،کراچی میں ایک نامور سنی عالم دین کو نشانہ بنایا گیا،اس کے بعد بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی۔وزیراعظم نے کہا ہم نے مچھ واقعہ میں قتل ہونے والوں کے لواحقین کی تمام شرائط مان لی ہیں،اس واقعہ کے فوری بعد وزیر داخلہ اور پھر دو وزراءکو کوئٹہ مظاہرین کے پاس بھیجا،انہیں یقین دہانی کروائی کہ انہیں معاوضہ دیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ حکمران اپنے رویے بدلیں اور اس مسئلے کو اولین ترجیح سمجھ کر حل کریں۔ معاوضے دینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ تحفظ دیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ علماءکرام اپنے اپنے منبر سے مذہبی دہشت گردی، فرقہ ورانہ تصادم اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کریں ۔ علماءکی بات سنی جاتی ہے ۔ علماءکے پاس منبر رسول ﷺ امانت ہے اس امانت میںخیانت نہ کی جائے۔ محبت، بھائی چارے، اور اتحاد بین المسلمین کی ترغیب دی جائے، ایسا ممبر جہاں سے مذہبی منافرت کی آواز آئے اس کے خلاف بلا امتیاز کارووائی کی جائے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ دھرنا تو ختم ہو گیا میتوں کو دفنا دیا گیا مگر ہزارہ برادری کی آنکھوں میں خوف ابھی برقرار ہے۔ ریاست اس خوف کو ختم کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.